تحارير برائے زمرہ: 'کنفیوز کی باتیں' ...

5 لاکھ 10 لاکھ

حکومت وقت
نے عوام کی عزت پامال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑنے تہیہ کر رکھا ہے پورے ملک میں کہیں بھی کوئی ایسا واقعہ جو میڈیاء میں چھا رھا ہو حکومت کے لیے بجائے بے عزتی کے عزت بنانے کے کام آجاتا ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ اس واقعہ کے ذمہ اروں کو جلد از جلد ایسی سزا سے نوازا جائے جس سے متاثر ہونے والوں کو دلی اطمینان اور سکون میسر آئے اور یہ کام حکومت وقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزت بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو گا ۔
لیکن ہو کیا رھا ہے
بجائے انصاف مہیاء کرنے کے سوٹ بوٹ میں ملبوس حفاظتی گارڈوں کے حصار میں میڈیاء اور صحافتی سحر کی چمکتی سپاٹ لائیٹ کی روشنی میں یہ لوگ ان افراد کے جذبات مجروح کرنے چلے آتے ہیں چند منٹ کی وڈیو بنتی ہے جھوٹے دلاسے اور وعدے کیے جاتے ہیں اور آخر میں میڈیاء کے سامنے آکر عوامی خزانے سے اپنے نام کا لیبل لگا کر پانچ دس لاکھ دینے کا اعلان کیا جاتا ہے جو کسی کو ملتا ہے کسی کو نہیں اور کسی کو دے کر چھین لیا جاتا ہے ۔
میں پوچھتا ہوں
کیا ایسا کرنے سے کسی کی عزت واپس مل جائے گی؟
کسی کا غم سے بھرا دل سکون پا سکے گا؟
کسی بچھڑا ہوا پیارا واپس آجائے گا؟
نہیں میں تو ڈرتا ہوں کہیں یہ کام مدد کی بجائے فیشن ہی نا بن جاے لوگ اس کو بھی پیسے کمانے کا ذریعہ نا بنا لیں کیونکہ یہ حکومتی حربہ کامیاب ہوتا نظر آتا ہے۔
یہ نا ہو کل کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی حکومت پیسے بانٹنے شروع کردے۔ مثلا فلاں نے فلاں کے منہ پر تھپٹر مارا وزیر اعظم نے گھر جا کر معزرت کی اور 10000 کا چیک پیش کیا۔

حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ پیسہ ہر مرض کا علاج نہیں لوٹ کھسوٹ اور کمیشن سے دولت تو کمائی جا سکتی ہے لیکن اس دولت کو اس بانٹ کر عزت نہیں بنائی جا سکتی عزت بنانی ہے تو انصاف دو روٹی کپڑا اور سر پر چھت دو محنت سے روزی کمانے کے لیے ملازمت دو عزت سے جینے دو ۔۔۔۔۔نہیں تو یہ کرسی یہ ملک چھوڑ دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک طوائف بھی اپنا دھندہ چند اصولوں پر چلاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔

کھٹی املی

پڑھنے سے پہلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر سمجھ نہ آنے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں تمام کنفیوز تحریریں لیڈیز اور ستر سال کے بزرگوں سے دور رکھیں کسی بھی صورت نہ رکنے پر ادارہ ذمہ دار نہ ہو گا۔
نوٹ:۔ یہ پڑھنے کے بعد ” وہ ” عورتیں جو خود کو مظلوم سمجھتی ہیں یقیناٌ خود کو برتر اور اعلی قابل احترام سمجھیں گئیں ۔واللہ علم

یارو آجکل عورت ذات کو پھر اپنے مظلوم ہونے کا احساس ہوا ہے۔
اگر عورت ان پڑھ ہے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہے تو مانا جا سکتا ہے کہ عورت مظلوم ہے
مگر حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ اچھی خاصی پڑھی لکھی سمجھ دار عورتوں نے بھی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ عورت مظلوم ہے ۔
حیرت ہے ۔۔۔
عورت جس کو اللہ نے ایک آدم سے ہی پیدا کیا سوری کوئی اسلامی دلیل نہیں دینا چاہتا ۔
میں ان سے پوچھتا ہوں کہ عورت کن وجوھات کی بنا پر عورت کو مظلوم اور ستم ذدہ اور مرد کو فرعون اور ظالم قرار دیتیں ہیں ۔
کیا مرد عورت کو دیکھ نہیں سکتا اگر دیکھنے پر پابندی ہے تو ہزاروں کا میک اپ کیوں کروایا جاتا ہے بازاروں میں فل تیار ہو کر کیوں نکلا جاتا ہے ۔
اگر کسی دوسرے ملک میں ہوں تو انہیں اور کوئی نہیں دیکھتا بس پاکستانی ہی دیکھتے ہیں ظاہر ہے ان لوگوں کو کیا معلوم عورت کیا چیز ہے سوائے حرص مٹانے والی مخلوق کے اسی لیے وہاں عورت اور مرد کا فرق ختم ہے خاندانی سسٹم نہیں بچے شرائط پر پیدا کیے جاتے ہیں اور پھر جوان ہونے پر انکو اسی سلسلے سے جوڑ دیا جاتا ہے جہاں انکے نام نہاد ماں باپ نے شروع کیا تھا۔کو پتا نہیں کون کس کا بیٹا اور کس کی بیٹی ہے۔
اگر کوئی مرد کسی عورت پر ہاتھ اٹھاتا ہے تو کوئی وجہ ہو گی کو ئی گھریلو مسلہ ہو سکتا ہے مسلے کو پسے پشت ڈال کر عورت کو مظلوم قرار دے دینا درست نہیں اصل وجہ وہ مسلہ ہے اس کو درست کرنے کی ضرورت ہے ۔
دوسری بات عورت کو مردوں جیسے حقوق حاصل نہیں ان کو دبایا جاتا ہے اور آگے بڑھنے سے روکا جاتا ہے یہ بھی غلط ہے۔
آج پاکستانی عورت
وزیر اعظم بنتی ہے مگر عورت پھر بھی مظلوم ہی رہی
سپیکر قومی اسمبلی ہے ویسے لگتا ہے جیسے کوئی شادی اٹینڈ کر رہی ہیں
ممبر قومی اسمبلی ہے جہاں چلا چلا کر اپنا غصہ اتارتی ہے
ممبر پنجاب اسملبی ہے جس کا فائدہ اٹھا کر کریڈڈ کارڈ چراتی ہے
بہترین ایکٹرس ہے ویسے ایکٹر تو ہر عورت ہی ہوتی ہے
بہترین رائیٹر
بہترین بلاگر جیسے انیقہ اسماء اور سعدیہ
اعلیٰ سپیشلسٹ ڈاکٹر ہیں
اعلی قسم کی اینکر پرسن ہیں جیسے عتیقہ اوڈھو وغیرہ دل خوش ہو جاتا ہے ۔
بہترین استاد ہے چاہے گھر میں ہو یا کسی مدرسے میں صرف بچوں کی۔
پائیلٹ ہیں اور جہاز اڑاتیں ہیں ۔
یہ مظلومیت صرف ان پڑھ عورتوں کے قصے ہیں۔
مگر مجھے لگتا ہے جو کچھ پاکستانی عورت کے بارے لکھا جارھا ہے وہ کسی دیہاتی عورت کا گھریلو قصہ ہے جو لوگوں کی کمیٹیاں کھا جاتی ہے اور چرچا نہیں ہوتا۔
میری پاکستانی عورتوں سے گزارش ہے کہ خدا راہ جو عزت آپ کو بخشی گئی ہے اس کا پرچار کریں نہ کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے اپنے آپ کو مظلوم کہلوانا ۔۔
نہی ہے کوئی چیز نکمی زمانے میں
کیسی اداسی چھائی ہے زنان خانے میں

اللہ کا گھر ۔۔۔۔

ایک دن مغرب کے بعد تین چار باریش ٹوپی بردار اشخاص میرے پاس آئے اور بہت محبت سے ملے سلام دعا کے بعد ان اشخاص نے اپنا تعارف یوں کروایا کہ یہ فلاں شعبہ سے ہیں اور یہ فلاں کام کرتے ہیں یہ پاکستان سے ایک تبلیغی جماعت لیکر شارجہ آئے ہیں اور اسی سلسلے میں آج آپ کے شہر میں ایک تبلیغی نشست بعد نماز عشاء رکھی ہے آپ لوگ ضرور شرکت فرمائیں اور میرے بھائی ابھی بھی وقت ہے اللہ کی طرف رجوع کریں اور نماز کی پابندی کریں ۔۔۔۔اسکے بعد وہ حضرات آنے کہ تاکید کرتے ہوئے چلے گئے ۔
ان کے جانے کے بعد میں سوچ میں پڑ گیا اور مجھے وہ شخص یاد آیا جو ایک دفعہ میر پاس آیا اور تبلیغ کی باتیں کرنے کے بعد بولا بھائی صاحب میں منڈی بہاولدین کا رہنے والا ہوں ۔آپ بھی ماشااللہ پاکستانی بھائی ہیں۔ میں نے ایک مسجد شروع کر رکھی ہے آپ سے گذارش ہے کہ اس نیک کام میں حصہ ڈالیں ۔ ان صاحب کے پاس باقاعدہ پاکستان سے پرنٹ شدہ رسید بک بھی تھی میرا دماغ پہلے ہی گرم تھا کسی بات پر اور یہ بچارہ میرے ہتھے چڑھ گیا ۔ میں نے کہا بھائی صاحب آپ کا دماغ ٹھیک ہے آپ کو پتا ہے آپ اس وقت کہاں ہیں میں ایک کال کروں گا اور آپ جعل سازی میں اندر ہو جائیں گے اس لئے بہتر یہ ہی ہے کہ آپ تشریف لے جائیں ۔وہ شخص تھوڑا گھبرایا مگر پھر تھوڑی ہمت کر کے بولا میرے بھائی میں نے تو مسجد کے لئے چندہ مانگا ہے اپنے لئے تھوڑا کچھ مانگا ہے میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات شروع کی ۔۔بھائی میری بات سنو۔۔ ایسی رسیدی مسجدیں پاکستان میں بہت بنتی دیکھیں ہیں اور تم پاکستان سے بیس پچیس ہزار کی ٹکٹ لیکر یہاں چندہ لینے آئے ہو یہاں رہنے کا کھانے کا اور چھوٹے موٹے خرچے ہیں اگر یہ سب تم نہ کرتے اور یہ سارے پیسے مسجد پر لگاتے تو کتنا اچھا ہوتا ۔۔۔وہ صاحب بولے بھائی مدد نہیں کرنی تو نہ سہی۔۔ یہ کہ کر وہ شخص ایسا غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔۔
میں سوچتا ہوں اس ملک کے مولوی حضرات کو اپنی قوم کی اتنی فکر نہیں جتنی ہمارے مولوی صاحبان کو ہے
کتنا خرچہ کر کے وہ یہاں آتے ہیں جن سے کتنے لوگوں کی مدد ہو سکتی ہے ۔میں تبلیغ کے خلاف بات نہیں کر رہا مجھے دکھ ہے ایسے لوگوں پر جو پاکستان کا نام بدنام کرتے ہیں اور اللہ کا تو خوف انکو ہے نہیں ۔ آج کا دور میڈیا کا دور ہے گھر گھر بات پہنچانے کا آسان زریعہ ہے ویسے بھی اب بات سننے کے لیے کس کے پاس وقت ہے۔

نیا سال

آپ کو کچھ کہنا ہے تو کہیے مجھے کچھ نہیں کہنا۔۔۔۔۔۔۔

بیتے دن

بیتے دنوں کو سوچتا ہوں تو غم کے بادل چھا جاتے ہیں
یادوں کی بجلیاں کڑکنے لگتی ہیں
اور
آنکھوں سے غم کی برسات شروع ہو جاتی ہے
بیتے دنوں کو سوچتا ہوں تو
بھری دنیا میں خود کو تنہاء پاتا ہوں
دماغ سن ہوجاتا ہے
دل دھڑکنا بند کر دیتا ہے
بیتے دنوں کو سوچتا ہوں تو
قہقہے سرگوشیاں وہ معصوم مسکراہٹیں
مجھ سے ٹکرا کر واپس گم ہو جاتے ہیں
بیتے دنوں کو سوچتا ہوں تو
وہ خوبصورت جگہ جہاں کبھی خوشی تھی جوش تھا جذبے تھے محبت تھی خواہشیں تھیں وعدے تھے
وہ خوبصورت جگہ آج ویران ہے سنسان ہے
بیتے دنوں کو سوچتا ہوں تو
یہ زندگی ایک خواب سی لگتی ہے
ایک خواب جو ایک دن ٹوٹ جائے گا
خواب تو ہوتے ہی ٹوٹنے کے لیے ہیں
پھر خوابوں سے پیار کیوں امید کیوں
کاش میں یہ بیتے دن اپنی زندگی سے نکال سکتا
مگر یہ روح کی طرح مجھ میں سما چکے ہیں

حلال موت

غربت سے تنگ اور مایوس لوگ

اگر آپ اپنی زندگی سے مایوس ہو چکے ہیں غربت سے تنگ آ چکے ہیں اپنے بچوں کو بیچنے کا ارادہ

 رکھتے ہیں یا بچوں سمیت کسی نہر میں کودنے کا پکا فیصلہ کر چکے ہیں کوئی سرکاری عامل اور بنگالی

 باوا آپ کے کام نہیں آ سکا توموت کی آرزو کر نے والوں دل سے حرام موت کا فکر نکالو حکومت اور امراء

 نے ایسے لوگوں  کے لیے سستے موت بازار اور آٹا اور مفت امداد پوائنٹ قائم کر دیے ہیں۔ آج ہی اپنے

 قریبی یوٹیلٹی سٹورسستا آٹا پوائنٹ یا کسی سیٹھ سے رجوع کریں۔ چینی آٹا اور مفت امداد ملنے کی گارنٹی

 نہیں لیکن سستی موت کی گارنٹی ہے۔

دو کلو چینی ایک تھیلہ آٹا یا چند رپوں کے بدلے حلال موت مل جائے اور کیا چاہیے۔

پاکستانی روزہ دار

 

محترمہ امہ زکریاصاحبہ کا تبصرہ رمضان کی مبارکباد کے سلسلے میں موصول ہوا جس کو پڑھ کر کنفیوز اور کنفیوز ہو گیا کہ کاش میرے پاکستان کے لوگ بھی اچھے روزے گزاریں۔

cK_logo2کنفیوز تیسرے درجے کا پاکستانی اپنی حالت بیان کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔

بہت شکریہ امہ بہن جی اللہ تعالیٰ آپ کو اور ذیادہ خوشیاں نصیب کرے اور ہم پاکستانیوں کو بھی آپ کہاں ہوتی ہیں مجھے معلوم نہیں آپ کے لیے اتنا اچھا رمضان اتنے عرصے بعد کیوں آیا یہ بھی مجھے معلوم نہیں لیکن آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ پاکستان سے باہر سب پاکستانیوں کے روزے الحمداللہ اچھے گزرتے ہیں میں نے بھی یو اے ای میں تین سال تک روزے رکھے اس دفعہ موقع ملا تو پاکستان جا کر روزے رکھنے کا من کیا مگر قسم پیدا کرنے والے کی کہ جتنے مشکل روزے یہاں ہیں شاید پاکستان سے باہر بھی نہ ہوں گے ۔میں حیران ہوں کہ میرے پاکستانی بھائی رمضان کے لیے کس طرح ٹوکے اور تلواریں تیز کرتے نظر آتے ہیں۔ اپنے بھائیوں کی چمڑی اتارنے کے لیے اور حکومت انکا بھرپور ساتھ دیتی ہے ۔
کبھی ٹائم نکال کر ان لوگوں کے حال کا پتا کرو جو روزانہ مزدوری کر کے چند روپے لاتے ہیں ۔یاں جن کی تنخواہ ہی سب کچھ ہے ۔باقی چھوٹے موٹے کاروبار والے بھی مہنگائی سے پس چکے ہیں ۔
خدا کی قسم اب تک جتنے حکمران رہے سب جہنم میں ہوں گے میں فتوٰی نہیں دے رھا بلکہ میرے دماغ میں ان اسلامی رہنماوں کی یادیں اور باتیں گردش کر رہی ہیں جو اپنی قوم کے لیے ساری رات جاگتے گلی گلی روپ بدل کر پھرتے کہ کوئی بھوکا نہ سو جائے ۔وہ جن کے صدقے دنیا وجود میں آئی۔ جو بیمار غریبوں کے گھر جا کر انکی عیادت کرتے تھے ۔ جو غریب کے لیے آٹا اپنی کمر پر لاد کر اسکے گھر تک چھوڑ کر آتے ہیں ۔جنکو فکر تھی کی اگر کوئی کتا بھی بھوک سے مر گیا تو اللہ کو کیا جواب دیں گے ۔
اور ایک یہ حکمران ہیں جو رمضان کے مہینے میں اتنی اندھا دھند منہگائی میں 40 سے 50 فیصد تک اور اضافہ کر دیتے ہیں ۔ ایک ملک کے حکمران صرف کمیشن کی خاطر دولت مند اور منافع خور شوگر ملز کے آنرز کو عین رمضان میں چینی مہنگی کرنے کی اجازت دیں وھاں کیا حالت ہو گی ۔
آج جو آٹا سستا کر کے غریبوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے وہ اس گندم سے تیار شدہ ہے جو شاید جانور بھی نہ کھائیں ۔یہ امریکہ یا آسٹریلیا کی گندم بھی ہو سکتی ہے جو کئی سال پورٹوں پر خجل خراب ہونے کے بعد سستے آٹے میں بدل گئی ۔ ہمارا پیسہ ہمیں ہی ریلیف کے نام پر دے کر ہمارا سر اور ہماری جوتی والا محاورہ سچ کر رہی ہے ۔
سستا پیٹرول آج بھی شارٹ ہے جب مہنگا ہو تو پھر کبھی شارٹ نہیں ہوتا۔ پھلوں‌کو اغوا کر لیا گیا ہے اگر کوئی پھل مارکیٹ میں موجود ہے تو وہ تیسرے درجے کا ہے ۔ لیکن اسکی قیمت پہلے درجے سے بھی ذیادہ ہے 100 روپے کلو سے ریٹ شروع ہوتا ہے ۔ آج بازار پھلوں سے بھرے پڑے ہیں مگر لینے والا کوئی نہیں ۔ہمارے ملک کی شہری کی اوسط آمدنی دیکھیں اور ان پھلوں کی قیمت دیکھیں۔
سموسے غریب روٹی کی جگہ کھا لیتا تھا ۔مگرکل جو سموسہ 3 روپے کا تھا وہ آج 9 روپے کا ہے ۔ لگتا ہے ہر پاکستانی کھجور پانی اور نمک سے روزے افطار کر کے سنت پوری کر رہا ہے ۔
بہن جی کیا یہاں دال میں کالا نہیں ساری دال ہی کالی ہے ۔
آخر میں میری گزارش ہی ہے کہ حکومت واقعی مسلمان ہے تو کچھ ذیادہ نہیں بس غریب کی کیا حالت ہے وہ کس طرح زندگی گزار رہا ہے ایک دن بس ایک دن اسکے ساتھ گزار کر دیکھ لیں ۔۔۔بس ایک دن ۔

آو عہد کریں

pkflag

14 اگست جشن منانے کا نہیں عہد کرنے کا دن ہے اپنے پورے سال کا محاسبہ کرنے کا دن ہے ۔آپ نے ملک کے لیے کیا کچھ کیا ہے آپ کی وجہ سے اس ملک کو کتنا نقصان اور کتنا فائدہ حاصل ہوا ہے ۔کیا آپ نے اس ملک کو نقصان پہچانے والے کو روکا ہے ۔ یہ وقت جشن منانے کا نہیں اس ملک کو آگے لے کر جانے کا ہے ۔ ناچ گانے سے کسی ملک کو نہ کوئی فائدہ نہیں ہوتا نہ وہ ترقی کرتا ہے ۔آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اس کا احساس آپ سب کو اب تک ہو جانا چاہیے ۔

آو اس یوم آزادی پر یہ عہد کرو ۔

پکے سچے مسلمان اور پاکستانی بنو گے ۔
امانت میں خیانت نہیں کریں گے ۔
حق دار کا حق ادا کریں گے ۔
اپنا فرض ایمانداری اور دیانتداری سے ادا کریں گے ۔
آپ چاہے جس شعبے سے تعلق رکھتے ہوں اپنی ڈیوٹی فرض سمجھ کر ادا کریں ۔
اپنے کام اپنی ڈیوٹی میں خیانت نہیں کریں گے ۔
حق حلال کھائیں گے چاہے ایک لقمہ ہی کیوں نہ ہو ۔
نمودونمائش اور دکھلاوے کی زندگی نہیں گزاریں گے ۔
دکھلاوے کی نمازیں اور دیگر عبادتیں نہیں کریں گے ۔
رشوت نہ لیں گے نہ دیں گے ۔
ذخیرہ اندوزی کر کے بھوک نہیں پھیلائیں گے ۔
چاہے ایم پی اے یاایم این اے یا مزدور ہوں چوری نہیں کریں گے ۔
اپنا ووٹ برادری ، دوستی اور تعلق کی بنا پر نہیں ایمانداری پر ڈالیں گے ۔
سیاست اپنی ذات اور کرسی کے لئے نہیں عبادت سمجھ کر کریں گے ۔
اپنے ملک کو کولوٹنے کی بجائے لوٹانے کا عمل کریں گے ۔
آئیندہ کبھی لوٹا نہیں بنیں گے ۔
کبھی بھی بکنے والا گھوڑا نہیں بنیں گے ۔
ملک کو توڑنے والوں کا نہیں ملک جوڑنے والوں کا ساتھ دیں گے ۔
جھوٹے سیاستدان جھوٹے مولوی جھوٹے حکمرانوں کے خلاف اعلان بغاوت کریں گے۔
حاکم ہو یا فقیر کوئی قانون سے بالا تر نہیں ہو گا ۔
امیر کا بچہ ہو یا غریب کا یکساں تعلیمی معیار دیں گے ۔
علم کی روشنی سے ہر سنیہ منور کریں گے ۔
میر جعفروں اور صادقوں کی نشاندہی کریں گے اور کیفر کردار تک پہنچائیں گے ۔

کس گھر جائیں

مہربانوں شکریہ جان نثارو شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔ہم جا رہے ہیں گھر
خوشی کی بات ہے یہ اپنے گھر کو جارہے ہیں ۔۔ لیکن۔۔
کون سے گھر۔۔گھر تو تباہ ہو چکے شکریہ نہیں گھر چاہیے جناب ۔
چینل بدلتے ہوئے اس گیت سے روشناس ہوئے جو پی ٹی وی پر بار بار چلایا جا رہا ہے۔ اسکو بلکل ایک اشتہاری گیت کی طرح شوٹ کیا گیا ہے۔اس میں خوش ہوتے لہلہاتے گھومتے گاتے نظر آتے بچے بوڑھے جوان شکریہ ادا کرتے ہیں اس حکومت فوج اور عوام کا ۔کیا یہ لوگ واقعی اب آزاد ہیں ؟
لیکن اس تصویر کو دیکھیں اور اندازہ لگائیں گیت بنانے والے کی چالاک عقل کا کہ کس طرح حقیقت پر پردہ پوشی کی جارہی ہے خوشی خوشی اپنے گھروں کو جانے والے اس لئے خوش نہیں کہ انکو یہاں بہت خوش رکھا گیا بلکہ وہ اس مصیبت خانے سے نکلنے پر خوش ہیں جہاں صرف طفل تسلیوں کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔کس گھر جائیں یہ وہ جو اس جنگ میں ٹوٹ پھوٹ چکے ہیں ۔
اصل مسلہ ہے گھر آباد کرنے کا سر چھپانے کا۔ آنے والا موسم اس گرمی سے ذیادہ تکلیف دہ ہے ۔اس بچی کی طرح بہت سارے لوگوں کو اپنے گھروں کی فکر ہے روٹی پانی کی فکر ہے اپنے کھیت کھلیان اور ڈھول ڈنگر کی فکر ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس دھوم دھڑکے کی بجائے انکے گھر بنائے جائیں انکی مالی مدد کی جائے ۔حقیقت میں صرف کاغذوں میں نہیں۔خوشی کی بات ہے یہ اپنے گھر کو جارہے ہیں مگر اچھا ہوتا یہ لوگ اس وقت تک یہاں سے نہیں جاتے جب تک ان کے ہونے والے نقصان کا ازالہ نہیں کر دیا جاتا۔مگر عوام اس بھوکے روتے بلکتے بچے کی طرح ہے جس کو چپ کروانے کے لئے چھنچھنا یا چابی والا جوکر پکڑا دیا جائے۔

fp-02
بونیر کی ایک لڑکی اپنے ٹوٹے پھوٹے گھر کو حیرت سے دیکھ رہی ہے جس کو وہ صحیح سلامت چھوڑ کر گئی تھی یقینا ً اس بچی کے ذھن میں بھی اپنے گھر کی تعمیر کا سوال ہو گالیکن انکے گھر کون بنائے گا ؟ کروڑوں ڈالر کی امداد کہاں ہے ؟ ان سوالات کا جواب دینا باقی ہے ۔

الحمداللہ

1247435695_AC-Alhamdulillah-IV
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الحمداللہ میرا مسلہ حل ہو چکا ہے جس صاحب کی وجہ سے یہ حل ہوا میں انکا شکر گزار ہوں اسکے علاوہ میں جناب جاوید گوندل صاحب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے صحرا میں بارش کے قطرے کی طرح اس مشکل وقت میں بھی میرا ساتھ دیا اللہ کریم انکو اجرعظیم عطا فرمائے اور ہمیں انکے علم اور تجربے سے مستفید فرمائے
آمین

TP ٹیسٹ پوسٹ

help
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری نئی پوسٹ اردو سیارہ کے پلینٹ http://www.urduweb.org/planet/ اور اردو ٹیک کے وینس http://www.urdutech.net/venus/ پر دکھائی نہیں دے رہی یہ مسلہ وردپریس کے اپ ڈیٹ کے بعد شروع ہوا ہے مجھے مدد کی ضرورت ہے ۔اردو ٹیک اور اردو ویب کے منتظمین میری مدد فرمائیں ۔ شکریہ نوازش مہربانی۔۔۔۔۔۔

نعرہ اے لیڈری

ہر دور حکومت میں آنے والا لیڈر اپنا ہی نعرہ دے کر گیا جیسے

ذوالفقار علی بھٹو پی پی پی
روٹی کپڑا اور مکان
نواز شریف مسلم لیگ ن
ترقی یافتہ خوشحال پاکستان
پرویز مشرف مسلم لیگ ک
روشن خیال اور سب سے پہلے پاکستان

کیا کوئی ایسی حکومت یا لیڈر بھی کبھی آئے گا جس کا نعرہ ہو
ایمان دار پاکستان

پردیسی آء اللہ حافظ

پہلے وقتوں میں گھر کے بڑے بوڑھے اپنی اولاد کو بڑی سزا دیتے تو بیرون ملک بھیج دیتے کہ پردیس کی مار کھائے گا تو عقل ٹھکانے لگ جائے گی والدین سخت پریشان اور رنجیدہ ہو تے سوچا کرتے تھے کہ بیٹا پردیس میں کیسے گزر بسر کرے گا وہاں کے حالات کا کیسے مقابلہ کرے گا کب خط ملے گا اور حالات کا پتہ چلے گا آج حالات بدل گئے ہیں ہر پل کا رابطہ ہے مگر پریشانی اپنی جگہ ہے ۔ ہم کو بھی یہ سزا ملی اور ہم پردیس آ گئے مگر آج پردیس آتے ہوئے کوئی پریشانی اور فکر نہیں ہوتی فکر ہوتی ہے اپنے ملک والوں کی اسی طرح اگر ملک واپس جانا ہو تو پریشانی ہوتی ہے کہ واپس آئیں گے کہ ۔۔۔خدا نا خواسطہ اللہ نہ کرے۔ لو جی اگر زندگی صحت اور بجلی نے وفا کی تو ملاقات ہوتی رہے گی نہیں تو دو ماہ تک اللہ حاٍفظ

انسان برائے فروخت

ایک غریب اور مجبور انسان جہاں ہے جیسا ہے کی بنیاد پر برائے فروخت ہے ذیادہ بولی لگائیں اور ذیادہ مال بنائیں ۔اس کے مندرجہ ذیل حالات ہیں ۔بعد میں ذمہ دار نہ ہوں گے۔
؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
بال۔۔۔بھاری بھرکم وزن اٹھا اٹھا کر ختم ہو چکے ہیں ۔
دماغ ۔۔۔ حالات کی وجہ سے خراب ہو چکا ہے ۔
آنکھیں ۔۔۔ سپنوں امیدوں سے بھری مگر آج خون کے لوتھڑے دیکھ کر پتھرا چکی ہیں
ناک ۔۔۔ ہمیشہ اوقات میں رہی کبھی اونچی نہیں ہوئی ۔
ہونٹ ۔۔۔ ہمشہ حق اور انصاف مانگتے رہے آج خشک اور بنجر ہیں ۔
زبان ۔۔۔ انصاف اور رزق کی فریاد کرتی رہی آج کنگ ہے اور اس پر تالا پڑ چکا ہے ۔
کان ۔۔۔ دھماکوں چیخوں اور فریادوں سے پھٹ چکے ہیں ۔
بازو ۔۔۔ اپنے جیسے لوگوں کی مدد کرتے رہے مگر آج شل ہو چکے ہیں ۔
ہاتھ ۔۔۔ دن رات محنت کرتے رہے مگر پھر بھی محتاج ہی رہے ۔
دل ۔۔۔ خوشیوں اور محبتوں کا محتاج تھا آج خون کے آنسو رو رہا ہے ۔
جگر ۔۔۔ چھلنی ہو چکا ہے ۔
پاوں ۔۔۔ پیٹ میں روٹی نہیں پاوں میں جوتی کہاں سے آتی آبلے ہی آبلے ہیں اور پتھر کی طرح سخت ہو چکے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ۔ کامران اصغر کامی کا ایک بلاگ بلاگ سپاٹ پر بھی شروع ہو چکا ہے اگر ورڈپریس پر مشکل ہو تو اس لنک پر رابطہ کریں آپکا بہت بہت شکریہ ۔
http://www.kamisf.blogspot.com/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بات سے بات چلی ہے

جاوید بھائی ہماری محبت بھی عجیب ہے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر جان تو دے سکتے ہیں مگر جیتے جی انکے فرمان پر عمل نہیں کر سکتے میں خود شاید ان میں شامل ہوں ۔ڈنمارک کی اشیاء پر پابندی کیاملک پاکستان میں اس پر عمل ہو رہا ہے ۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ہم آج بھی غیر ملکی اشیاء کو ملکی اشیاء پر ترجیح دیتے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے پیپسی پر بہت بحث ہوئی بڑے بینر چھپے پمفلٹ تقسیم ہوئے پیپسی کے الفاظ کا خلاصہ کیا گیا کہ Pay Every Penny to Save Israel خطبوں میں دھواں دار تقریریں ہوئیں جلا دو مار دو کا جذبہ جگا دیا گیا بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا کس نے چھوڑی پیپسی کس نے چھوڑا کوک مگر کچھ عرصہ بعد سب ٹھنڈا ایسا ٹھنڈا کہ جیسے ٹھنڈا کوک جناب کچھ ہوا ہی نہیں ۔
ایسا ہی ردعمل گستاخانہ خاکوں پر آیا اس گستاخ کے خلاف کچھ ایکشن لیا گیا ۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔
بہت مدت ہو گئی کوئی غازی علم دین پیدا نہیں ہوا ۔۔۔کیوں۔ ؟ ۔دنیا سے محبت یا تعلیم و تربیت ہی نہیں ۔
انڈیاء کے خلاف ہم نے کتنی بار جوش دکھایا کتنی بار بائیکاٹ کیا اب کیا ہے گھر گھر انڈین چینل راج کر رہے ہیں ہم کو ہمارے منہ پر برا بھلا کہتے ہیں ہم کیا کرتے ہیں صرف دفتر خارجہ میں بلا کر احتجاج اس سے اچھے تو ہیجڑے ہیں جو کم از کم دونوں ہاتھوں سے تالی بجا کر اپنے غصے کا اظہار تو کرتے ہیں۔
ہم نے شہادت اپنوں کو مارنے کا نام دے دیا ہے اور کافر سے مذاکرات امن بھائی چارہ ۔
ہم پاکستانی بہت جذباتی ہیں ایسا لگتا ہے ہماری مٹی میں پٹرول شامل ہے ‌ جس کو ھلکی سی چنگاری کی ضرورت ہوتی ہے اور آگ بھڑک اٹھتی ہے ہماری قوم عقل سے کم اور جوش سے زیادہ کام لیتی ہے ۔آج دشمن کوئی بھی ہتھکنڈہ استعمال کرے ہم بنا سوچے سمجھے اپنی ساری توانائی اس پر صرف کر دیتے ہیں کراچی سوات بلوچستان پنجاب میں ہونے والے واقعات اسکا ثبوت ہیں اربوں کا نقصان کرنے کی بجائے ھوش سے کام لیا جائے تو نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔ پوری دنیا ہمارا تماشہ دیکھ رہی ہے ہم آپس میں لڑ رہے ہیں یا لڑائے جا رہے ہیں دشمن ہماری کمزوریوں سے واقف ہو چکا ہے ۔ہم نے اپنوں کا سودا کر کے بہت بڑا محب وطن ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ ہم کو ایک زباں ہونے کی بجائے سندھی پنجابی کے چکر میں ڈال دیا گیا ہے سندھی پنجابی کو اپنا دشمن سمجھتا ہے سوات اور بلوچستان والے پاکستان سے مایوس ہو چکے ہیں کشمیر کو ہم نے ویسے ہی بھلا ڈالا ہے ۔ اگر ہم نے آج اپنی نئی نسل کی پرورش ایک پاکستانی کی شکل میں نہ کی انکے ذھن میں پاکستان کی محبت نہ ڈالی تو کل کیا ہو گا سب کو پتا ہے کتنے پاکستان وجود میں آئیں گئے ۔