تحارير برائے زمرہ: 'مستنصر حسین تارڑ' ...

مستنصر حسین تارڑ

میرے پسندیدہ :۔

ٹیلی ویژن میزبانی کے رہنما اصول

جیسے یکدم کوئی فیشن چل نکلتا ہے….ہر نوجوان ایم بی اے کرنے لگتا ہے…. ہر لڑکی ڈھیلے ڈھالے پاجامے پہننے لگتی ہے اور پاگل لگتی ہے…. ہر بوڑھا دوسری شادی کرنے کے بارے میں سوچنے لگتا ہے، بالکل ایسے ہی ان دنوں ٹیلی ویژن میزبان بن جانے کا رواج نہایت پاپولر ہو گیا ہے…. ایک صاحب کا کہنا ہے کہ سوائے میرے سبزی والے اللہ رکھا کے اور دودھ والے دین پناہ کے ہر شخص ٹیلی ویژن پر میزبانی کے فرائض سرانجام دینے لگا ہے….

کوئی دن جاتا ہے جب اللہ رکھا اور دین پناہ بھی کسی کُکنگ شو کی میزبانی کر رہے ہوں گے….چونکہ میڈیا پر میزبانی سے میرا بھی جائز تعلق رہا ہے اس لئے آئے دن میزبان بننے کے شائق نوجوان اور لڑکیاں مجھ سے رابطہ کرتے رہتے ہیں تا کہ اس سلسلے میں ان کی کچھ رہنمائی کروں اور انہیں میزبانی کے رموز اور خفیہ نسخے بتا کر ان کا مستقبل درخشاں کردوں…. چونکہ فرداً فرداً ہر ایک شائق کے ساتھ سر کھپانے کیلئے نہ میرے پاس وقت ہے اور نہ اتنا بڑا سر کہ اسے کھپاتا چلا جاؤں اس لئے میں نے مناسب جانا کہ اس کالم میں ٹیلی ویژن پر میزبانی کے کچھ رہنما اصول درج کردوں تاکہ دو چار کا نہیں بہتوں کا بھلا ہو جائے۔

پچھلے زمانوں میں ٹیلی ویژن میزبان ایک ہی قسم کا ہوا کرتا تھا…. خالص اردو اور پنجابی میں بات کرتا تھا، انگریزی کو پاس نہیں پھٹکنے دیتا تھا کہ اس کی انگریزی صرف ” گڈبائے اور بائے بائے ” تک محدود ہوتی تھی…. موقع ہو نہ ہو اپنی تقریر دل پذیر میں شعر ٹانکتا جاتا تھا…. مہمانوں کی عزت کرتا تھا اور پورے پروگرام کے دوران وہ ایک ناراض ریچھ کی مانند نظر آتا تھا قطعی طور پر مسکراتا نہ تھا اور ایک افلاطون کی مانند باتیں کرتا تھا…. یہی میزبان مختلف شوز کی میزبانی کرتا تھا….

سائنس، موسیقی ، زراعت وغیرہ کے شوز کے علاوہ میلہ مویشیاں کی میزبانی بھی سہولت سے کرلیتا تھا….لیکن موجودہ دور میں صورت حال یکسر بدل چکی ہے…. ان دنوں ٹیلی ویژن میزبانوں کی متعدد اقسام رائج ہیں…. ان میں سرفہرست تو حالات حاضرہ کے پروگراموں کے میزبان ہیں…. انہیں آپ سیاسی میزبان کہہ سکتے ہیں…. عام طور پر ناکام صحافی ایسی میزبانی کیلئے نہایت موزوں ہوتے ہیں اور وہ اپنی صحافتی ناکامی کے بدلے گن گن کر اپنے شو میں آئے ہوئے سیاست دانوں سے لیتے ہیں…. اس نوعیت کی میزبانی کا سنہری اصول یہ ہے کہ آپ برسراقتدار پارٹی اور اپوزیشن کی پارٹیوں کے ارکان کو اپنے سامنے بٹھالیں اور ان سے صرف پوچھیں کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں….

آپ کا سوال ابھی ختم نہیں ہوگا کہ وہ مشترکہ طور پر غُل مچانے لگیں گے…. اپنی اپنی پارٹیوں کے حق میں دلائل کی بوچھاڑ کر دیں گے…. اور جب آپ انہیں صبر کی تلقین کریں گے تو وہ مزید سیخ پا ہو جائیں گے کہ میزبان صاحب آپ ہمیں اپنا نکتہ نظر بیان کرنے دیں…. میاں صاحب نے فرما دیا ہے….زرداری صاحب نے تو اعلان کر دیا ہے…. الطاف بھائی تو شروع دن سے کہتے چلے آئے ہیں…. اس دوران وہ آپ کی موجودگی بھول کر براہ راست ایک دوسرے سے مخاطب ہو جائیں گے اور ایک دوسرے کو بازاری عورتوں کی مانند طعنے دینے لگیں گے…. بلکہ یہاں تک کہہ دیں گے کہ چلو چلو میں تمہاری طرح کوٹھے سے اتر کر یا بیڈ روم کے راستے تو اقتدار میں نہیں آئی بے شک بعد میں وزیر اعظم معذرت کرتے پھریں….

یہ وہ لمحہ ہے جب آپ نے اپنی کرسی سے ٹیک لگا کر آرام سے بیٹھ جانا ہے، آپ نے چپ بیٹھے رہنا ہے، صرف کبھی کبھار اپنی عینک درست کرنی ہے اور ہاں ایک بیوقوفانہ سی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے رکھنا ہے…. آپ کے مہمان پورے پروگرام میں شور مچاتے رہیں گے، ایک دوسرے کے لتے لیتے رہیں گے اور اگر ان میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے تو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہیں گے…. اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کا پروگرام مزید ہنگامہ خیز ہو تو پروگرام کے آغاز سے پیشتر مہمانوں کی میز پر دوتین ایش ٹرے اور ایک دو گلدان بھی رکھ دیں…. تا کہ جب وہ طیش میں آجائیں تو جمہوری روایات کی پاسداری کرتے ہوئے یہ ایش ٹرے اور گلدان ایک دوسرے کی جانب اچھالتے جائیں

یعنی ایک دوسرے کے ” کھنے ” کھول دیں۔ جب پروگرام اختتام کو پہنچے تو آپ نے نہایت دکھ بھری شکل بنا کر کیمرے کی جانب دیکھتے ہوئے محب الوطنی اور قومی سلامتی کے حوالے سے ایک رقت آمیز تقریر کرنی ہے اور کہنا ہے کہ خواتین و حضرات کون کہتا ہے کہ ہم ایک زندہ قوم نہیں ہیں…. اپنے وطن کیلئے قربانی نہیں دے سکتے…. آج کے پروگرام میں ثابت ہو گیا ہے کہ ہمارے لیڈران کتنے پرجوش اور جذباتی ہیں…. یہ اپنے وطن کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں…. فی الحال مجھے اجازت دیجئے کیونکہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے کم از کم دو مہمانوں کو فرسٹ ایڈ کی ضرورت ہے، ان کی مرہم پٹی کروانے کیلئے مجھے ہسپتال بھی جانا ہے….خدا حافظ اور پاکستان زندہ باد….

ٹیلی ویژن میزبانوں کی دوسری قسم وہ ہے جس میں باورچی خانے کے سیٹ پر ایک صاحب اپنے قد سے دوگنا ایک سفید ٹوپ سا پہنے ہوئے بار بار سامنے رکھی خالی ہانڈیوں میں جھانکتے ہیں اور کہتے ہیں….واہ کیا کھانا ہے…. بس دو منٹ کے بعد تیار ہو جائے گا….یا پھر کوئی صاحبہ ہوتی ہے اور انہوں نے سر پر ریلوے کی قلی حضرات کی مانند ایک پگڑی سی باندھی ہوتی ہے اور وہ آپ کو آلو چھیلنے کے گرُ بتا رہی ہوتی ہیں….انہیں باورچی میزبان کہا جاتا ہے…. ایسی میزبانی کیلئے بھی کسی خاص تجربے یا صلاحیت کی ضرورت نہیں ہوتی….

بہت سے لوگ یہ گتھی سلجھانے میں ناکام رہے ہیں کہ بنیادی طور پر کھانا پکانا تو خواتین کا شعبہ ہے لیکن دنیا بھر میں جتنے بھی ہنرمند اور مشہور باورچی ہیں وہ سب کے سب مرد ہیں…. تو ایسا کیوں ہے…. اس کی ایک آسان سی وجہ ہے…. یہ وہ مرد ہوتے ہیں جن کی بیویاں انہیں ساری عمر بدمزہ اور جلی ہوئی خوراکیں کھلاتی ہیں چنانچہ وہ اتنے تنگ آتے ہیں کہ خود ہی کھانے پکانے لگتے ہیں…. اگر آپ ایک ایسے مرد ہیں جس کی بیوی نے ہمیشہ اسے بدذائقہ اور بیہودہ کھانے کھلائے ہیں تو آپ آسانی سے ایک میزبان باورچی بن سکتے ہیں….یوں پاکستان کا ہر مرد اس میزبانی کیلئے کوالی فائی کر جاتا ہے…. آپ نے پروگرام کے آغاز میں کسی اوٹ پٹانگ سی ڈش کا نام لینا ہے کہ جناب آج ہم یہ پکائیں گے….

مثلاً پاسٹا پوٹیٹو پاٹ لک…. پنیر پکوڑہ مکوزہ اٹالیانو ، گولاش گول گپ شپ، فش ٹائیں ٹائیں فش وغیرہ….اور پھر جو بھی الا بلا میز پر سجا ہو اسے دیگچیوں میں ڈال کر ان میں ڈوئی چلانے لگیں اور بار بار سُونگھ کر سر ہلائیں، پروگرام کو چٹخارے دار بنانے کیلئے کسی نخرے دار دوشیزہ کو کہیں کہ وہ ادھر ادھر مٹک مٹک کر چلتی پھرے یوں ناظرین اسے دیکھتے رہیں گے اور آپ من مانی کر سکیں گے (کھانے کے ساتھ) ڈش تیار ہو جائے تو اسے ایک پلیٹ میں انڈیل کر پھر سونگھیں اور آنکھیں بند کر کے سر ہلائیں کہ واہ کیا ڈش ہے لیکن اسے چکھنے سے اجتناب کریں اور اگر بہت ضروری ہو تو اُس باورچی خانے میں مٹکتی دوشیزہ کو ایک لقمہ کھلا دیں

اگر لقمہ حلق سے اترتے ہی دوشیزہ کا دم باہر آجائے اور وہ دھڑام سے فرش پر گر جائے تو فوری طور پر پروگرام کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہیں…. ناظرین غالباً مس شرمیلی ذائقے کی شدت کی وجہ سے بے ہوش ہو گئی ہیں…. میں انہیں ابھی لخلخہ سنگھاتا ہوں….اگلے پروگرام تک کیلئے خدا خافظ…. نوٹ : اگر لخلخہ میسر نہ ہو تو کچھ بھی سنگھا دیں….دوشیزہ ہوش میں آجائے گی (جاری ہے) اگر آپ فرمائیش کریں گے

مستنصر حسین تارڑ

میرے پسندیدہ :۔

زندگی کی پہلی تنہا عید مبارک

بے شک آپ کو کچھ حساب نہ ہو کہ کتنے روزے گزر چکے ہیں اور کتنے باقی رہ گئے ہیں لیکن اس کے باوجود آپ اپنے اردگرد ظاہر ہوتی ایسی علامتیں دیکھتے ہیں جن سے آپ جان جاتے ہیں کہ عید قریب ہے وہ خاکروب جوپچھلے ایک برس سے آپ کو نظر نہیں آیا وہ یکدم ظاہر ہو کر سڑک پر جھاڑو دینے لگتا ہے اور جونہی آپ قریب سے گزرتے ہیں تو وہ خوب دھول اڑا کر اپنی موجودگی کا ثبوت دیتاہے اور کہتا ہے ’’ سلام صاحب‘‘ وہ ڈاکیہ جس سے آپ کی ملاقات کم ہی ہوتی ہے وہ چاہے ایک بل لے کر آئے ‘ دروازے پر دستک دے کر اسے نہایت احترام سے آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے پوچھتا ہے‘ صاحب جی روزے کیسے چل رہے ہیں؟

گھریلو ملازم نہایت اہتمام سے گھر کی صفائی پر جت جاتے ہیں ایک ایش ٹرے کی نمائش کرتے ہوئے کہتے ہیں’’ لوجی میں نے چمکا چمکا کر اسے لش پش کر دیا ہے۔ خواجہ سرا آنے جانے لگتے ہیں‘ اور آپ روزانہ بینک جانے لگتے ہیں کہ جتنے پیسے نکلواتے ہیں وہ اس روز خرچ ہو جاتے ہیں چھوٹے بچے جو عام طورپر بہت بدتمیز ہوتے ہیں وہ آپ سے نہایت اخلاق سے پیش آنے لگتے ہیں… ان سب علامات سے ظاہر ہے کہ عید قریب آرہی ہے۔ پورے برس میں آپ کسی بھی دن حتمی طور پر نہیں جانتے کہ آج کیا ہوگا لیکن دونوں عیدوں پر آپ خوب جانتے ہیں کہ آج کیاہوگا…

عید کی سکرپٹ میں کوئی ردوبدل نہیں ہوتا‘ یہ وہ ڈرامہ ہے جس کے ہرمنظر سے آپ پہلے سے آگاہ ہوتے ہیں… اس کا آغاز ظاہر ہے عیدکی نماز کی ادائیگی سے ہوتا ہے‘ پھر آپ قبرستان جاتے ہیں‘ بزرگوں کی قبروں پر پھول چڑھا کر ذرا آبدیدہ ہو کر فاتحہ پڑھتے ہیں اور پھر گھر لوٹنے کے بعد دیگر مناظر شروع ہو جاتے ہیں یعنی وہی خوراک کی تیاری اور پھر عزیزوں اور دوستوں کا آناجانا وہ آپ کو اتنی مہلت نہیں دیتے کہ آپ ان کے ہاں چلے جائیں‘ وہ خود چلے آتے ہیں اور گئی رات تک چلے آتے ہیں…گھر کی گھنٹی مسلسل بجتی چلی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ٹیلی فون کی گھنٹی بھی شامل ہو کر عید کی سمفنی بجانے لگتی ہے۔

لیکن میری زندگی کی یہ پہلی عید ہے جو بقیہ تمام عیدوں سے یکسر مختلف ہے…یہ عید کی سکرپٹ کے مطابق بالکل نہیں ہے اورمجھے کچھ پتہ نہیں کہ عید کے روز کیا ہوگا اوراس کا سبب یہ ہے کہ میرے تینوں بچے محض اتفاق ہے کہ نیویارک اور اسکے آس پاس ہیں اور ان کی والدہ جو رشتے میں میری بیوی لگتی ہیں وہ بھی انہی کے پاس ہے…یوں یہ عید میں تنہا بسر کروں گا لیکن یہ مت قیاس کیجئے کہ میں اس تنہائی اوررجدائی سے رنجیدہ اوراداس ہو رہا ہوں ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ میں اس منفرد تجربے میں سے گزرنا چاہتا ہوں کہ دیکھتے ہیں ایک تنہا عید کیسی ہوتی ہے… اور میں رنجیدہ اس لئے نہیں ہوں کہ مجھ میں ایک اطمینان اور تسلی ہے کہ میرے بچے ماشاء اللہ جہاں بھی ہیں صحت مند ہیں اور اپنی زندگی سے خوش ہیں… اور ان کی جانب سے اللہ کرے کہ ہمیشہ ایسا ہی رہے کہ مجھے اچھی خبریں ملتی رہیں

میں عید کے روز ان کی تصویریں دیکھ کر اور ٹیلی فون پر ان کی آوازیں سن کر ہی خوش ہو جاؤنگا…اور اگر میرا پوتا یاشرفون پر صرف یہ کہہ دے کہ …دادا عید مبارک…. تو میری واقعی عید ہو جائے گی۔ ویسے میں یکسر تنہا تو نہیں‘ میرے برابر میں میرے دونوں بھائی رہائش رکھتے ہیں اور میری دونوں بھابھیوں نے میرے کان کھا مارے ہیں کہ بھائی جان عید کے روز آپ نے دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ کھانا ہے لیکن مجھے اس میں تامل ہے …اگرکسی ایک بھائی کے گھر کھانا کھاؤں تودوسرے بھائی کی بیگم ناراض ہو جائے گی کہ اچھا وہ ہم سے زیادہ پیارے ہیں…

علاوہ ازیں ایک اورتشویشناک پہلو بھی سامنے آرہا ہے کہ ایک بھائی کے بال بچوں نے ڈیکلیئر کر دیا ہے کہ بابا جان اگر آپ عید کے روز ہمارے ہاں کھانے کے لئے نہیں آئینگے تو ہم کھانا اٹھا کر آپ کے ہاں آجائینگے اورسب مل کر کھائینگے… اوریہ صورتحال تو بہت خوفناک ہوگی… بعدمیں سارے برتن مجھے دھونے پڑیں گے…بیگم کی غیر موجودگی کے دوران عام طورپر اور ان دنوں خصوصی طور پر یار لوگ مجھ پر بہت ترس کھا رہے ہیں کہ ہائے ہائے عیداکیلے کرو گے… سویاں میں لے کر آجاؤں گا…کھانا میں پہنچاؤں گا ‘ اب میں ان کی منت سماجت بھی کرتا ہوں کہ آپ کی محبت کا شکریہ… گھر میں طوطا نام کی ایک ملازمہ موجود ہے وہ کچھ کھا پکا لے گی یقین کیجئے میں بھوکا نہیں رہوں گا

یہ جو طوطا ہے اسکا اصل نام طاہرہ ہے لیکن اتنابولتی ہے کہ سب لوگ پیار سے اسے طوطا کہتے ہیں… بلکہ ان دنوں جب میں سبزی والے سے سبزی خریدتا ہوں تو کہتا ہوں کہ بھئی گھر میں اور کوئی نہیں تو کیا گوبھی کا یہ پھول میرے اور طوطا کے لئے کافی ہوگا تو وہ حیران ہو کر کہتاہے کہ تارڑ صاحب آپکا طوطا گوبھی کھاتاہے اور میں ہنس کرکہتا ہوں ہاں یہ والا طوطا نہ صرف گوبھی کھاتا ہے بلکہ بھنڈیاں ‘ کریلے اورمٹر پلاؤ بھی بہت شوق سے کھاتا ہے… میں نے اپنی زندگی میں کچھ عجیب اور دلچسپ عیدیں بھی گزاری ہیں ان میں سے ایک تقریباً پچاس برس پیشتر نوٹنگھم انگلستان میں گزاری تھی

میں پاکستان سے کم از کم ایک شلوار اپنے ساتھ لے گیاتھا تاکہ عید کے روز پہنی جا سکے…عید سے چند روز پیشتر میں اسے مقامی دھوبی یا ڈرائی کلینر کے پاس لے گیا اور اس سے درخواست کی کہ اسے سٹارچ لگا دے جس طرح ہمارے ہاں مایا لگاکر شلوار اکڑاتے ہیں… اس غریب انگریز کی سمجھ میں نہ آیاکہ یہ کیسا پہناوا ہے…بہر حال جب میں دو تین روز بعد شلوار وصول کرنے کیلئے گیا تو کیا دیکھتاہوں کہ اندر سے سفید رنگ کی ایک شے جو کھیتوں میں پرندوں کو ڈرانے والے بڈاوے کی مانند بازو پھیلائے ہوئے تھی چلی آرہی ہے شلوارتہہ نہیں کی گئی تھی بلکہ اسے پھیلا کر اکڑا دیا گیا تھا…بہر طور قصہ مختصرعید کے روز یہ کھڑکھڑاتی شلوارپہنی قمیض پر ایک نیلا بلیزر زیب تن کیا

نماز پڑھی اور سیر سپاٹے کے لئے نوٹنگھم کے سنٹرتک چلاگیا…میں وہاں کھڑاتھا کہ ایک بوبی یا سپاہی آگیا اور میری شلوار کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا ’’سر‘‘ آپ نائٹ سوٹ پہن کرپبلک میں چلے آئے ہیں جو کہ نہایت معیوب بات ہے…لوگ اعتراض کریں گے براہ کرم گھر واپس جاکر مناسب لباس پہن کر آیئے‘ان دنوں ابھی انگریز صاحب بہادرپاکستانیوں کی دھوتیوں اور شلواروں سے شناسا نہیں ہوئے تھے اور ہمارے لباس کو نائٹ سوٹ قرار دیتے تھے۔ بے شک مجھے طمانیت ہے… ایک سکون ہے کہ میرے بچے نیو یارک میں خوش و خرم ہیں ماشاء اللہ صحت مند ہیں اور ان کی جانب سے اچھی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن اس کے باوجود اس تنہا عید میں ایک اداسی تو ہوگی…اس کاکچھ مداوا نہیں…

البتہ یہ اداسی قدرے کم تب ہوگی جب میں عید کی نماز کے بعد گلبرگ کے قبرستان میں دفن اپنے ماں باپ کی قبروں پر جاؤں گا…ان پر پھول چڑھاؤں گا اور ان سے کچھ باتیں کرونگا اور ان سے درخواست کرونگا کہ وہ میرے لئے دعا کرتے رہیں… ان کی دعاؤں کی برکت سے مجھے اس جہاں میں سب کامیابیاں ملی ہیں۔ آپ سب کو تنہا عید کرتے ایک شخص کی جانب سے بہت بہت عید مبارک۔