تحارير برائے زمرہ: 'ڈفرستان کی باجی بانو کے نام' ...

ڈفرستان کی باجی بانو کے نام

باجی بانو کی باتیں پڑھ کر کمنٹنے لگا تو ایسا لگا کہ بات بہت گہری ہے ۔اس لیے زرہ تفصیل سے لکھتے ہیں ۔
واقعی اب حالات بدل چکے ہیں عام بندے کی تو بات ہی نہ کریں بات ہے عاشقوں کی ایک ٹائم تھا کہ عاشقوں کی دال گلتی تھی مگر مہنگائی نے دال مہنگی کردی سو اب نہیں گلتی رہی سہی کسر اب پوری ہو رہی ہے۔ ہر حکومت اپنا منشور پورا ک رہی ہے جیسے پی پی پی بندہ ایک پپگ میں ٹون ہو جاتا ہے ادھر تو تین تین لگ رہے ہیں۔
روٹی کپڑا اور مکان کسی کے پاس نہیں رہے گا ۔
ان حالات میں عاشق کیا کریں کدھر جائیں معشوق کو تو روٹی بھی چاہیے بہترین کپڑا بھی اور عالیشان مکان بھی۔تینوں چیزیں نایاب ہوں گیں تو معشوقیں یہی جواب دیں گیں۔
اب آپ ہی سوچیں اگر معشوق کا ذھن بدل جائے اور وہ عاشق سے پانچ کلو چینی مانگ لے تو عاشق گیا کام سے چینی کی لمبی لمبی قطارں میں کھڑے ہو کر وقت محبت کون برباد کرے گا۔
سردیوں کی سرد راتوں میں معشوق عاشق سے گیس کی فرمائیش کر دے تو عاشق اپنی گرم راتوں کو گیس جیسی چیز پر قربان نہیں کرے گا ایسی عاشقی سے توبہ کر لے تو اچھا ہے۔
آج کی لیلیٰ اگر اپنے مجنوں سے اپنی محبت کا امتحان خود کش جیکٹ پہن کر لے تو مجنوں کا سارا خون تو اسی چکر میں خشک ہو جائے گا اور اگر مجنوں میں خون کی کمی ہو گئی تو لیلیٰ پھر بھی ( لاماں ) طعنہ مارے گی۔
چلو فرض کرو معشوق زرہ شریف طبعیت کی ہو اور ماڑے حالات میں گزارا کرنے والی ہو اسے بھی اس مہنگائی میں کوئی عاشق لفٹ نہ کرواتا ہو اور وہ شادی کے لیے رازی ہو جائے اور شادی بھی ہو موسم گرما میں جولائی اگست کی گرمی میں جب عشق پروان چرھے تو عاشق معشوق پت سے بھر جائیں
مگر شادی کے بعد اللہ بھاگ لا دے اور ایک ( نواں ) نیا رانجھا جنم لے لے تو سمجھو عاشق معشوقی ختم معشوق کہے گی جاو نہ اس کے لیے دودھ لے کر آؤ عاشق کہے گا کام دھندہ ہے نہیں دودھ کہاں سے آئے گا معشوق کہے گی شادی سے پہلے جو دودھ کی نہر کھودی تھی وہاں سے لاو۔
بس ان حالات کے بعد باقی باجی بانو کی پوسٹ پڑھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔