کھٹی املی

پڑھنے سے پہلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر سمجھ نہ آنے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں تمام کنفیوز تحریریں لیڈیز اور ستر سال کے بزرگوں سے دور رکھیں کسی بھی صورت نہ رکنے پر ادارہ ذمہ دار نہ ہو گا۔
نوٹ:۔ یہ پڑھنے کے بعد ” وہ ” عورتیں جو خود کو مظلوم سمجھتی ہیں یقیناٌ خود کو برتر اور اعلی قابل احترام سمجھیں گئیں ۔واللہ علم

یارو آجکل عورت ذات کو پھر اپنے مظلوم ہونے کا احساس ہوا ہے۔
اگر عورت ان پڑھ ہے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہے تو مانا جا سکتا ہے کہ عورت مظلوم ہے
مگر حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ اچھی خاصی پڑھی لکھی سمجھ دار عورتوں نے بھی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ عورت مظلوم ہے ۔
حیرت ہے ۔۔۔
عورت جس کو اللہ نے ایک آدم سے ہی پیدا کیا سوری کوئی اسلامی دلیل نہیں دینا چاہتا ۔
میں ان سے پوچھتا ہوں کہ عورت کن وجوھات کی بنا پر عورت کو مظلوم اور ستم ذدہ اور مرد کو فرعون اور ظالم قرار دیتیں ہیں ۔
کیا مرد عورت کو دیکھ نہیں سکتا اگر دیکھنے پر پابندی ہے تو ہزاروں کا میک اپ کیوں کروایا جاتا ہے بازاروں میں فل تیار ہو کر کیوں نکلا جاتا ہے ۔
اگر کسی دوسرے ملک میں ہوں تو انہیں اور کوئی نہیں دیکھتا بس پاکستانی ہی دیکھتے ہیں ظاہر ہے ان لوگوں کو کیا معلوم عورت کیا چیز ہے سوائے حرص مٹانے والی مخلوق کے اسی لیے وہاں عورت اور مرد کا فرق ختم ہے خاندانی سسٹم نہیں بچے شرائط پر پیدا کیے جاتے ہیں اور پھر جوان ہونے پر انکو اسی سلسلے سے جوڑ دیا جاتا ہے جہاں انکے نام نہاد ماں باپ نے شروع کیا تھا۔کو پتا نہیں کون کس کا بیٹا اور کس کی بیٹی ہے۔
اگر کوئی مرد کسی عورت پر ہاتھ اٹھاتا ہے تو کوئی وجہ ہو گی کو ئی گھریلو مسلہ ہو سکتا ہے مسلے کو پسے پشت ڈال کر عورت کو مظلوم قرار دے دینا درست نہیں اصل وجہ وہ مسلہ ہے اس کو درست کرنے کی ضرورت ہے ۔
دوسری بات عورت کو مردوں جیسے حقوق حاصل نہیں ان کو دبایا جاتا ہے اور آگے بڑھنے سے روکا جاتا ہے یہ بھی غلط ہے۔
آج پاکستانی عورت
وزیر اعظم بنتی ہے مگر عورت پھر بھی مظلوم ہی رہی
سپیکر قومی اسمبلی ہے ویسے لگتا ہے جیسے کوئی شادی اٹینڈ کر رہی ہیں
ممبر قومی اسمبلی ہے جہاں چلا چلا کر اپنا غصہ اتارتی ہے
ممبر پنجاب اسملبی ہے جس کا فائدہ اٹھا کر کریڈڈ کارڈ چراتی ہے
بہترین ایکٹرس ہے ویسے ایکٹر تو ہر عورت ہی ہوتی ہے
بہترین رائیٹر
بہترین بلاگر جیسے انیقہ اسماء اور سعدیہ
اعلیٰ سپیشلسٹ ڈاکٹر ہیں
اعلی قسم کی اینکر پرسن ہیں جیسے عتیقہ اوڈھو وغیرہ دل خوش ہو جاتا ہے ۔
بہترین استاد ہے چاہے گھر میں ہو یا کسی مدرسے میں صرف بچوں کی۔
پائیلٹ ہیں اور جہاز اڑاتیں ہیں ۔
یہ مظلومیت صرف ان پڑھ عورتوں کے قصے ہیں۔
مگر مجھے لگتا ہے جو کچھ پاکستانی عورت کے بارے لکھا جارھا ہے وہ کسی دیہاتی عورت کا گھریلو قصہ ہے جو لوگوں کی کمیٹیاں کھا جاتی ہے اور چرچا نہیں ہوتا۔
میری پاکستانی عورتوں سے گزارش ہے کہ خدا راہ جو عزت آپ کو بخشی گئی ہے اس کا پرچار کریں نہ کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے اپنے آپ کو مظلوم کہلوانا ۔۔
نہی ہے کوئی چیز نکمی زمانے میں
کیسی اداسی چھائی ہے زنان خانے میں

9 آراء دي گئيں

#1 خرم ابنِ شبیر بتاريخ: Thursday، 21 January 2010 بوقت: 4:07 am

لے بھائی کاکا اب آپ کی باری ہے لگتا ہے یہ لڑکیوں اور لڑکو میں مقابلہ چل رہا ہے میرا خیال ہے آپ میری پوسٹ سے متاصر ہو کر لکھنے لگےہیں ہیں نا چلو جی میں تو گیا یہاں ایک اور میدان گرم ہونے والا ہے نعرے تکبیر اللہ ہو اکبر
ولسلام
کا کا :smile: :smile: :smile:

[جوابی حملہ کرو]

#2 جعفر بتاريخ: Thursday، 21 January 2010 بوقت: 9:21 am

نہ بھائی جان۔۔۔۔

[جوابی حملہ کرو]

#3 خرم بتاريخ: Thursday، 21 January 2010 بوقت: 5:55 pm

کامی بھائی ۔ اب جانے بھی دو یار۔ بات اتنی پھیل گئی کہ صحت مند گفتگو سے آگے بڑھ کراب تلخی کی طرف جارہی ہے بلکہ کہیں کہیں تو ذاتیات تک بھی اتر آئی ہے۔ اب اس موضوع کا “کھتا” چھوڑ دینا ہی بہتر ہے کہ ہم میں سے اکثر معروضی حقائق کا سامنا نہیں کرسکتے۔ دیہات کی عورت کی مظلومیت پر سب سے زیادہ وہ لکھتے ہیں جنہوں نے ایک ہفتہ بھی دیہات میں نہیں‌گزارا ہوتا اور نہ وہاں‌کی زندگی کا مشاہدہ کیا ہوتا ہے۔ :mrgreen:

[جوابی حملہ کرو]

#4 اسید بتاريخ: Friday، 22 January 2010 بوقت: 2:10 am

اگر کوئی دیہاتی عورت کو مظلوم سمجھتا ہے تو اس کو ضرور ضرور اپنے گاؤں کا رخ کر نا چاہئے، میرے خیال میں تو شہری خواتین پھر زیادہ مظلوم ہیں۔۔ ۔

[جوابی حملہ کرو]

#5 کنفیوز کامی بتاريخ: Friday، 22 January 2010 بوقت: 4:35 am

ٹھیک ہے خرم صاحب جعفر صاحب بات ختم ۔۔۔۔شکریہ

[جوابی حملہ کرو]

#6 عمر احمد بنگش بتاريخ: Saturday، 23 January 2010 بوقت: 3:41 am

ایویں‌ختم، میرا لچ تو ابھی تلا نہیں‌ :mrgreen:

[جوابی حملہ کرو]

ڈفر - DuFFeR Reply:

lolz :mrgreen: :mrgreen: :mrgreen: :mrgreen:

[جوابی حملہ کرو]

#7 جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین بتاريخ: Monday، 25 January 2010 بوقت: 10:21 am

کامران بھائی!

مدت بعد میرا یہاں آنا ہوا ہے۔ ماشاء اللہ آپ کا قلم بہت تیکھا اور نکھر گیا ہے۔ آپ کی اس تحریر سے چہرے پہ بے ساختہ مسکراہٹیں بکھرتی ہیں۔ہوسکتا ہے میں آپ کو مخاطب کئیے بغیر ہی آگے گزر جاتا مگر ایک بات نے مجبور کیا ہے کہ یہ رائے لکھتا جاؤں۔اس تحریر میں مندرجہ ذیل ایک جملے کی وجہ سے شکایت ہے۔

۔۔۔اگر کوئی مرد کسی عورت پر ہاتھ اٹھاتا ہے تو کوئی وجہ ہو گی کو ئی گھریلو مسلہ ہو سکتا ہے۔۔۔ ۔۔۔۔

کامران بھائی!

یہ کسی طور پہ مناسب نہیں کہ مرد کسی عورت پہ ہاتھ اٹھائے۔ بہادر اور غیرتمند لوگوں کا یہ شیوہ نہیں۔ مجھے اس بات کا علم ہے کہ آپ نے یہ جملہ پاکستان میں خواتین کو درپیش معروضی حالات کی وجہ سے لکھا ہے ، مگر پھر بھی ایسے کسی قدم کی حوصلہ افزائی نہیں کی جانی چاہئیے جس سے ایک کمزور فریق پہ طاقتور فریق ہاتھ اٹھائے۔امید ہے آپ میری بات کا برا محسوس نہیں کریں گے۔

[جوابی حملہ کرو]

#8 کنفیوز کامی بتاريخ: Tuesday، 26 January 2010 بوقت: 3:25 am

عمر بنگش /////////// سر کار آپ کا لچ لیٹ ہو گیا تیل ٹھنڈا پڑ گیا ہے اس لیے لچ نہیں تلے گا۔ :cool:
////////// جاوید گوندل بار سلونا ////////// بہت شکریہ جناب آپ نے یاد رکھا میں تو ہمہ وقت آپ کی طرف سے آنے والی باتوں کا منتظر رھتا ہوں ۔
جاوید بھائی حقیقت بھی یہی ہے جو آپ نے لکھا مگر میری بات سب مردوں شامل نہیں کرتی مگر یقین کریں بہت ہی یقین سے کہ سکتا ہوں کہ بہت سے امیر اور رئیس جن کے قصے آپ اخباروں میں پڑھ چکے ہیں اور پڑھے لکھے بھی یہ حرکت کرتے ہیں مگر میں ان میں سے نہیں پھر بھی یہ لکھنے پر بھی بہت سے ساتھی ناراض ہیں۔ :oops:

[جوابی حملہ کرو]

اپني رائے ديں

Englishاردو

Englishاردو



Spam Protection by WP-SpamFree