تحارير برائے زمرہ: 'کامران اصغر کامی' ...

ہم رہیں یا نا رہیں کل

کامران اصغر کامی کو زندگی کا ایک اور سال پورا کرنے پر مبارک باد آپ نے بھی دینی ہے تو دے دیں اگلے سال کا کچھ پتا نہیں ۔

ہم تو صرف دعا گو لوگ
خاک اور مہر کا کیا سنجوک
پاس رہیں یا دور رہیں
محفل تو آباد ہے نا
آج تمھاری سالگرہ ہے
دیکھو مجھ کو یاد ہے نا

ہم رہیں یا نا رہیں یاد آئیں گے یہ پل
کل
یاد آئیں گے یہ پل
پل
یہ ہیں پیار کے پل
چل
آ میرے سنگ چل
چل
سوچے کیا چھوٹی سی ہے زندگی
کل
مل جائے تو ہو گی خوش نصیبی
ہم رہیں یا نا رہیں یاد آئیں گے پل
کل
یاد آئیں گے یہ پل
پل
یہ ہیں پیار کے پل
شام کا آنچل اوڑھ کے آئی دیکھو وہ رات سہانی
آ لکھ کے ہم دونوں مل کے اپنی یہ پریم کہانی
ہم رہیں یا نا رہیں یاد آئیں گے یہ پل
کل
آنے والی صبح جانے رنگ کیا لائے دیوانی
میری چاہت کو رکھ لینا جیسے کوئی نشانی
ہم رہیں یا نا رہیں یاد آئیں گے یہ پل
کل
یاد آئیں گے یہ پل
پل
یہ ہیں پیار کے پل

YouTube Preview Image\">">KK

لذت ” الف ” دی پائی

جب سے شاپ پر مائیکرو سافٹ اور منسٹری آف اکنامکس کا چکر لگا ہے اس دن سے لیکر آج تک میں پریشان تھا اوپر سے یو اے ای کے حالات ڈاواں ڈول ہیں رہی سہی کسر اس کے بے تکے قانون نکال رہے ہیں۔
اسی پریشانی میں کہ کام کم ہو گیا تو خرچے کہاں سے پورے ہوں گے مگر ساتھ ساتھ اللہ پر بھی پورا یقین تھا کہ وہ ہم پردیسیوں کی ضرور مدد کرے گا اور کچھ نا کچھ نیا راستہ نکل آئے گا ۔
تو آج سے پریشانی ختم ہوئی آج شاپ پر پہلا اوریجنل ونڈوز کے ساتھ نیا پی سی تیار ہوا تو دماغ کو سکون ملا کہ کچھ دیر سہی مگر آہستہ آہستہ پھر وہی رونق واپس آجائے گی جو پہلے تھی ۔
آج اوریجنل سافٹ ویر کے ساتھ اوریجنل سکون بھی محسوس ہوا کیونکہ ایک کمپنی نے ہم سے بیس اوریجنل لائیسنس کے لیے رابطہ کیا ہے اسی لیے کہتے ہیں ایک در بند تو دوسرا کھلا۔
ان تمام دوستوں کا شکریہ جنہوں نے مجھے حوصلہ دیا ۔
میرے اللہ میں کبھی تجھ سے مایوس نا ہو گا تیری دیر سویر میں حکمت ہے میں سمجھ نا پایا ۔
بابا بلھے شاہ نے کیا خوب کہا تھا ۔۔۔۔

” الف ” اللہ نال رتا دل میرا
مینوں “ب ” دی خبر نا کا ئی
” ب ” پڑھد یاں مینوں سمجھ نا آ وے
لذت ” الف ” دی آئی
” ع ” تے ” غ ” نوں سمجھ نا جاناں
گل ” الف ” سمجھائی
بلھیاء قول ” الف ” دے پورے
جیہڑے دل دی کرن صفائی

وومن ڈے

اھل اسلام اھل پاکستان اور تمام بلاگرز لیڈیز کو وومن ڈے مبارک ہو ۔

چاہے وہ

کسی کھیت میں محنت مزدوری کر رہی ہو ۔
کسی دفتر میں جاب کر رہی ہو ۔
کسی گھر میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہو ۔
کسی ظالم نامرد کا ظلم و تشدد برداشت کر رہی ہو ۔
قومی اسمبلی میں دو شادیوں کا اعلان کر رہی ہو ۔
وزیر بن کر شاہی زندگی گزار رہی ہو ۔
کسی کمپیوٹر کے آگے بیٹھی بلاگ لکھ رہی ہو ۔

بل گیٹ کے بل ڈاگ

پچھلے چند مہینوں سے پریشانیوں کا ایسا سلسلہ چلا ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتا ابھی تازہ ترین جھٹکے میں جو ہوا وہ کچھ یوں ہے ۔
ہم بھائی حسب معمول سارھے دس شاپ پر آگئے اور اپنے کل کے باقی کام نمٹانے لگے ابھی ڈیڑھ گھنٹہ گزرا تھا کہ چار لوکل عربی لباس میں ہماری شاپ میں گھس آئے اور ہم دونوں بھائیوں کو ایک طرف الگ ہونے کا کہا اور شاپ کی تلاشی شروع کردی ٹیبل پر موجود لیپ ٹاپ دیکھ کر ایک بولا یہ سب کس کے ہیں ہم نے کہا یہ سب کسٹمرز کے ہیں ۔ ۔۔اچھا ابھی ہمارے افسر آئیں گے اور آپ کی تمام چیکنگ ہو گی۔
ہم نے کہا کس چیز کی چیکنگ ؟
آپ لوگ نقلی ونڈوز اور آفس انسٹال کرتے ہیں ۔
تھوڑی دیر کے بعد ایک اور پانچ اشخاص کا گروپ شاپ میں داخل ہوا اور شاپ میں موجود سب کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کو چیک کرنے لگا ۔
یہ سلسہ ایک گھنٹے تک چلا ۔
ہمارا پرسنل اور ایک کسٹمر کا کمپیوٹر ضبط کر لیا گیا ساتھ ہی شاپ پر موجود تمام سافٹ ویر بھی لے گئے ۔
اگلے دن ہمیں ٹریڈ سینٹر میں بلایا گیا اور پانچ گھنٹے تک بحث چلتی رہی ۔
آخری اظلاع تک ابھی تک کیس دبئی جا چکا ہے اور کوئی اطلاع نہیں کبھی کہتے ہیں صرف جرمانہ ہو گا کبھی کہتے ہیں جیل ہو گی جرمانے کی حد 10000 درھم سے لیکر 50000 درھم تک ہو سکتا ہے جرمانے کی عدم ادائیگی پر ایک یا تین ماہ کی جیل ہو سکتی ہے ۔
اس دن سے لیکر آج دن تک کام دھندہ چوپٹ ہے بہت ٹینشن ہے دماغ کام نہیں کرتا
یاد رہے یہ آپریشن پورے شہر میں کیا گیا جہاں صرف گنتی کے 20 سے 25 دکانیں اس کام سے متعلق ہیں سب ہی کا کچھ نا کچھ پکڑا گیا ۔

5 لاکھ 10 لاکھ

حکومت وقت
نے عوام کی عزت پامال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑنے تہیہ کر رکھا ہے پورے ملک میں کہیں بھی کوئی ایسا واقعہ جو میڈیاء میں چھا رھا ہو حکومت کے لیے بجائے بے عزتی کے عزت بنانے کے کام آجاتا ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ اس واقعہ کے ذمہ اروں کو جلد از جلد ایسی سزا سے نوازا جائے جس سے متاثر ہونے والوں کو دلی اطمینان اور سکون میسر آئے اور یہ کام حکومت وقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزت بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو گا ۔
لیکن ہو کیا رھا ہے
بجائے انصاف مہیاء کرنے کے سوٹ بوٹ میں ملبوس حفاظتی گارڈوں کے حصار میں میڈیاء اور صحافتی سحر کی چمکتی سپاٹ لائیٹ کی روشنی میں یہ لوگ ان افراد کے جذبات مجروح کرنے چلے آتے ہیں چند منٹ کی وڈیو بنتی ہے جھوٹے دلاسے اور وعدے کیے جاتے ہیں اور آخر میں میڈیاء کے سامنے آکر عوامی خزانے سے اپنے نام کا لیبل لگا کر پانچ دس لاکھ دینے کا اعلان کیا جاتا ہے جو کسی کو ملتا ہے کسی کو نہیں اور کسی کو دے کر چھین لیا جاتا ہے ۔
میں پوچھتا ہوں
کیا ایسا کرنے سے کسی کی عزت واپس مل جائے گی؟
کسی کا غم سے بھرا دل سکون پا سکے گا؟
کسی بچھڑا ہوا پیارا واپس آجائے گا؟
نہیں میں تو ڈرتا ہوں کہیں یہ کام مدد کی بجائے فیشن ہی نا بن جاے لوگ اس کو بھی پیسے کمانے کا ذریعہ نا بنا لیں کیونکہ یہ حکومتی حربہ کامیاب ہوتا نظر آتا ہے۔
یہ نا ہو کل کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی حکومت پیسے بانٹنے شروع کردے۔ مثلا فلاں نے فلاں کے منہ پر تھپٹر مارا وزیر اعظم نے گھر جا کر معزرت کی اور 10000 کا چیک پیش کیا۔

حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ پیسہ ہر مرض کا علاج نہیں لوٹ کھسوٹ اور کمیشن سے دولت تو کمائی جا سکتی ہے لیکن اس دولت کو اس بانٹ کر عزت نہیں بنائی جا سکتی عزت بنانی ہے تو انصاف دو روٹی کپڑا اور سر پر چھت دو محنت سے روزی کمانے کے لیے ملازمت دو عزت سے جینے دو ۔۔۔۔۔نہیں تو یہ کرسی یہ ملک چھوڑ دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک طوائف بھی اپنا دھندہ چند اصولوں پر چلاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔

مستنصر حسین تارڑ

میرے پسندیدہ :۔

ہے کوئی عقد ثانی کا شوقین ؟

میرے مشاہدے میں آیا کہ عوام الناس میں ایک عجیب پرمسرت اور شادماں لہر دوڑ رہی ہے…چہرے خوشی سے تمتما رہے ہیں اور بات بے بات پر قہقہے لگائے جا رہے ہیں اور جمہوریت کی توصیف میں پل کے پل باندھے جا رہے ہیں کہ واہ صاحب یہ صرف جمہوریت ہی ہے جس کے صدقے میں دل کی بات بے دھڑک کہہ دی جاتی ہے…عوام کے دلوں میں جو امنگیں ہیں انہیں زبان مل جاتی ہے ورنہ آمریت میں تودل کی دل ہی میں رہ جاتی ہے …

البتہ میں نے یہ محسوس کیا کہ یہ جو مسرت اور شادمانی کی لہر ہے یہ صرف مرد حضرات کے چہروں پر نہ صرف دوڑ رہی ہے بلکہ سرپٹ بھاگی جا رہی ہے لیکن خواتین اس دوڑ میں ہر گز شامل نہیں ہیں حالانکہ اپنی نسیم حمید نے تو دوڑ دوڑ کر نئے ریکارڈ قائم کر دیئے ہیں اور یہ جو خواتین ہیں ان کے چہرے تو پہلے سے زیادہ غصیلے اور پر جوش ہوگئے ہیں اور ان میں میری اہلیہ محترمہ کا چہرہ بھی شامل ہے…چنانچہ یہ عقدہ مجھ سے نہ کھلا کہ آخر صرف مرد حضرات ہی کیوں دمکتے پھرتے ہیں اور جمہوریت کے گن گاتے چلے جاتے ہیں…

یہاں تک کہ صبح کی سیر کے میرے ساتھی بابا جات بھی چمکتے پھرتے ہیں کہ واہ صاحب جمہوریت کی کیا بات ہے دل خوش کردیا ہے… میں نے ایک ایسے ہی دوست بابا جی سے اس سلسلے میں مدد چاہی کہ بابا ان دنوں مرد حضرات تو خوشی سے دیوانے ہو رہے ہیں لیکن خواتین نہایت خونخوار ہوتی جاتی ہیں اس کا کیا سبب ہے تو انہوں نے مجھے ایک پرمسرت دھپ رسید کرتے ہوئے کہا…تارڑ صاحب آپ کو حالات حاضرہ کا کچھ علم نہیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے…

جناب پنجاب اسمبلی کی ایک محترمہ ممبر صاحبہ نے باقاعدہ اسمبلی میں کھڑے ہو کر یہ بیان دیا ہے کہ خواتین سرپلس ہو رہی ہیں اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ مرد حضرات فوری طور پر دوسری یا تیسری شادیاں کرلیں… یوں مسئلہ حل ہو جائے گا… بلکہ انہوں نے انتہائی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے شوہر نامدار کو بھی یہی مشورہ دیا ہے کہ بے شک آج شام سے پہلے پہلے دوسری بیوی کرلو مجھے کچھ اعتراض نہ ہوگا… تارڑ صاحب یہ سب جمہوریت کی کرامت ہے ورنہ آج تک کبھی کسی نے مردوں کے دفن شدہ جذبات کی یوں کھلے عام نمائندگی نہیں کی تھی… بھلا آپ ہی بتایئے کہ دنیا میں وہ کونسا مرد ہے جس کی باچھیں عقد ثانی کے نام پر کھل نہیں جاتیں اور دل میں لڈو نہیں پھوٹتے…میں تو آئندہ انہی خاتون کو ووٹ دوں گا چاہے یہ الیکشن میں کھڑی ہوں یا نہ ہوں…

اس دل پذیر خبر سے مجھ پر بھی ایک نہایت مسرت آمیز کیفیت طاری ہوگئی‘ میرے دل میں تو اتنے ڈھیروں لڈو پھوٹے جیسے وہاں مٹھائی کی دکان کھل گئی ہے… عقدثانی‘ دوسری شادی‘ ایک اور بیوی… ظاہر ہے موجودہ بیگم سے قدرے کم سن ہو تو بہتر ہے‘ ورنہ اس عمر کی ایک اور بیگم گھر میں لانے سے فائدہ… ذات پات کی کوئی قید نہیں‘ بے شک زیادہ خوبصورت نہ ہو‘ جہیز کامطالبہ بھی نہیں کیا جائے گا…روٹی کپڑا اور مکان مہیا کیا جائے گا‘ تعلیم یافتہ ہونا بھی ضروری نہیں کہ پہلے والی تعلیم یافتہ ہے تبھی تو ٹکا سا جواب دیتی ہے اور میری تحریروں میں غلطیوں کی نشاندہی کرتی رہتی ہے… اور ہاں یہ جو مارے خوشی کے یہ کہہ گیا کہ ذات پات کی کوئی قید نہیں تو اسے درست کر لیجئے کہ دوسری بیگم کچھ بھی ہو راجپوت نہ ہو کہ اسے تو ہم ایک عرصے سے بھگت رہے ہیں

عقد ثانی ایک ایسا منتر ہے جو ہر مردکے دل کے دروازے کھٹاک سے کھول دیتا ہے‘ دوسری شادی مرد کے کانوں میں رس گھولتی اس کی روح کو سرشار کردیتی ہے ایک اور بیوی کا تصور ایسا ہے کہ ہر جانب غنچے کھلنے لگتے ہیں صحرا میں بہار آجاتی ہے اورہولے سے باد نسیم چلنے لگتی ہے…ہندوؤں کے کسی وید میں درج ہے کہ اگر کوئی مرد جو بہت بوڑھا ہو اور اتنا بیمار ہو کہ اس کے بچنے کی کوئی امیدنہ ہو‘ کوئی دوا اثر نہ کرے کوئی دعا قبول نہ ہو اور وہ آخری سانسوں پر آجائے تو ایک نوجوان کنیا لے آیئے اور وہ جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کرے کہ… میں تمہارے لئے ہوں… مجھے پکڑ لو… اگر تو اس قریب المرگ بابا جی میں کچھ سکت ہوگی تو وہ فوراً چھلانگ مار کر اٹھ بیٹھیں گے اور کنیا کو اپنی جان کے لالے پڑ جائیں گے اور ان کی جان بچ جائے گی… اور اگر بابا جی اس پیشکش پر بھی نہ اٹھیں تو سمجھ لیجئے کہ وہ پرلوک سدھار چکے ہیں…

دراصل ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی ہندو ثقافت کے غلام ہیں کہ ان کے ہاں دوسری شادی کو پاپ سمجھا جاتا ہے جب کہ اپنے برادر مسلم ملکوں کی جانب نگاہ کیجئے کہ وہاں دو تین بیویاں تو معمول کی بات ہیں یعنی اگر پلے میں مال پانی ہو تو…بلکہ وہ ہم پاکستانیوں پر اکثر ترس کھا کر کہتے ہیں کہ اچھا تو آپ کی صرف ایک بیوی ہے… ہائے ہائے آپ تو مسکین ہیں‘ آپ پر ترس آتا ہے…

جدہ کے ایک کمپاؤنڈ میں ایک موٹے تازے صاحب سے ملاقات ہوئی جن کی پتلون ان کی توند سے مسلسل کسک جاتی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ وہ ائیر فورس میں ہیں‘ ہر ہفتے کہیں غائب ہو جاتے تھے اور دو ہفتوں کے بعد نمودار ہوتے تھے… میں نے پوچھا تو کہنے لگے اپنی دوسری بیوی کے پاس بیروت گیا تھا

میں نے رشک کے مارے لوٹ پوٹ ہوتے کہاکہ سبحان اللہ آپ کی دو بیویاں ہیں تو کہنے لگے نہیں تین ہیں‘ تیسری میری خالہ زاد ہے گاؤں میں رہتی ہے … بلکہ انہی دنوں ایک دلچسپ خبر شائع ہوئی کہ سعودی عرب میں اکٹھی تین خواتین نے بیک وقت ایک وین ڈرائیور سے شادی کرلی… ان کا کہنا تھا کہ یہاں عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں اور نامحرم کے ساتھ بھی نہیں بیٹھ سکتیں چنانچہ ہم نے اس وین ڈرائیور سے اس لئے شادی کرلی کہ یہ ہمیں روزانہ اس سکول میں چھوڑ آیا کرے گا جہاں ہم تینوں کام کرتی ہیں…

قصہ مختصر جب میرے دوست بابا جی نے مجھے پنجاب اسمبلی کی رکن خاتون کا یہ بیان سنایا کہ مردوں کو دو دو شادیاں کرنی چاہئیں تو میں دل ہی دل میں عقد ثانی کی منصوبہ بندی کرتے نہایت مسرت آمیز کیفیت میں گھر پہنچا اور بیگم کو ان کے روح پرور بیان سے آگاہ کرکے دوسری شادی کے لئے یو نہی سرسری سی آمادگی ظاہر کی‘ اس کے بعد چراغوں میں توکیا سرچ لائٹوں میں بھی روشنی نہ رہی بیگم جو ماشاء اللہ نماز روزے کی پابند ہیں یکدم راجپوت ہو کر پرتھوی راج چوہان کی مانند گویا تلوار سونت کر کھڑی ہوگئیں…

میرے ساتھ جو ہوا اس کی تو خیر ہے وہ تو ہوتا ہی رہتا ہے لیکن انہوں نے پنجاب اسمبلی کی رکن خاتون کی شان میں بھی گستاخیاں کیں اور ان میں چڑیل جیسے غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کئے کہ پہلے تو اپنے میاں کی دوسری شادی اپنے ہاتھوں سے کرے اور سوکن کو ہار پہنا کر اپنے گھر لائے اور پھر دوسروں کے خاوندوں کو یہ پٹی پڑھائے… میں نے اسے خبردار کیا کہ ایسی زبان استعمال کرنے سے اس خاتون ممبر کا وہ مجروح ہو جائے گا جسے استحقاق کہتے ہیں لیکن اس نیک بخت نے پھر بھی مزید گستاخیاں کیں… میں اس اسمبلی ممبر خاتون سے جس نے نیک نیتی سے مشورہ دیا تھا صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یا تو اسمبلی میں جو کچھ بیان دیں اسے قانونی شکل دے کر اس پر زبردستی عمل کرائیں ورنہ ایسے خالی خولی بیان دے کر ہمارے دل میں پھوٹنے والے لڈؤں کی فیکٹری لگا کر فوراً ہی ہمیں بیویوں کے ہاتھوں زدوکوب نہ کروائیں…اور ہاں آئندہ کسی محفل میں میری بیگم کے سامنے آنے سے گریز کیجئے گا یہ آپ کے بھلے کی بات کہتاہوں۔

Dated : 2010-02-25 00:00:00

ووٹ کاسٹنے کا اصلی طریقہ

ہم پاکستانی ہیں ہر جوڑ کا توڑ نکالنے والے اپنی بیوی چاہے گھر سے بھاگ گئی ہو مگر بازار میں بورڈ لگا کر بیٹھے ہوتے ہیں محبوب قدموں میں محبوبہ چھاتی پر ۔۔۔ پسند کی شادی ۔۔۔ من چاھا رشتہ ایک ہی تعویز سے حاصل کریں ۔
نہیں نہیں میں کوئی بورڈ والا نہیں ہوں مجھے تو ایک بہن نے بڑی دور سے للکارا ہے جیسے انہوں نے مجھے کہا ہے کم از کم مجھے تو ایسا ہی لگا تھا ۔
تو میرے مسلمان بھائیوں بہنوں آپ سے درخواست ہے بلکہ گزارش ہے کہ رج کے ووٹ کاسٹو نہیں تو یاد رکھو روز رزلٹ خدا نا خواسطہ بچیاں ھار گئیں تو مردوں کا گریبان اور لیڈیز کے بال ہوں گے چاہے ایک ہاتھ لمبے ہی کیوں نا ہوں ۔
میرے بھائیوں اور بہنوں محمد بن قاسم ایک آواز پر کہاں سے کہاں پہنچ گیا تھا اور آپ اپنے گھر آرام سے بیٹھ کر بھی ووٹ نہیں کاسٹ سکتے لیڈیذ کے لیے تو نہیں کیونکہ ان میں آل ریڈی شرم موجود ہوتی ہے لیکن مرد حضرات کے لیے شرم کی بات ہے ۔
ووٹ کاسٹنے کا طریقہ ۔۔۔۔
مندرجہ ذیل لنکز میں سے کسی پر پہلے کلک کریں ۔۔
http://casting.kiabi.com/casting/?id=377413
یہاں۔۔۔۔۔ ایک پیاری سی بچی جس کا نام حفضہ ہے اورنج کلر کی شلوار قمیض پہنی ہوئی ہے ماں کا نام اسماء بتاتی ہے والد کا ذکر کرتے ڈرتی ہے عمر پانچ سے سات سال ہے سر کے بال لمبے اور پیارے ہیں رنگ گورا ہاتھ میں اورنج پکڑے کھڑی نظر آئے گی ۔
http://casting.kiabi.com/casting/?id=378290
یہاں۔۔۔۔۔ ایک دوسری پیاری سی بچی جس کا نام طیبہ ہے گرے گلر کے کپڑے پہنے سامنے اورنج کیک رکھے ہاتھ میں بڑی سی چھری لیے لال رنگ کی چادر پر بیٹھی یقینا ابو کا انتظار کررہی ہے سر کے بال لمبے اور پیارے ہیں رنگ گورا ہے ۔
اچھا جی دیکھ لیا حفضہ اور طیبہ کو اب کرنا کیا ہے ۔۔
کسی ایک لنک پر جائیں
1۔پہلے خانے میں کوئی سا بھی ایک ای میل ایڈریس ایڈ کریں۔
2۔دوسرے خانے میں اپنی جنس کا بتائیں کہ آپ ہی ہیں شی ہیں یا ۔۔۔کون ہیں
3۔اپنا نام
4۔اپنا نیک نیم جیسے اشرف عرف اچھو جاوید عرف جیدا لیاقت عرف لیاکی
5۔اس خانے میں وہ تاریخ رقم کریں جو مطلب تاریخ پیدائیش رقم کریں خواتین گھبرائیں نہیں اصلی بتانے کی ضرورت نہیں 2 نمبر بھی چلے گی چاہے دو سال ہی لکھ دیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
6۔اس خانے میں وہ کلر نمبر ڈالیں جو آپکو نظر آرہے ہیں ۔
7۔ جی ہاں ساتواں اور آخری کام ووٹیز والا بٹن پریس کر دیں ۔
ٹوٹکے ۔۔۔
ایمیل ایڈریس جیسے mkaimik@gmail.com میرا ایڈریس ہے اس سے میں نے ایک ووٹ کاسٹا کیا پھر دوبارہ جا کر لنک پر کلک کیا تو میرا سب ڈیٹا موجود تھا اب میں نے اپنے ایمیل ایڈریس میں تھوڑی سی تبدیلی کی جیسے mkamik1@gmail.com اس میں صرف نمبر 1 کا اضافہ کیا ہے اور بدلے ہوئے کلر کوڈ ڈال کر دوسرا ووٹ کاسٹ کیا اسی طرح اگلی بار 1 کی جگہ 2 لگا دیں بس نمبر بدلتے جائیں ووٹ دیتے جائیں ۔
تو
میرے بہنوں اور میری بھائیوں اسی طرح آپ بھی ہر بچی کو پانچ پانچ لاکھ ووٹ ایسے کاسٹ کر سکتے ہیں جیسے ہماری حکومت ہر غلط کام پر پانچ لاکھ تقسیم کرتی ہے مگر یہ تو حکومتی کام نہیں ہمارا اپنا کام ہے ہمارے بچے ہیں انشااللہ یہی جیتیں گے تو ہو جاو شروع پاکستانی طریقے سے ووٹ ڈالنے ۔(:
باجی اسماء خوش ہوئیں ۔۔۔۔۔
باجی اسماء ساباس ہی دیں گئیں ۔۔۔۔

نیا میکس تھون

اگر آپ موڈ بنا کر بیٹھے ہیں کہ آج جی بھر کر چیٹنگ اور براوزنگ کروں گا مگر فائر فاکس ، ایکسپلورر سات سمیت کوئی بھی براوزر آپ کا ساتھ نہیں دے رھا تو گھبرائیں نہیں دنیا میں اور بھی براوزرز ہیں ایکسپلورر کے سوا جی ہاں میں بات کر رھا ہوں ” میکس تھون ” انٹر نیٹ براوزر کی جو آپ کی خواہشات پر پورا اترے گا ۔
میکس تھون ایک فری ایکسپلورر ہے اور اسے میکس تھون انٹر نیشنل نے بنایا ہے تاکہ براوزنگ کی دنیا میں کچھ نیا لایا جائے ۔میکس تھون کمپنی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کمیونٹی بھی ہے جس کے سٹاف ممبران اپنے فالتو ٹائم میں سے کچھ وقت اس کام کو فری دیتے ہیں تاکہ ذیادہ سے ذیادہ لوگوں کا بھلا ہو سکے ۔
میکس تھون ایک ایوارڈ یافتہ کمپنی ہے یہ 2003 سے اب تک مختلف ایوارڈ جیت چکی ہے۔
آپ اس لنک سے بہت جلد اور ایزی ڈاونلوڈنگ کر سکتے ہیں ۔

 http://www.maxthon.com/download.htm

فیس بک کے رسیے اس سے بہت خوش ہونگے کیونکہ اگر آپ اس میں موجود فیس بک اکاونٹ اوپن کریں گے تو یہ فیس بک کی اپ ڈیٹس بھی بتائے گا ۔
اسکے علاوہ سارے ای میل اکاونٹ بھی آپ چیک کر سکتے ہیں ۔
اسکے علاوہ بہت کچھ ہے بھائی اس میں وزٹ تو کرو۔
مجھے تو یہ بہت پسند آیا ہے کیونکہ یہ پوسٹ میں نے اسی براوزر میں ورڈپریس اوپن کر کے لکھی ہے ۔ یہ یونی کوڈ 8 کو سپورٹ کرتا ہے ۔
اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو فانٹ موجود ہیں تو بے فکر اردو پڑھیں اور لکھیں۔
اردو سائیٹ جیسے جنگ بی بی سی اردو اور ای پیپرز کا رزلٹ بھی شاندار ہے ۔
اسکے علاوہ کسی کو نئی چیز نطر آئے تو ضرور شئیر کرے ۔
کیوں عمر بھیاء ٹینشن خلاص ہوئی کہ نہیں ۔

بلاگی دھشت گردی ؟

میں اپنے آپ کو اس بلاگستان کا سب سے کرخت بلاگر سمجھتا تھا اسی وجہ سے لیڈیز بلاگر میرے بلاگ سے دور بھاگتی ہیں مگر اب مجھے اندازہ ہوا ہے کہ میں اتنا برا نہیں جتنا مجھے سمجھا جارھا ہے مجھ سے بڑھ کر بھی کوئی ہے میں بات کرنا چاھ رھا ہوں ان کمنٹس کی جو شاہدہ آپی کے بلاگ پر کیے گے۔
آجکل بلاگ پر بہت ہی غلط قسم کے لوگوں کا آنا جانا ذیادہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے غلط اور بے ہودہ قسم کے تبصرے ذیادہ کیے جا رہے ہیں ۔ ویسے تو جیسی تربیت ہو گی ویسی ہی سوچ ہو گی مگر تبصرہ کرنے سے پہلے کم از کم یہ تو دیکھ اور پڑھ لینا چاہیے کہ کس کے بلاگ پر تبصرہ کر رھا ہوں اور کیا لکھ رھا ہوں ۔
شاہدہ آپی کے بلاگ پر ہونے والے تبصرے میں نے پڑھے تو نہیں مگر تانیہ بہن کے بلاگ پر ایسے تبصرے میری نظر سے گزرے تھے جہاں تانیہ بہن نے شاہدہ آپی کی طرح پورے صبر اور تحمل کے ساتھ کام لیتے ہوئے نا صرف ان تبصروں کو پبلش کیا بلکہ انکا بھر پور جواب بھی دیا ۔
کسی لیڈیز یا جینٹس بلاگ پر ہر شخص اپنی رائے دے سکتا ہے مگر اس قسم کی حرکت کرنے والا اپنا تو نقصان کرے گا ساتھ ساتھ اپنے ماں باپ کی عزت کا جنازہ بھی نکالے گا اللہ تعالی ہر ماں باپ کو ایسی اولاد سے بچائے جو انکی عزت کا دشمن بن جائے ۔
آپ سب حضرات کی خدمت میں خصوصاٌ اردو بلاگ کی انتظامیہ کے گوش گزار کروں گا کہ وہ کوئی ایسی صلاحیت پیدا کریں کہ جس سے نامعلوم لوگ کسی بھی بلاگ پر تبصرہ نہ کر سکیں جب تک کہ وہ ای میل ایڈریس اردو بلاگز پر رجسٹر نہ ہو جائے ۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے ۔
یہ آپ اور میرے لیے چیلنج ہے کہ اپنی ماں بہنوں جیسی ہستیوں کو ان گٹر کی گندگی جیسے لوگوں سے محفوظ کریں ۔
شکریہ کامی

کھٹی املی

پڑھنے سے پہلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر سمجھ نہ آنے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں تمام کنفیوز تحریریں لیڈیز اور ستر سال کے بزرگوں سے دور رکھیں کسی بھی صورت نہ رکنے پر ادارہ ذمہ دار نہ ہو گا۔
نوٹ:۔ یہ پڑھنے کے بعد ” وہ ” عورتیں جو خود کو مظلوم سمجھتی ہیں یقیناٌ خود کو برتر اور اعلی قابل احترام سمجھیں گئیں ۔واللہ علم

یارو آجکل عورت ذات کو پھر اپنے مظلوم ہونے کا احساس ہوا ہے۔
اگر عورت ان پڑھ ہے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہے تو مانا جا سکتا ہے کہ عورت مظلوم ہے
مگر حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ اچھی خاصی پڑھی لکھی سمجھ دار عورتوں نے بھی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ عورت مظلوم ہے ۔
حیرت ہے ۔۔۔
عورت جس کو اللہ نے ایک آدم سے ہی پیدا کیا سوری کوئی اسلامی دلیل نہیں دینا چاہتا ۔
میں ان سے پوچھتا ہوں کہ عورت کن وجوھات کی بنا پر عورت کو مظلوم اور ستم ذدہ اور مرد کو فرعون اور ظالم قرار دیتیں ہیں ۔
کیا مرد عورت کو دیکھ نہیں سکتا اگر دیکھنے پر پابندی ہے تو ہزاروں کا میک اپ کیوں کروایا جاتا ہے بازاروں میں فل تیار ہو کر کیوں نکلا جاتا ہے ۔
اگر کسی دوسرے ملک میں ہوں تو انہیں اور کوئی نہیں دیکھتا بس پاکستانی ہی دیکھتے ہیں ظاہر ہے ان لوگوں کو کیا معلوم عورت کیا چیز ہے سوائے حرص مٹانے والی مخلوق کے اسی لیے وہاں عورت اور مرد کا فرق ختم ہے خاندانی سسٹم نہیں بچے شرائط پر پیدا کیے جاتے ہیں اور پھر جوان ہونے پر انکو اسی سلسلے سے جوڑ دیا جاتا ہے جہاں انکے نام نہاد ماں باپ نے شروع کیا تھا۔کو پتا نہیں کون کس کا بیٹا اور کس کی بیٹی ہے۔
اگر کوئی مرد کسی عورت پر ہاتھ اٹھاتا ہے تو کوئی وجہ ہو گی کو ئی گھریلو مسلہ ہو سکتا ہے مسلے کو پسے پشت ڈال کر عورت کو مظلوم قرار دے دینا درست نہیں اصل وجہ وہ مسلہ ہے اس کو درست کرنے کی ضرورت ہے ۔
دوسری بات عورت کو مردوں جیسے حقوق حاصل نہیں ان کو دبایا جاتا ہے اور آگے بڑھنے سے روکا جاتا ہے یہ بھی غلط ہے۔
آج پاکستانی عورت
وزیر اعظم بنتی ہے مگر عورت پھر بھی مظلوم ہی رہی
سپیکر قومی اسمبلی ہے ویسے لگتا ہے جیسے کوئی شادی اٹینڈ کر رہی ہیں
ممبر قومی اسمبلی ہے جہاں چلا چلا کر اپنا غصہ اتارتی ہے
ممبر پنجاب اسملبی ہے جس کا فائدہ اٹھا کر کریڈڈ کارڈ چراتی ہے
بہترین ایکٹرس ہے ویسے ایکٹر تو ہر عورت ہی ہوتی ہے
بہترین رائیٹر
بہترین بلاگر جیسے انیقہ اسماء اور سعدیہ
اعلیٰ سپیشلسٹ ڈاکٹر ہیں
اعلی قسم کی اینکر پرسن ہیں جیسے عتیقہ اوڈھو وغیرہ دل خوش ہو جاتا ہے ۔
بہترین استاد ہے چاہے گھر میں ہو یا کسی مدرسے میں صرف بچوں کی۔
پائیلٹ ہیں اور جہاز اڑاتیں ہیں ۔
یہ مظلومیت صرف ان پڑھ عورتوں کے قصے ہیں۔
مگر مجھے لگتا ہے جو کچھ پاکستانی عورت کے بارے لکھا جارھا ہے وہ کسی دیہاتی عورت کا گھریلو قصہ ہے جو لوگوں کی کمیٹیاں کھا جاتی ہے اور چرچا نہیں ہوتا۔
میری پاکستانی عورتوں سے گزارش ہے کہ خدا راہ جو عزت آپ کو بخشی گئی ہے اس کا پرچار کریں نہ کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے اپنے آپ کو مظلوم کہلوانا ۔۔
نہی ہے کوئی چیز نکمی زمانے میں
کیسی اداسی چھائی ہے زنان خانے میں

بیتے دن

بیتے دنوں کو سوچتا ہوں تو غم کے بادل چھا جاتے ہیں
یادوں کی بجلیاں کڑکنے لگتی ہیں
اور
آنکھوں سے غم کی برسات شروع ہو جاتی ہے
بیتے دنوں کو سوچتا ہوں تو
بھری دنیا میں خود کو تنہاء پاتا ہوں
دماغ سن ہوجاتا ہے
دل دھڑکنا بند کر دیتا ہے
بیتے دنوں کو سوچتا ہوں تو
قہقہے سرگوشیاں وہ معصوم مسکراہٹیں
مجھ سے ٹکرا کر واپس گم ہو جاتے ہیں
بیتے دنوں کو سوچتا ہوں تو
وہ خوبصورت جگہ جہاں کبھی خوشی تھی جوش تھا جذبے تھے محبت تھی خواہشیں تھیں وعدے تھے
وہ خوبصورت جگہ آج ویران ہے سنسان ہے
بیتے دنوں کو سوچتا ہوں تو
یہ زندگی ایک خواب سی لگتی ہے
ایک خواب جو ایک دن ٹوٹ جائے گا
خواب تو ہوتے ہی ٹوٹنے کے لیے ہیں
پھر خوابوں سے پیار کیوں امید کیوں
کاش میں یہ بیتے دن اپنی زندگی سے نکال سکتا
مگر یہ روح کی طرح مجھ میں سما چکے ہیں

بے روز گا ر نوجوانوں

مستنصر حسین تارڑ

میرے پسندیدہ :۔

ٹیلی ویژن میزبانی کے رہنما اصول

جیسے یکدم کوئی فیشن چل نکلتا ہے….ہر نوجوان ایم بی اے کرنے لگتا ہے…. ہر لڑکی ڈھیلے ڈھالے پاجامے پہننے لگتی ہے اور پاگل لگتی ہے…. ہر بوڑھا دوسری شادی کرنے کے بارے میں سوچنے لگتا ہے، بالکل ایسے ہی ان دنوں ٹیلی ویژن میزبان بن جانے کا رواج نہایت پاپولر ہو گیا ہے…. ایک صاحب کا کہنا ہے کہ سوائے میرے سبزی والے اللہ رکھا کے اور دودھ والے دین پناہ کے ہر شخص ٹیلی ویژن پر میزبانی کے فرائض سرانجام دینے لگا ہے….

کوئی دن جاتا ہے جب اللہ رکھا اور دین پناہ بھی کسی کُکنگ شو کی میزبانی کر رہے ہوں گے….چونکہ میڈیا پر میزبانی سے میرا بھی جائز تعلق رہا ہے اس لئے آئے دن میزبان بننے کے شائق نوجوان اور لڑکیاں مجھ سے رابطہ کرتے رہتے ہیں تا کہ اس سلسلے میں ان کی کچھ رہنمائی کروں اور انہیں میزبانی کے رموز اور خفیہ نسخے بتا کر ان کا مستقبل درخشاں کردوں…. چونکہ فرداً فرداً ہر ایک شائق کے ساتھ سر کھپانے کیلئے نہ میرے پاس وقت ہے اور نہ اتنا بڑا سر کہ اسے کھپاتا چلا جاؤں اس لئے میں نے مناسب جانا کہ اس کالم میں ٹیلی ویژن پر میزبانی کے کچھ رہنما اصول درج کردوں تاکہ دو چار کا نہیں بہتوں کا بھلا ہو جائے۔

پچھلے زمانوں میں ٹیلی ویژن میزبان ایک ہی قسم کا ہوا کرتا تھا…. خالص اردو اور پنجابی میں بات کرتا تھا، انگریزی کو پاس نہیں پھٹکنے دیتا تھا کہ اس کی انگریزی صرف ” گڈبائے اور بائے بائے ” تک محدود ہوتی تھی…. موقع ہو نہ ہو اپنی تقریر دل پذیر میں شعر ٹانکتا جاتا تھا…. مہمانوں کی عزت کرتا تھا اور پورے پروگرام کے دوران وہ ایک ناراض ریچھ کی مانند نظر آتا تھا قطعی طور پر مسکراتا نہ تھا اور ایک افلاطون کی مانند باتیں کرتا تھا…. یہی میزبان مختلف شوز کی میزبانی کرتا تھا….

سائنس، موسیقی ، زراعت وغیرہ کے شوز کے علاوہ میلہ مویشیاں کی میزبانی بھی سہولت سے کرلیتا تھا….لیکن موجودہ دور میں صورت حال یکسر بدل چکی ہے…. ان دنوں ٹیلی ویژن میزبانوں کی متعدد اقسام رائج ہیں…. ان میں سرفہرست تو حالات حاضرہ کے پروگراموں کے میزبان ہیں…. انہیں آپ سیاسی میزبان کہہ سکتے ہیں…. عام طور پر ناکام صحافی ایسی میزبانی کیلئے نہایت موزوں ہوتے ہیں اور وہ اپنی صحافتی ناکامی کے بدلے گن گن کر اپنے شو میں آئے ہوئے سیاست دانوں سے لیتے ہیں…. اس نوعیت کی میزبانی کا سنہری اصول یہ ہے کہ آپ برسراقتدار پارٹی اور اپوزیشن کی پارٹیوں کے ارکان کو اپنے سامنے بٹھالیں اور ان سے صرف پوچھیں کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں….

آپ کا سوال ابھی ختم نہیں ہوگا کہ وہ مشترکہ طور پر غُل مچانے لگیں گے…. اپنی اپنی پارٹیوں کے حق میں دلائل کی بوچھاڑ کر دیں گے…. اور جب آپ انہیں صبر کی تلقین کریں گے تو وہ مزید سیخ پا ہو جائیں گے کہ میزبان صاحب آپ ہمیں اپنا نکتہ نظر بیان کرنے دیں…. میاں صاحب نے فرما دیا ہے….زرداری صاحب نے تو اعلان کر دیا ہے…. الطاف بھائی تو شروع دن سے کہتے چلے آئے ہیں…. اس دوران وہ آپ کی موجودگی بھول کر براہ راست ایک دوسرے سے مخاطب ہو جائیں گے اور ایک دوسرے کو بازاری عورتوں کی مانند طعنے دینے لگیں گے…. بلکہ یہاں تک کہہ دیں گے کہ چلو چلو میں تمہاری طرح کوٹھے سے اتر کر یا بیڈ روم کے راستے تو اقتدار میں نہیں آئی بے شک بعد میں وزیر اعظم معذرت کرتے پھریں….

یہ وہ لمحہ ہے جب آپ نے اپنی کرسی سے ٹیک لگا کر آرام سے بیٹھ جانا ہے، آپ نے چپ بیٹھے رہنا ہے، صرف کبھی کبھار اپنی عینک درست کرنی ہے اور ہاں ایک بیوقوفانہ سی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے رکھنا ہے…. آپ کے مہمان پورے پروگرام میں شور مچاتے رہیں گے، ایک دوسرے کے لتے لیتے رہیں گے اور اگر ان میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے تو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہیں گے…. اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کا پروگرام مزید ہنگامہ خیز ہو تو پروگرام کے آغاز سے پیشتر مہمانوں کی میز پر دوتین ایش ٹرے اور ایک دو گلدان بھی رکھ دیں…. تا کہ جب وہ طیش میں آجائیں تو جمہوری روایات کی پاسداری کرتے ہوئے یہ ایش ٹرے اور گلدان ایک دوسرے کی جانب اچھالتے جائیں

یعنی ایک دوسرے کے ” کھنے ” کھول دیں۔ جب پروگرام اختتام کو پہنچے تو آپ نے نہایت دکھ بھری شکل بنا کر کیمرے کی جانب دیکھتے ہوئے محب الوطنی اور قومی سلامتی کے حوالے سے ایک رقت آمیز تقریر کرنی ہے اور کہنا ہے کہ خواتین و حضرات کون کہتا ہے کہ ہم ایک زندہ قوم نہیں ہیں…. اپنے وطن کیلئے قربانی نہیں دے سکتے…. آج کے پروگرام میں ثابت ہو گیا ہے کہ ہمارے لیڈران کتنے پرجوش اور جذباتی ہیں…. یہ اپنے وطن کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں…. فی الحال مجھے اجازت دیجئے کیونکہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے کم از کم دو مہمانوں کو فرسٹ ایڈ کی ضرورت ہے، ان کی مرہم پٹی کروانے کیلئے مجھے ہسپتال بھی جانا ہے….خدا حافظ اور پاکستان زندہ باد….

ٹیلی ویژن میزبانوں کی دوسری قسم وہ ہے جس میں باورچی خانے کے سیٹ پر ایک صاحب اپنے قد سے دوگنا ایک سفید ٹوپ سا پہنے ہوئے بار بار سامنے رکھی خالی ہانڈیوں میں جھانکتے ہیں اور کہتے ہیں….واہ کیا کھانا ہے…. بس دو منٹ کے بعد تیار ہو جائے گا….یا پھر کوئی صاحبہ ہوتی ہے اور انہوں نے سر پر ریلوے کی قلی حضرات کی مانند ایک پگڑی سی باندھی ہوتی ہے اور وہ آپ کو آلو چھیلنے کے گرُ بتا رہی ہوتی ہیں….انہیں باورچی میزبان کہا جاتا ہے…. ایسی میزبانی کیلئے بھی کسی خاص تجربے یا صلاحیت کی ضرورت نہیں ہوتی….

بہت سے لوگ یہ گتھی سلجھانے میں ناکام رہے ہیں کہ بنیادی طور پر کھانا پکانا تو خواتین کا شعبہ ہے لیکن دنیا بھر میں جتنے بھی ہنرمند اور مشہور باورچی ہیں وہ سب کے سب مرد ہیں…. تو ایسا کیوں ہے…. اس کی ایک آسان سی وجہ ہے…. یہ وہ مرد ہوتے ہیں جن کی بیویاں انہیں ساری عمر بدمزہ اور جلی ہوئی خوراکیں کھلاتی ہیں چنانچہ وہ اتنے تنگ آتے ہیں کہ خود ہی کھانے پکانے لگتے ہیں…. اگر آپ ایک ایسے مرد ہیں جس کی بیوی نے ہمیشہ اسے بدذائقہ اور بیہودہ کھانے کھلائے ہیں تو آپ آسانی سے ایک میزبان باورچی بن سکتے ہیں….یوں پاکستان کا ہر مرد اس میزبانی کیلئے کوالی فائی کر جاتا ہے…. آپ نے پروگرام کے آغاز میں کسی اوٹ پٹانگ سی ڈش کا نام لینا ہے کہ جناب آج ہم یہ پکائیں گے….

مثلاً پاسٹا پوٹیٹو پاٹ لک…. پنیر پکوڑہ مکوزہ اٹالیانو ، گولاش گول گپ شپ، فش ٹائیں ٹائیں فش وغیرہ….اور پھر جو بھی الا بلا میز پر سجا ہو اسے دیگچیوں میں ڈال کر ان میں ڈوئی چلانے لگیں اور بار بار سُونگھ کر سر ہلائیں، پروگرام کو چٹخارے دار بنانے کیلئے کسی نخرے دار دوشیزہ کو کہیں کہ وہ ادھر ادھر مٹک مٹک کر چلتی پھرے یوں ناظرین اسے دیکھتے رہیں گے اور آپ من مانی کر سکیں گے (کھانے کے ساتھ) ڈش تیار ہو جائے تو اسے ایک پلیٹ میں انڈیل کر پھر سونگھیں اور آنکھیں بند کر کے سر ہلائیں کہ واہ کیا ڈش ہے لیکن اسے چکھنے سے اجتناب کریں اور اگر بہت ضروری ہو تو اُس باورچی خانے میں مٹکتی دوشیزہ کو ایک لقمہ کھلا دیں

اگر لقمہ حلق سے اترتے ہی دوشیزہ کا دم باہر آجائے اور وہ دھڑام سے فرش پر گر جائے تو فوری طور پر پروگرام کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہیں…. ناظرین غالباً مس شرمیلی ذائقے کی شدت کی وجہ سے بے ہوش ہو گئی ہیں…. میں انہیں ابھی لخلخہ سنگھاتا ہوں….اگلے پروگرام تک کیلئے خدا خافظ…. نوٹ : اگر لخلخہ میسر نہ ہو تو کچھ بھی سنگھا دیں….دوشیزہ ہوش میں آجائے گی (جاری ہے) اگر آپ فرمائیش کریں گے

مستنصر حسین تارڑ

میرے پسندیدہ :۔

زندگی کی پہلی تنہا عید مبارک

بے شک آپ کو کچھ حساب نہ ہو کہ کتنے روزے گزر چکے ہیں اور کتنے باقی رہ گئے ہیں لیکن اس کے باوجود آپ اپنے اردگرد ظاہر ہوتی ایسی علامتیں دیکھتے ہیں جن سے آپ جان جاتے ہیں کہ عید قریب ہے وہ خاکروب جوپچھلے ایک برس سے آپ کو نظر نہیں آیا وہ یکدم ظاہر ہو کر سڑک پر جھاڑو دینے لگتا ہے اور جونہی آپ قریب سے گزرتے ہیں تو وہ خوب دھول اڑا کر اپنی موجودگی کا ثبوت دیتاہے اور کہتا ہے ’’ سلام صاحب‘‘ وہ ڈاکیہ جس سے آپ کی ملاقات کم ہی ہوتی ہے وہ چاہے ایک بل لے کر آئے ‘ دروازے پر دستک دے کر اسے نہایت احترام سے آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے پوچھتا ہے‘ صاحب جی روزے کیسے چل رہے ہیں؟

گھریلو ملازم نہایت اہتمام سے گھر کی صفائی پر جت جاتے ہیں ایک ایش ٹرے کی نمائش کرتے ہوئے کہتے ہیں’’ لوجی میں نے چمکا چمکا کر اسے لش پش کر دیا ہے۔ خواجہ سرا آنے جانے لگتے ہیں‘ اور آپ روزانہ بینک جانے لگتے ہیں کہ جتنے پیسے نکلواتے ہیں وہ اس روز خرچ ہو جاتے ہیں چھوٹے بچے جو عام طورپر بہت بدتمیز ہوتے ہیں وہ آپ سے نہایت اخلاق سے پیش آنے لگتے ہیں… ان سب علامات سے ظاہر ہے کہ عید قریب آرہی ہے۔ پورے برس میں آپ کسی بھی دن حتمی طور پر نہیں جانتے کہ آج کیا ہوگا لیکن دونوں عیدوں پر آپ خوب جانتے ہیں کہ آج کیاہوگا…

عید کی سکرپٹ میں کوئی ردوبدل نہیں ہوتا‘ یہ وہ ڈرامہ ہے جس کے ہرمنظر سے آپ پہلے سے آگاہ ہوتے ہیں… اس کا آغاز ظاہر ہے عیدکی نماز کی ادائیگی سے ہوتا ہے‘ پھر آپ قبرستان جاتے ہیں‘ بزرگوں کی قبروں پر پھول چڑھا کر ذرا آبدیدہ ہو کر فاتحہ پڑھتے ہیں اور پھر گھر لوٹنے کے بعد دیگر مناظر شروع ہو جاتے ہیں یعنی وہی خوراک کی تیاری اور پھر عزیزوں اور دوستوں کا آناجانا وہ آپ کو اتنی مہلت نہیں دیتے کہ آپ ان کے ہاں چلے جائیں‘ وہ خود چلے آتے ہیں اور گئی رات تک چلے آتے ہیں…گھر کی گھنٹی مسلسل بجتی چلی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ٹیلی فون کی گھنٹی بھی شامل ہو کر عید کی سمفنی بجانے لگتی ہے۔

لیکن میری زندگی کی یہ پہلی عید ہے جو بقیہ تمام عیدوں سے یکسر مختلف ہے…یہ عید کی سکرپٹ کے مطابق بالکل نہیں ہے اورمجھے کچھ پتہ نہیں کہ عید کے روز کیا ہوگا اوراس کا سبب یہ ہے کہ میرے تینوں بچے محض اتفاق ہے کہ نیویارک اور اسکے آس پاس ہیں اور ان کی والدہ جو رشتے میں میری بیوی لگتی ہیں وہ بھی انہی کے پاس ہے…یوں یہ عید میں تنہا بسر کروں گا لیکن یہ مت قیاس کیجئے کہ میں اس تنہائی اوررجدائی سے رنجیدہ اوراداس ہو رہا ہوں ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ میں اس منفرد تجربے میں سے گزرنا چاہتا ہوں کہ دیکھتے ہیں ایک تنہا عید کیسی ہوتی ہے… اور میں رنجیدہ اس لئے نہیں ہوں کہ مجھ میں ایک اطمینان اور تسلی ہے کہ میرے بچے ماشاء اللہ جہاں بھی ہیں صحت مند ہیں اور اپنی زندگی سے خوش ہیں… اور ان کی جانب سے اللہ کرے کہ ہمیشہ ایسا ہی رہے کہ مجھے اچھی خبریں ملتی رہیں

میں عید کے روز ان کی تصویریں دیکھ کر اور ٹیلی فون پر ان کی آوازیں سن کر ہی خوش ہو جاؤنگا…اور اگر میرا پوتا یاشرفون پر صرف یہ کہہ دے کہ …دادا عید مبارک…. تو میری واقعی عید ہو جائے گی۔ ویسے میں یکسر تنہا تو نہیں‘ میرے برابر میں میرے دونوں بھائی رہائش رکھتے ہیں اور میری دونوں بھابھیوں نے میرے کان کھا مارے ہیں کہ بھائی جان عید کے روز آپ نے دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ کھانا ہے لیکن مجھے اس میں تامل ہے …اگرکسی ایک بھائی کے گھر کھانا کھاؤں تودوسرے بھائی کی بیگم ناراض ہو جائے گی کہ اچھا وہ ہم سے زیادہ پیارے ہیں…

علاوہ ازیں ایک اورتشویشناک پہلو بھی سامنے آرہا ہے کہ ایک بھائی کے بال بچوں نے ڈیکلیئر کر دیا ہے کہ بابا جان اگر آپ عید کے روز ہمارے ہاں کھانے کے لئے نہیں آئینگے تو ہم کھانا اٹھا کر آپ کے ہاں آجائینگے اورسب مل کر کھائینگے… اوریہ صورتحال تو بہت خوفناک ہوگی… بعدمیں سارے برتن مجھے دھونے پڑیں گے…بیگم کی غیر موجودگی کے دوران عام طورپر اور ان دنوں خصوصی طور پر یار لوگ مجھ پر بہت ترس کھا رہے ہیں کہ ہائے ہائے عیداکیلے کرو گے… سویاں میں لے کر آجاؤں گا…کھانا میں پہنچاؤں گا ‘ اب میں ان کی منت سماجت بھی کرتا ہوں کہ آپ کی محبت کا شکریہ… گھر میں طوطا نام کی ایک ملازمہ موجود ہے وہ کچھ کھا پکا لے گی یقین کیجئے میں بھوکا نہیں رہوں گا

یہ جو طوطا ہے اسکا اصل نام طاہرہ ہے لیکن اتنابولتی ہے کہ سب لوگ پیار سے اسے طوطا کہتے ہیں… بلکہ ان دنوں جب میں سبزی والے سے سبزی خریدتا ہوں تو کہتا ہوں کہ بھئی گھر میں اور کوئی نہیں تو کیا گوبھی کا یہ پھول میرے اور طوطا کے لئے کافی ہوگا تو وہ حیران ہو کر کہتاہے کہ تارڑ صاحب آپکا طوطا گوبھی کھاتاہے اور میں ہنس کرکہتا ہوں ہاں یہ والا طوطا نہ صرف گوبھی کھاتا ہے بلکہ بھنڈیاں ‘ کریلے اورمٹر پلاؤ بھی بہت شوق سے کھاتا ہے… میں نے اپنی زندگی میں کچھ عجیب اور دلچسپ عیدیں بھی گزاری ہیں ان میں سے ایک تقریباً پچاس برس پیشتر نوٹنگھم انگلستان میں گزاری تھی

میں پاکستان سے کم از کم ایک شلوار اپنے ساتھ لے گیاتھا تاکہ عید کے روز پہنی جا سکے…عید سے چند روز پیشتر میں اسے مقامی دھوبی یا ڈرائی کلینر کے پاس لے گیا اور اس سے درخواست کی کہ اسے سٹارچ لگا دے جس طرح ہمارے ہاں مایا لگاکر شلوار اکڑاتے ہیں… اس غریب انگریز کی سمجھ میں نہ آیاکہ یہ کیسا پہناوا ہے…بہر حال جب میں دو تین روز بعد شلوار وصول کرنے کیلئے گیا تو کیا دیکھتاہوں کہ اندر سے سفید رنگ کی ایک شے جو کھیتوں میں پرندوں کو ڈرانے والے بڈاوے کی مانند بازو پھیلائے ہوئے تھی چلی آرہی ہے شلوارتہہ نہیں کی گئی تھی بلکہ اسے پھیلا کر اکڑا دیا گیا تھا…بہر طور قصہ مختصرعید کے روز یہ کھڑکھڑاتی شلوارپہنی قمیض پر ایک نیلا بلیزر زیب تن کیا

نماز پڑھی اور سیر سپاٹے کے لئے نوٹنگھم کے سنٹرتک چلاگیا…میں وہاں کھڑاتھا کہ ایک بوبی یا سپاہی آگیا اور میری شلوار کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا ’’سر‘‘ آپ نائٹ سوٹ پہن کرپبلک میں چلے آئے ہیں جو کہ نہایت معیوب بات ہے…لوگ اعتراض کریں گے براہ کرم گھر واپس جاکر مناسب لباس پہن کر آیئے‘ان دنوں ابھی انگریز صاحب بہادرپاکستانیوں کی دھوتیوں اور شلواروں سے شناسا نہیں ہوئے تھے اور ہمارے لباس کو نائٹ سوٹ قرار دیتے تھے۔ بے شک مجھے طمانیت ہے… ایک سکون ہے کہ میرے بچے نیو یارک میں خوش و خرم ہیں ماشاء اللہ صحت مند ہیں اور ان کی جانب سے اچھی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن اس کے باوجود اس تنہا عید میں ایک اداسی تو ہوگی…اس کاکچھ مداوا نہیں…

البتہ یہ اداسی قدرے کم تب ہوگی جب میں عید کی نماز کے بعد گلبرگ کے قبرستان میں دفن اپنے ماں باپ کی قبروں پر جاؤں گا…ان پر پھول چڑھاؤں گا اور ان سے کچھ باتیں کرونگا اور ان سے درخواست کرونگا کہ وہ میرے لئے دعا کرتے رہیں… ان کی دعاؤں کی برکت سے مجھے اس جہاں میں سب کامیابیاں ملی ہیں۔ آپ سب کو تنہا عید کرتے ایک شخص کی جانب سے بہت بہت عید مبارک۔

لیلا عید مبارک

میری طرف سے تمام بلاگر بھائی بہنوں دوستوں اور

 پاکستان کی جرت مند مگر سوئی ہوئی عوام کو

عوامی لیلا

عید

مبارک ہو

اب بھی وقت ہے جاگ جاو نہیں تو اگلی عید پر یہی حالت ہو جائے گی ۔