تحارير برائے زمرہ: 'دین اسلام اور دنیا' ...

جادو اور جادوگری

سورۃ النَّاس
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

کہہ دو میں لوگوں کے رب کی پناہ میں آیا (۱) لوگوں کے بادشاہ کی (۲) لوگوں کے معبود کی (۳) اس شیطان کے شر سے جووسوسہ ڈال کر چھپ جاتا ہے (۴) جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے (۵) جنوں اور انسانوں میں سے (۶ 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ :۔
بنو زریق کے لبید اعصم نامی ایک یہودی نے نبی صل اللہ علیہ وسلم پر جادو کردیا۔آپ نبی صل اللہ علیہ وسلم کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ نبی صل اللہ علیہ وسلم کچھ کر رہے ہیں حالانکہ آپ نبی صل اللہ علیہ وسلم کچھ نہیں کرتے تھے۔
ایک دن کی بات ہے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے کئی مرتبہ دعا فرمائی پھر فرمایا :۔ عائشہ ! کیا تم جانتی ہو ؟ کہ میں نے اللہ سے جس معاملے میں دعا کی تھی اس نے میری دعا کو قبول فرما لیا ہے۔ میرے پاس دو آدمی آئے ایک میرے سرھانے بیٹھا اور دوسرا پائینتی۔سرھانے والے نے پا ئینتی والے سے یا پائینتی والے نے سرھانے والے سے کہا :۔
اس شخص کو کون سی بیماری ہے ؟
دوسرے نے کہا اس پر جادو کا اثر ہے۔
اس نے کہا :۔اس پر کس نے جادو کیا ؟
دوسرے نے کہا :۔لبید بن اعصم نے۔
اس نے کہا:۔ کس چیز میں ؟
دوسرے نے کہا:۔ کنگھی کے بالوں اور کھجور کے کھوکھلے شگوفے میں۔
اس نے کہا:۔یہ کہاں ہیں ؟
دوسرے نے کہا:۔ذی اروان کے کنویں میں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں :۔ نبی صل اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ ساتھیوں کو لیکر اس کنویں کے پاس گئے اور اس کو دیکھا پھر آپ نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔اے عائشہ ! (رضی اللہ عنہ) اس کنویں کا پانی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس میں مہندی آمیزہ ہو اس کا کھجور کا درخت ایسا لگتا تھا گویا شیطانوں کے سر ہوں۔عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں میں نے کہا:۔ آپ نے اس کو ( بال اور کھجور کا شگوفہ جس میں جادو کیا گیا تھا ) کیوں نہیں جلا ڈالا گیا ؟ آپ نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔نہیں مجھے تو اللہ نے شفاء دے دی میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کردوں اس لیے اس کو دفن کروا دیا۔(بخاری۔مسلم)
اس واقعہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نبی صل اللہ علیہ وسلم پر جادو کے اثر سے آپ کی نبوت و رسالت میں بھی التباس پیدا ہوا ہو کیونکہ جادو کا اثر آپ نبی صل اللہ علیہ وسلم کے دل اور دماغ تک نہیں‌پہنچ سکا تھا۔دوسری بیماریوں کی طرح یہ بھی اک بیماری تھی جو آپ کو لگ گئ تھی ۔

حکمرانی احادیث میں

حکمرانی کھیل نہیں ذمہ داری ہے

معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔

” کوئی بھی بندہ جسے اللہ تعالیٰ کسی رعیت کا حاکم بنا دے اسے جس دن موت آئے وہ اس حال میں مرے کہ اپنی رعیت کو دھوکا دینے والا ہو تو اللہ اس بندے پر جنت حرام کر دیتا ہے ۔” ( متفق علیہ )

(بخاری7150 مسلم الایمان142 تحفقہ الاشراف 464/8 -461/8 )

بلوغ المرام میں مذکور الفاظ مسلم کی ایک روایت کے ہیں کہ فرمایا:۔

” جو کوئی امیر مسلمانوں کی حکومت کا والی بنے انکے ساتھ نہ پوری کوشش کرے نہ ان کی خیر خواہی کرے تو وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ ”

(مسلم الاایمان 63 )

مسلم کی ہی دوسری روایت میں ہے :۔

“( لم یدخل معھم الجنۃ )اپنی رعایت کی خیر خواہی نہ کرنے والا انکے ساتھ جنت میں نہیں جائے گا ”

رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔

” سات آدمیوں کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اسکے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا۔ ان میں سب سے پہلا شخص امام عادل ہے۔ ”

(بخاری- الاذان 36 )

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔

” انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں رحمان عزوجل کے دائیں ہاتھ نور کے ممبروں پر ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو فیصلے میں عدل کرتے ہیں اور اپنے گھر والوں میں اور جس کے بھی ذمہ دار ہیں عدل کرتے ہیں ۔”

(مسلم الامارۃ 18)

عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔

” اے اللہ جو شخص میری امت کے کاموں میں سے کسی چیز کا ذمہ دار بنا پھر اس نے ان پر مشقت ڈالی تو تو اس پر مشقت ڈال ”

(مسلم الامارۃ 19 -تحفقہ الاشراف 477/11 )

حضرت علی کرم اللہ وجہہ

کرم اللہ وجہہ الکریم شیر خدا باب العلم ابو الحسن علی بن ابی طالب

 

 

آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علی رضی اللہ عنہ مجھ سے اور میں صلیٰ اللہ علیہ وسلم علی رضی اللہ عنہ سے ہوں۔

imamaliwiladat07ci7

سب سے پہلے توحید اور رسالت کی شہادت دینے والے۔
حضرت خدیجہ کے بعد سب سے پہلے مسلمان ہونے والے۔
سب سے پہلے دعوت حق پر لبیک کہنے والے۔
سب سے پہلے اللہ کے رسول کے ساتھ نماز پڑھنے والے۔
ہر جنگ میں علم رسول ساتھ رکھنے والے۔
یوم احد میں آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہنے والے۔
آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے والے۔
آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو قبر مبارک میں اتارنے والے۔

آپ رضی اللہ عنہ کے والد نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا ! بیٹے یہ تم نے کیسا دین اختیار کیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا! اے میرے باپ!میں رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا ہوں جو کچھ وہ لیکر آئے ہیں۔ اسکی تصدیق کرتا ہوں۔اللہ کے لیے انکے ساتھ نماز پڑھتا ہوں۔جناب ابو طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا! وہ تم کو خیر کی طرف ہی بلائیں گے ۔ انکے ساتھ مظبوطی سے جمے رہو۔
حضرت امہ سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں! کہ جب نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم غصے میں ہوتے تو کسی کو بات کرنے کی جرات نہ ہوتی۔سوائے علی ابن طالب کے
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیاعلی رضی اللہ عنہ کیسے آدمی تھے۔جواب میں فرمایا ” انکا پیٹ علم ، حکمت ، خوف خدا اور بزرگی سے بھرا ہوا تھا۔
سعید بن مسیب اور ابو عمر دونوں کہتے ہیں!اصحاب رسول میں سے علی رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی ایسا نہیں تھا جو یہ کہ سکے ” مجھ سے پوچھو ” وہ ہر سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہوتے تھے ۔
امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے! حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں! ” اگر میرے لیے مسند بچھائی جائے اور میں اس پر بیٹھوں تو اھل تورات کے لیے انکی تورات ، اھل انجیل کے لیے انکی انجیل ، اھل زبور کے لیے انکی زبور اور اھل قرآن کے لیے انکے قرآن سے فیصلہ کر دوں ۔
ابن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں! کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا ہے ” کوئی ایسی آیت نہیں کہ
میں نہ جانتا ہوں
وہ کس امر میں اتری
کہاں اتری
کس پر اتری
خدا نے مجھے دل داناں اور زبان ناطق عطا فرمائی ہے۔

جنگ بدر ، احد ، خندق اور خیبر کے میدان کارزار آج بھی آپ کی بہادری اور شجاعت کی داد دے رہے ہیں۔جو بھی شیر خدا کے مقابل ہوا قتل ہوا۔

نہ شد فصلے بروز کارزارش
زعزرائیل و ضرب ذوالفقارش

صرف دو مقابل بچ نکلے تھے ۔
ایک اپنی پشت برھنہ کر کے بھاگا تھااور آپ رضی اللہ عنہ نے مسکرا کر اپنا منہ پھیر لیا اور دوسرے نے آپ رضی اللہ عنہ کے چہرہ مبارک پر تھوک دیا آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار نیام میں کر لی کہ مباداعمل فی سبیل اللہ میں ذاتی رنج اور غصہ کی وجہ سے خلل آ جائے ۔
آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! پہلی امتوں کا سب سے بڑا شقی( بدبخت) قدار بن سالف جس کا تعلق قوم ثمود سے تھا۔اس نے اللہ تعالیٰ کی نشانی ناقہ مبارکہ کی ٹانگیں کاٹ دیں تھیں۔اس امت کا سب سے بڑا شقی وہ شخص ہو گا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سر کے خون سے انکی داڑھی کو رنگین کرے گااور انکو شہید کرے گا۔اس بدبخت شخص عبدالرحمن بن ملجم نے جس کا تعلق خوارج سے تھا 17 یا 18 رمضان کی صبح نماز کے وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ضرب شدید لگائی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زبان سے نکلا ” رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا ”
اسلام کا یہ عظیم بطل جلیل اور امت مسلمہ کا یہ عظیم محسن 21 رمضان سنہ 40 ھجری کو اپنے معبود حقیقی کی بارگاہ میں پہنچ گیا۔

انا للہ وانا الیہ راجعون

الشيخ مشاري بن راشد العفاسي‎

 قرآن اپنے آپ میں ایک عظیم کتاب ہے۔اس کی تلاوت تو باعث ثواب ہے ہی۔اسکا سننا بھی باعث ثواب ہے۔عظیم قاری حضرات جن میں قاری عبدالباسط الصمد ،امام کعبہ سدیس اور شیخ شریم قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو زمین کے ساتھ ساتھ آسمان بھی جھوم اٹھتا ہے۔ویسے تو دنیا بھر میں کافی قاری حضرات نے قرآن کی تلاوت سے شہرت پائی مگر آج کل جو ایک ہستی سامنے آئی ہے انکا نام الشيخ مشاري بن راشد العفاسي‎ ہے۔انکا تعلق کویت سے ہے۔انکے بارے میں مذید معلومات اس ربط سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔http://en.wikipedia.org/wiki/Mishary_Rashid_Al-Afasy
الشيخ مشاري بن راشد العفاسي‎ کی آواز میں سورۃ الناس کی تلاوت۔

YouTube Preview Image

اگر آپ انکی اپنی ویب سائٹ وزٹ کرنا چاہیں تو اسکا ایڈریس یہ ہے۔
http://alafasy.tripod.com
جہاں آپ انکی تلاوت سن اور ڈاون لوڈ کر سکتے ہیں۔انکی تصاویر دیکھ سکتے ہیں۔انکی دعائیں اور خطاب سن سکتے ہیں۔
اگر آپ تلاوت کے شوقین ہیں تو قاری شیخ سعید الغامدی کو بھی سن سکتے ہیں۔
http://alghamidy.tripod.com/

فائدہ مند سائیٹ

قرآن ایکسپلورر ڈاٹ کام Quran explorer.com

QuranExplorerLogo

۔: خصوصیات

1۔آن لائن صرف قرآن کی تلاوت سنیے یا انگلش اور اردو ترجمہ کے ساتھ ۔
2۔ ۔آٹھ زبانوں میں ترجمہ کی سہولت ۔
ڈچ ۔ انگلش ۔ فرینچ ۔ انڈونیشیاء ۔ ملائشیاء ۔ سپینش ۔ ترکی ۔ اردو
3۔انڈو پاک اور عثمانی سکرپٹ ۔
4۔سورۃ ، آیت ٹو آیت ، جز ، کی سہولت ۔
5۔سات مایہ ناز انٹر نیشنل قاری حضرات ۔
قاری عبدالباسط ۔ سدیس ۔ شریم – خلیل حصری ۔ مصری راشد ۔ سعد الغامدی ۔ شیخ احمد عجمی ۔ شیخ الحزیفی ۔
6۔تجوید کی سہولت مختلف کلر کے ساتھ ۔
7۔قرآن اور سائنس کا بیان ۔
8۔تمام موضوعات کا علیحدہ علیحدہ بیان ۔
9۔خوبصورت اور سادہ لے آوٹ ۔
10۔تفسیر اور سرچ کی سہولت ۔
11۔بک مارک کی سہولت ۔
12۔زومنگ کی سہولت ۔
13۔ کسی ڈائون لوڈنگ کی ضرورت نہیں ۔

خاموشی دانائی ہے

اسلام علیکم۔۔
رمضان کا بابرکت مہینہ گزرتا جا رہا ہے ۔نیکیاں کمانے والے کمارہے ہیں ۔لڑنے والے لڑرہے ہیں اس ماہ مبارک میں بھی ہم فضول قسم کی بحث میں پڑے ہیں۔ میرا اشارہ ملکی حالات کی طرف ہے ۔ٹاک شو پر چرب زبانی اور جھوٹ کی تشہیر دیکھ کر مجھے بنی کریم کی باتیں یاد آگئیں کہ خاموشی بھی دانائی ہے ۔حدیث مبارکہ ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خاموشی دانائی ہے اور اسے ( اختیار ) کرنے والے کم ہیں “۔
( اسے بیہقی نے شعیب الایمان میں سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور صحیح یہ بات قرار دی ہے کہ یہ لقمان کا قول ہے جو (انس رضی اللہ عنہ) پر موقوف ہے )
تخریج :۔(ضعیف)شعب الایمان للبیہقی (5027) البانی نے اسے ضعیف الجامع الصغیر (3557) میں ذکر کیا ہے ۔شعیب الاایمان میں مجھے جو الفاظ ملے ہیں یہ ہیں ۔(الصمت حکم و قلیل فاعلہ)
زین الدین عراقی نے احادیث احیاء العلوم کی تخریج میں فرمایا کہ بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابن حبان نے روضۃ العقلاء میں انس رضی اللہ عنہ تک صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ یہ لقمان حکیم کا ہی قول ہے ۔(توضیح)
شعیب الایمان (5026) میں اس کا سبب یہ بیان ہوا ہے کہ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔کہ لقمان رحمۃ اللہ علیہ داود علیہ السلام کے پاس تھے اور داود علیہ السلام ہاتھوں کے ساتھ زرہ بن رہے تھے لقمان کو انہیں دیکھ کر تعجب ہو رہا تھا اور ارادہ بن رہا تھا کہ ان سے پوچھیں مگر ان کی دانائی پوچھنے سے مانع تھی ۔جب داود علیہ السلام زرہ بن چکے تو اپنے جسم پر پہن کر فرمانے لگے لڑائی کے لیے یہ قمیض اچھی ہے ۔لقمان نے فرمایا خاموشی دانائی سے ہے اور اسے اختیار کرنے والے کم ہیں ۔میرا ارادہ آپ سے پوچھنے کا تھا مگر میں‌خاموش رھا یہاں تک آپ نے خود مجھے بتا دیا۔
یہ حکایت حدیث نبوی سے ثابت نہیں ہے البتہ انس رضی اللہ عنہ کا قول ہے جس میں انہوں نے لقمان حکیم کا مقولہ ذکر فرمایا ہے ۔اب آگے انس رضی اللہ عنہ تک لقمان حکیم کی یہ بات کیسے پہنچی اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔
یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے مگر خاموشی کی تعریف کئی احادیث میں کی گئی ہے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ (ق-18)
آدمی جو بات بھی منہ سے بولتا ہے اس کے پاس ایک تیار نگہبان موجود ہوتا ہے ۔
رسول صلی اللہ علیہ وسلم :۔ جو خاموش رہ گیا وہ نجات پا گیا ۔
(ترمذی عن عبداللہ بن عمرو – سلسلۃ احادیث الصحیحۃ 536)
خاموشی سے مراد ایسی باتوں سے پرہیز جن کا کوئی فائدہ نہیں ۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ” نجات کیا ہے ؟ ”
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔ اپنی زبان اپنے آپ پر روک کر رکھ ۔
(صحیح الترمزی-1961 -باب حفظ اللسان
)
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔ جو شخص مجھے اس چیز کی ضمانت دے جو اس کے دو جبڑوں اور دو ٹانگوں کے درمیان ہے ۔(یعنی زبان اور شرمگاہ)میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔ (بخاری-6474،6807)
معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ” کیا ہم جو کچھ کہتے ہیں اس پر بھی ہمیں مواخذہ ہو گا ” تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تمھاری ماں تمھیں گم کرے زبان کی کاٹی ہوئی باتوں کے علاوہ لوگوں کو نتھنوں کے بل آگ میں کون سی چیز گرائے گی ” ( صحیح الترمذی 2110)
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے ۔
(صحیح البخاری -6138،6475)
زبان کی آفات شمار سے باہر ہیں باطل اور گندے کاموں پر چل پڑی تو اللہ کی نافرمانیوں کا تزکرہ مزر لے لے کر بیان کرے گی۔معشوقوں سے ملاقات اور گناہ کی مجلسوں کے تذکرے ،زنا کے قصے، نافرمانوں کی باتیں، بدکاروں کی گھاتیں ، دولتمندوں کی فضول خرچیاں، ظالم اور جابر لوگوں کی چیرہ دستیاں ، ان کے مذموم حالات اور رسم و رواج خوبصورت بنا کر بیان کرے گی۔
غیبت ، چغلی ، دنگا ، فساد ، ٹھٹھا ، مذاق ، گالی گلوچ ، بدزبانی ، جھوٹ ، کفراور بدعہدی سب زبان کی آفات ہیں۔
خاموشی نجات کا باعث ہے ۔لیکن مکمل خاموشی اور چپ کا روزہ رکھنا بھی حرام ہے ۔تلاوت ، ذکر ، تعلیم و تعلم ، امر بالمعروف ، نہی عن المنکر ، اھل و عیال اور دوستوں سے خوش کلامی سب اسی کے ذریعے سر انجام پاتے ہیں ۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے دیکھا ایک آدمی کھڑا ہے تو آپ نے اس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتایا یہ ابو اسرائیل ہے اس نے نذر مانی ہے کہ وہ کھڑا ہی رہے گا نہ بیٹھے گا نہ سائے میں جائے گا نہ ہی بات کرے گا اور یہ کہ وہ روزہ رکھے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کہو کہ بات کرے سائے میں چلا جائے بیٹھ جائے ہاں روزہ پورا کر لے ۔ (صحیح البخاری 6704)
اس معلوم ہوا کہ خاموش رہنے کی نزر بھی مان لی ہو تو پوری کرنی جائز نہیں ۔

(شرح کتاب الجامع بلوغ المرام من ادلۃ الا حکام )
(مصنف حافظ ابن حجر العسقلانی رحمۃ اللہ علیہ )
(مترجم استاد عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ)
انسان خطا کا پتلا ہے غلطی دیکھیں تو اس کی نشاندہی کریں ۔

جلد بازی کی سزاء

ہم نے دیکھا ہے کس طرح لوگ مسجد میں اگلی صف پانے کے لئے جدوجہد کرتے ہیں چاہے آئے سب سے آخر میں ہوں ۔ ہر بندے کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ پہلی صف میں ہی ہو ۔اس کوشش کے لئے پہلے سے موجود حضرات کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ بھی ہم سب کو معلوم ہے ۔جس طرح نمازیوں کے سروں سے پھلانگ پھلانگ کر رستہ بنایا جاتا ہے ۔حالاں کہ اس بارے میں بھی منع کیا گیا ہے کہ کسی کو اس کی جگہ سے مت اٹھاو اور اسکی جگہ پر مت بیٹھو ۔
اسی طرح نماز ختم ہونے کے بعد یہی حضرات سب سے پہلے مسجد کو چھوڑنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے یہ نہ کسی کی نماز کی پرواہ کرتے ہیں نہ ہی ان کو اس گناہ کا پتا ہوتا ہے جو وہ کرتے جاتے ہیں نہ ہی ہمارے مولوی حضرات انکو اس بات سے منع کرتے ہیں اگر کوئی کوشش کر بھی لے تو واپسی میں بہت کچھ سننا پڑجاتا ہے ۔
پیش ہیں چند احادیث جن کو پڑھ کر آپ کبھی یہ حرکت نہیں کریں گے ۔ امید ہے

۔۔۔ سزاء کیا ہے ۔۔۔

رسول اللہ نے فرمایا:۔اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو گزرنے کی سزا معلوم ہو جائے تو ایک قدم آگے بڑھنے کی بجائے چالیس تک وہاں کھڑا رہے ۔ابو النصر نے کہا کہ مجھے یاد نہیں رہا کہ بسر بن سعید نے چالیس دن کہے یا چالیس سال یا چالیس مہینے یا چالیس سال ۔(بخاری،الصلاۃ،باب اثم المار بین یدی المصلی ،510،مسلم ،الصلاۃ، باب منع الماربین یدی المصلی 508 )

۔۔۔احادیث ۔۔۔

1۔ رُسول اللہ نے فرمایا :۔ تم نماز ادا کرتے وقت آگے سترہ کھڑا کیا کرو اگر کوئی شخص سترہ کے اندر یعنی نمازی اور سترہ کے درمیان سے گزرنا چاہے تو اسکی مزاحمت کرو اور اسکو آگے سے نہ گزرنے دو اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑائی کرو “بے شک وہ شیطان ہے ” (بخاری ،الصلاۃ،باب یردالمصلی من مربین یدیہ ،509،505)
2۔ایک روایت میں ہے کہ دو بار اسکو ہاتھوں سے روکو اگر وہ نہ رکے تو اس سے ہاتھا پائی سے بھی گریز نہ کیا جائے کیونکہ وہ شیطان ہے ۔(ابن خزیمہ 818)
اللہ کے رسول اپنے اور سترہ کے درمیان میں سے کسی چیز کو گزرنے نہیں دیتے تھے ۔
3۔ایک دفعہ آپ نماز ادا فرمارہے تھے کہ بکری دوڑتی ہوئی آئی وہ آپ کے آگے سے گزرنا چاہتی تھی آپ نے اپنا بطن مبارک دیوار کے ساتھ لگا دیا تو بکری کو سترہ کے پیچھے سے گزرنا پڑا ۔رسول اللہ کی جائے نماز اور دیوار کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کا فاصلہ ہوتا تھا ۔(بخاری،الصلاۃ،باب قدر کم ینبغی ان یکون بین المصلی والسترہ796،805)
4۔رسول اللہ نے فرمایا اگر نمازی کے آگے اونٹ کے پالان کی پچھلی لکڑی جتنا لمبا سترہ نہ ہو اور بالغ عورت ،گدھا یا سیاہ کتا آگے سے گزر جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے اور سیاہ کتا شیطان ہے ۔(مسلم،الصلاۃ،باب قدر ما یستر المصلی510)
5۔حضرت عائیشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ میں اللہ کے رسول کے آگے سوئی ہوئی تھی میرے پاوں آپ کے سامنے ہوتے تھے۔ جب آپ سجدہ کرتے تو میں پاوں سمیٹ لیتی اور جس وقت آپ کھڑے ہوتے تو میں پاوں پھیلا دیتی ۔ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں‌ہوتے تھے ۔معلوم ہوا کہ گزرنا منع ہے لیکن آگے کوئی لیٹا ہو تو کوئی حرج نہیں ۔(بخاری،الصلاۃ باب التطوع خلف المراۃ 513،مسلم الصلاۃ باب الا عتراض بین یدی المصلی،512 )
6۔سترہ ایک ہاتھ یا اس سے ذ یادہ لمبی لکڑی ہوتی ہے ۔(ابوداود،الصلاۃ، باب ما یستر المصلی ،686،اسے ابن خذ یمہ807 نے ٹھیک کہا ہے )

( ڈاکٹر شفیق الرحمن کی کتاب نماز نبوی )
نوٹ:۔ اصلاح و تربیت کے لئے لکھا گیا ہے کوشش کی گئی بار بار پڑھا گیا پھر بھی انسان غلطی کا پتلا ہے اگر کوئی غلطی دیکھیں تو درستگی کے لئے مطلع فرمائیں ۔

یہ کیسی محبت ہے ۔۔۔

عجیب بات ہے

100 ریال،درہم،ڈالر،پاونڈ وغیرہ

ہمیں اتنی بڑي رقم لگتی ہے جب ہم مسجد ساتھ لے کر جاتے ہیں صدقہ دینے کے لیے

مگر

بڑی معمولی رقم لگتی ہے جب ہم بازار لے کر جاتے ہیں ۔

عجیب

کسی وزیر یا بادشاہ کے دربار میں حاضری کو خوش نصیبی اور اعزاز تصور کرتے ہیں ان کے دربار میں ہمارےادب و احترام کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔

مگر

اللہ کے سامنے حاضری ہی بھاری لگتی ہے اور پھر اللہ کے دربار میں جمائی ، سستی، اور کاہلی کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔

عجیب

دو گھنٹے
ہمیں بہت طویل لگتے ہیں مسجد میں ۔

مگر

یھی دو گھنٹے بہت کسیر لگتے ہیں سینما میں ۔

عجیب

ایک گھنٹہ
ہمیں بہت طویل لگتا ہے اللہ کی عبادت میں ۔

مگر

یہی ایک گھنٹہ بہت معولی لگتا ہے انٹرنٹ پر یا ٹی وی کے آگے ۔

عجیب

ہمیں قرآن کے دو صفحے پڑھنا بے حد مشکل لگتا ہے ۔

مگر

اس کے برعکس ۔
ناولز کی کتابیں پڑھنا بے حد آسان۔۔۔۔

عجیب

ہم میڈیا و اخبارات کی باتوں پر تصدیق کرنے میں دیر نہیں کرتے ۔

مگر

قرآن جو کہتا ہے اس پر شک و شبہات میں پڑے ہیں ۔

عجیب

کیسے یک دم ہم مغرب کے تہذیب میں رنگ جاتے ہیں اور ان کے طریقے اپنا لیتے ہیں ۔

مگر

اپنے رسول عليه الصلاة والسلام کے طریقے (سنت) کو اپنانا گوارا نہیں !

عجیب

ہمیں دعاء کے وقت ہر بات یاد نہیں آتی ۔
مگر
دوستوں سے گپے مارتے ہوۓ دنیا جہاں کی باتیں یاد آتی ہیں ؟

عجیب

ہر پارٹی یہ مجمع میں لوگو کی کثرت آگے نظر آتی ہے ۔

مگر

مسجد میں پہلی صف کی رغبت نظر نہیں آتی ۔
لوگو کی کثرت آخری صف میں نظر آتی ہے ۔

عجیب

ہمیں قرآن کی دو آیتیں یاد کرنا بہت مشکل لگتاہے ۔

مگر

گانے اور ترانے یک دم یاد کر لیتے ہیں ۔

آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
“جنت ناگوار چیزوں سے گھیری گئی ہے اور جھنم خوشگوار چیزوں سے گھیری گئی ہے ”
(جو انسانی نفس کو خوشگوار لگتی ہے) رواہ مسلم
اور آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
“دنیا کی مٹھاس آخرت کی کڑواہٹ ہے اور دنیا کی کڑواہٹ آخرت کی مٹھاس ہے”
رواہ احمد و الحاکم

فَأَمَّا مَن طَغَى
تو جس [شخص] نے سر کشی کی ہوگی

وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا
اور دنيوی زندگی کو ترجيح دی ہوگی

فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَى
تو اس کا ٹھکانا جھنم ہی ہے

وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى
ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہو گا اور اپنے نفس کو نفسی خواہش سے روکتا رہا ہوگا۔

فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى
تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے ۔

وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
اور اپنے نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی

آج عمل کا دن ہے حساب کا نہیں ۔
کل حساب کا دن ہوگا عمل کا نہیں ۔

سنا تھا ہم نے لوگوں سے ۔۔۔۔۔
محبت چیز ایسی ہے ۔۔۔
چھپاۓ چھپ نہیں سکتی ۔۔۔
یہ آنکھوں میں چمکتی ہے ۔۔
یہ چہروں پر دمکتی ہے ۔۔۔
دلوں تک کو رلاتی ہے ۔۔۔۔

مگر

اگر یہ سب سچ ہے ۔۔۔
تو پھر ہمیں اپنے رب ۔۔۔
سے بھلا کیسی محبت ہے ۔۔۔
نہ آنکھوں سے جھلکتی ہے ۔۔۔
نا چہروں پر دمکتی ہے ۔۔۔
نا لہجوں میں سلگتی ہے ۔۔۔
نا دلوں کو آزماتی ہے ۔۔۔
نا راتوں کو رلاتی ہے ۔۔۔

یہ کیسی محبت ہے ۔
بھلا کیسی محبت ہے ۔

ماہ رمضان المبارک

{کامران اصغر کامی کی طرف سے ماہ صیام مبارک اپنی دعاوں میں یاد رکھئیےگا}

ramadan2007xr5

bismillah-star