تحارير برائے زمرہ: 'تصویریں بولتی ہیں' ...

پیار کا دھوکا

پھر سے پیار کا دھوکا کھایا جا سکتا تھا
دل کا کیا ہے دل تو بہلایا جا سکتا تھا

کیوں واپس نہ آیا جا کر وہ جانے
لیکن اس کے پاس تو جایا جا سکتا تھا

گر نہ ہوتا موم کی صورت دل اپنا
غم کے سورج سے ٹکرایا جا سکتا تھا

ایک تمھارا ساتھ اگر مل جاتا تو
ساری دنیا کو ٹھکرایا جا سکتا تھا

لوگوں نے مجرم ٹھرایا مان لیا
آخر کس کس کو سمجھایا جا سکتا تھا

 

لے ڈوبا جب آنکھوں کو طوفان بتول
کیسے دل کا شہر بچایا جا سکتا تھا

شاعرہ ” فاخرہ بتول ”
سلیکشن ” کامی “

آج کا عربی

کل کا عرب

گھوڑا ۔ ۔ ۔ ۔ تلوار۔ ۔ ۔ ۔ قرآن ۔ ۔ ۔ ۔

آج کا عرب

گاڑی۔ ۔ ۔ ۔ موبائل۔ ۔ ۔ ۔ لیپ ٹاپ

دور سنہرا ہے

شہروں شہروں دیس میں خوف کا پہرہ ہے

کہتی ہے سرکار یہ دور سنہرا ہے

 

کچھ بھی تو تبدیل نہیں ہو پایا ہے

گونگی ہے جنتا یا حاکم بہرہ ہے

 

کب تک قید کرو گے سورج سوچو تو

برف کا تاج و تخت کہاں کب ٹھہرا ہے

 

عدل تو گھر کی باندی ہے اس شاہوں کی

موت کے بعد سنا ہے ایک کٹہرا ہے

 

دھرتی کو سب وید بہت نادان ملے

زخم تو ہے لیکن کب اتنا گہرا ہے

 


۔۔۔۔۔۔۔شاعر عامربن علی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں اب ٹھیک ہوں

 

 

الحمداللہ
آپ سب کی دعاوں کا شکریہ

 

آپ سب کی محبت، شفقت، چاہت کا شکریہ۔اللہ آپ سب کے ننھے منھے پھولوں کو سلامت رکھے۔میں نے دوبارہ شرارتیں شروع کر دی ہیں۔مگر ابھی مجھے تین دن تک” آئی” ہو گی یعنی ٹیکے صبح شام لگتے رہیں گے ۔سب اپنا اور اپنے بچوں کا خیال رکھیں ورنہ میری طرح “آئی ” ہو گی۔

میری بیٹی سے ملیں

میرے رب کی ہوئی رحمت

اولاد اللہ کی عظیم نعمت ہے۔ بیٹا برکت اور بیٹی اللہ کی رحمت ہے اور یہ برکت اور رحمت پچھلے سال ہم پر ہوئی۔چھوٹے بھائی ذی شان کو اللہ نے بیٹااور مجھ کو بیٹی عطا فرمائی۔اب زرہ جناب ان کا تعارف ہو جائے ۔شان صاحب کے بیٹے کا نام حارث علی شان ہے۔پیدائش پچھلے سال اکتوبر کی ہے ۔ میری بیٹی کا نام فائحہ فریال ہے۔ پچھلے دسمبر میں اسکی پیدائش ہوئی۔جس دن پیدا ہوئی وہ حج کا دن تھا اس لیے اسکو حاجن بھی کہتے ہیں۔ اسکی پیدائش کا وقت صبح فجر کاہے۔ میری ساری خوشیاں اب اس سے ہیں۔ اللہ ان کو نیک اور ماں باپ کا فرمانبردار بنائے۔اللہ مجھے ہمت دے کے میں اسکی پرورش اور تربیت صحیح طریقے سے کر سکوں۔ آپ کی دعاوں کے منتظر ۔

 

نماز کی تیاری کرتے ہوئے

 

شاپنگ کے موڈ میں

 

شرارتیں

 

سمائل پلیز

 

کمپیوٹر میں خاص دلچسپی رکھتیں ہیں

Untitled-4101

اپنے ہم عمر کزن حارث علی شان کے ساتھ شرارتیں

بلا عنوان

یہ ریشم  یہ  لباس حکمرانی جل اٹھے گا
وہ ظلمت ہے کہ آخر کار پانی جل اٹھے گا

FP_n19p2-06

تعلیم و تربیت

سبق پھر پڑھ چوہدری صداقت کا چوہدری شجاعت کا

رمضان اور بلا اجازت کسی کے گھر سے چوری یہ تربیت لیکر نکلے ہیں سکول سے بقول قدوس یہ مستقبل کے سیاسی لیڈر ہیں

ناچتی بھوک

بھوکی ہے زمین بھوک اگلتی ہی رہے گی

یہ بھوک میرے پیٹ میں پلتی ہی رہے گی

att00161ln5

ہستی کے اجڑنے کا بھلا دکھ مجھے کیوں ہو

یہ ٹھوکریں کھا کھا کے سنبھلتی ہی رہے گی 

fp-05

جیون بھی میرا دشت ہے مسکن بھی میرا دشت

ہونٹوں  پے  میرے  پیاس  مچلتی  ہی رہے گی

bp-040

چہرے نئے انداز نئے طور نئے  ہیں

دنیا ہے یہ سو رنگ بدلتی ہی رہے گی

p3-03

دل میں نہیں اب پاس رہا چین سکوں کا

اک  آگ سی دل میں  ابلتی ہی  رہے  گی

p3-06

مزکور  کریں  کیا   دل   مجبور   کا   ناقد

اک ہوک ہے سینے سے نکلتی ہی رہے گی

 …….شاعر جناب شبیر ناقد صاحب…….

7ستمبر یوم فضائیہ

6 ستمبر یوم دفاع

 کچھ کھٹی کچھ میٹھی یادیں شیئر کریں

Pak-Indo Wars 1965-1971-1999

A declassified US State Department letter that confirms the existence of hundreds of "infiltrators" in the Indian state of Jammu and Kashmir. Dated during the events running up to the 1965 war

Lt. Col. Hari Singh of the India's 18th Cavalry posing outside a captured Pakistani police station (Barkee) in Lahore District

The F-86 was the prime strike fighter of the PAF

Tanks of 18th Cavalry (Indian Army) on the move during the 1965 Indo-Pak War

Pakistani soldiers during the Battle of Chawinda. Brigadier A.A.K. Niazi, (3rd from left) observing a map

This picture was taken during the 1965 Indo-Pak War when the Indian Army captured the Ichhogil Canal after capturing the village of Barkee. Behind the picture it was written: 1965 ICHHOGIL CANAL (PAKISTAN) THE MILE STONE READS LAHORE 14 MILES

Masjid 1965

1965-war-pakistan09.jpg

Lt. Gen A. A. K. Niazi of Pakistan signs the instrument of surrender on December 16, surrendering his forces to Lt. Gen Jagjit Singh Aurora of Indian army.

Pakistan's PNS Ghazi, was the only submarine operated by either of the warring nations in 1965. The Ghazi sank off the fairway buoy of Visakhapatnam near the eastern coast of India under unclear circumstances during the 1971 war, making it the first submarine casualty in the waters around the Indian subcontinent

An Indian newspaper cover (1971

The image above is proposed for deletion. See files for deletion to help reach a consensus on what to do.

battle_of_tanks_1965_dead_bodies.jpg

The town of Kargil is strategically located.

The tail of an Indian air force MiG-21 fighter shot down by a Pakistani missile. The pilot Squadron Leader Ajay Ahuja was killed.

یا اللہ مدد

بولنے اور لکھنے پر تو پابندی ہو سکتی ہے مگر پڑھنے اور دیکھنے پر تو نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیراز احمد کی اس تصویر پر سنجیدہ کمنٹس دیں ۔

ُُبے نظیر کا دبئی والا گھر

یہ تصویرآخری بار پاکستان جانے سے پہلے کی ہے۔ اس تصویر کو بڑا کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔