نیکی یا ۔۔۔؟

چند روز پہلے دو واقعے ایسے ہوئے جنہوں نے مجھے لکھنے پر مجبور کر دیا۔ کل کی بات ہے میرے پاس ایک شخص آیا حلیے سے بہت نیک یعنی باریش اور سر پر سفید ٹوپی کندھے پر بڑا ورمال ڈال رکھا تھا بولنے سے بہت اخلاق والا لگ رہا تھا۔ اس نے بڑے ادب سے سلام کیا اور اپنی گفتگو کا آغاز کیا اپنی کہانی سناتے ہوئے کہنے لگا ” بیٹا میں کوئی فقیر نہیں دو ماہ پہلے میں یو اے ای وزٹ ویزے پر آیا تھا ۔۔۔۔تھوڑا سانس لینے کے بعد پھر بولا بیٹا میں نے یہ ایک جوا کھیلا تھا جو میں ہار گیا مجھے یہاں کوئی کام نہیں ملا ویزہ ختم ہو رہا ہے اور میرے پاس گھر جانے کے لیے پیسے نہیں اگر میں گھر نہیں گیا تو مجھے شرطہ جانا پڑے گا اور پاکستان میں میری بیمار بیٹی مر جائے گی کیوں کی میرے سوا وہاں کمانے والا کوئی نہیں ۔۔۔۔اس شخص کی آنکھوں میں آئی نمی صاف دیکھائی دے رہی تھی ۔۔۔ میں کچھ دیر کے لیے سوچ میں پڑ گیا کہ کیا یہ شخص سچ کہ رہا ہے یا ان لوگوں کی طرح ہے جو اکثر یہاں آ کر ایسے قصے سناتے اور پیسے بٹورتے ہیں ۔۔ بیٹا سامنے والا اشرف نائی میرا واقف ہے اگر یقین نہیں آتا تو اس سے پوچھ سکتے ہو اس نے بھی میری حسب توفیق مدد کی ہے بزرگ نے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہوئے کہا ۔۔۔ میں نے کچھ اور نہ سوچتے ہوئے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر پچاس کا نوٹ اس شخص کے ہاتھ میں دے دیا اور کہا کہ میں بس اتنا ہی کر سکتا ہوں ۔۔پچاس کا نوٹ دیکھ کر اس شخص نے کہا بیٹا یہ تیری بہت بڑی نیکی ہے مجھ پر اللہ نے تم کو بہت دینا ہے ۔۔۔مگر بیٹا اگر ایک احسان اور کردے مجھ پر مجھے سو کا نوٹ دئے دے تیری بہت بڑی نیکی ہو گی ۔۔مجھے ایک دم جیسے جھٹکا سا لگا یہ کیا ہے کیسا شخص ہے یہ ۔۔۔میں بولا نہیں میں اس سے زیادہ نہیں دے سکتا مجھے بھی کسی کو حساب دینا ہے ۔۔مگر وہ شخص بضد رہا اور اپنی پیمار بیٹی اور جانے کس کس کا واسطہ دینے لگا یہاں تک کہ مجھے اپنی جیب سے ایک اور پچاس کا نوٹ اس کو دینا پڑا یہ سوچ کر کہ میں تو اللہ کی راہ میں دے رہا ہوں ۔۔یا ۔۔ہو سکتا ہے یہ شخص سچا ہو واقعی مجبور ہو ۔۔۔۔واللہ علم
آجکل ایسے بہت سارے قصے گردش کررہے ہیں کہ اکثر شخص کینسل ہونے کے بعد اپنے دوستوں اور واقف کاروں سے ادھار مانگ کر پاکستان فرار ہو جاتے ہیں جبکہ دوست احباب کو بعد میں خبر ہوتی ہے کہ فلاں شخص کنسل ہو کر پاکستان جا چکا ہے ۔۔
آپ کیا کہتے ہیں ان پاکستانی بھائیوں کے بارے میں ۔۔۔۔

10 آراء دي گئيں

#1 جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین بتاريخ: Monday، 25 May 2009 بوقت: 11:03 am

بھائی صاحب!
پہلے تصدیق کر لیں کہ آیا مدد یا خیرات مانگنے والا واقعی درست کہہ رہا ہے۔

بغیر تصدیق کئیے آپ کسی مستحق کا حق ایک غیر مستحق کو دیکر خود بھی قصور وار ہوتے ہیں اور غیر مستحق وہ پیسہ استعمال کر کے معاشرے میں مزید بگاڑ کا سبب بھی بنتا ہے۔ پیشہ ور مانگنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

یہ تصدیق اس وقت اور بھی ضروری ہو جاتی ہے۔ جب پانچ دس روپے سے ہٹ کر کسی کی غیر معمولی طور پہ مدد کی جائے۔

[جوابی حملہ کرو]

#2 جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین بتاريخ: Monday، 25 May 2009 بوقت: 11:03 am

اور یہ جوئے والی بات کیا ہوئی؟

[جوابی حملہ کرو]

#3 شاہدہ اکرم بتاريخ: Monday، 25 May 2009 بوقت: 6:15 pm

ہوتا ہے ایسے بھی اکثر اور بہت زیادہ ہوتا ہے اور بقول اِبنِ اِنشاء کی ایک بات کے کہ
تُوں تے دِتے ہوئے وِچوں دینا اے کیہڑا اپنے کولوں دینا وے
یعنی تُم نے کونسا اپنے پاس سے دینا ہے دِئے ہُوئے میں سے دینے میں کیا ہِچکِچاہٹ
سو کرم کر پھل کی خواہِش نا کر دینے والا پھل دے گا اِنشاءاللہ

[جوابی حملہ کرو]

#4 sadiasaher بتاريخ: Monday، 25 May 2009 بوقت: 7:07 pm

دلوں کے حال اللہ جانتا ھے کون سچا ھے کون جھوٹا — میرے سامنے کوئ ھاتھ پھیلائے مجھ سے انکار نہیں ھوتا ڈر لگتا ھے یہ نہ ھو وہ سچ کہہ رھا ھو بد ظنی بھی گناہ ھے اللہ نیت دیکھتا ھے اگر کوئ جھوٹ بولے گا تو گناہ اسے ملے گا

[جوابی حملہ کرو]

#5 شاہدہ اکرم بتاريخ: Tuesday، 26 May 2009 بوقت: 12:10 am

سعدیہ بِالکُل یہی بات میں سوچتی ہُوں کہ اگر یہ سوچ کر کِسی کو نا دیا کہ ہو سکتا ہے یہ ضرُورتمند نا رہا ہو اور وُہ حقیقت میں مدد کا حقدار تھا تو اور اِس تو کے بعد دِل گھبرا جاتا ہے سو بس دِلوں کا حال اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے یہی سوچیں اور جِتنی بھی ہو سکے مدد ضرُور کریں اور اپنے بچوں کو بھی اِس کی تلقین کریں اِنشاءاللہ سب اچھا ہوگا

[جوابی حملہ کرو]

#6 مسٹر کنفیوز بتاريخ: Tuesday، 26 May 2009 بوقت: 2:31 am

۔۔۔جاوید بھائی۔۔۔جووئے ولالی بات رہنے ہی دیں ۔بس اسی کشمکش میں میں نے پیسے دینے کا فیصلہ کیا تھا ۔
۔۔۔سعدیہ بہن۔۔۔میرے دل سے بھی یہ ہی آواز آئی تھی۔
۔۔۔شاہدہ بہن۔۔۔ابن انشاء والی بات بہت زبردست ہے کیا ابن انشاء پنجابی لکھتے رہے ہیں ۔

[جوابی حملہ کرو]

#7 شاہدہ اکرم بتاريخ: Tuesday، 26 May 2009 بوقت: 8:44 am

نہیں کامی در اصل یہ ایک لمبی بات ہے اشفاق احمد صاحِب نے ایک مرتبہ زاویہ پروگرام میں یہ بات کہی تھی اور اِبنِ اِنشاء سے بھی اُنہوں نے یہی بات کہی تھی بہت پیاری بات تھی گو کافی لمبی ہے لیکِن ساری بات اور اُن کا بتانے کا انداز آنکھوں میں گُھوم گئ
خاک میں کیا صُورتیں ہوں گی کہ پِنہاں ہو گئیں
ہاہ

[جوابی حملہ کرو]

#8 شاہدہ اکرم بتاريخ: Tuesday، 26 May 2009 بوقت: 8:45 am

گئ نہیں گیا پلیز درُست کردو کامی

[جوابی حملہ کرو]

#9 DuFFeR - ڈفر بتاريخ: Wednesday، 27 May 2009 بوقت: 6:03 pm

مانگنے والے کے مانگنے پر انکار تو نہیںہوتا
لیکن چوکوں پر مانگنے والے پروفیشنلز کو ہمیشہ نا دینے کی کوشش ہی کرتا ہوں
اور آج کل مانگنے والے اتنے فنکار ہیں کہ مستحق پر شک ہو سکتا ہے لیکن ان پر نہیں

[جوابی حملہ کرو]

#10 مئی 2009ء کے بلاگز کا تجزیہ بتاريخ: Thursday، 11 June 2009 بوقت: 10:09 am

[...] بھوپال) یہ نقدِ جاں ہے اِسے سود پر نہیں دیتے (م۔م۔مغل) نیکی یا۔۔۔؟ (مسٹر کنفیوژ) جب مجھے بور کیا گیا (فہیم [...]

اپني رائے ديں

Englishاردو

Englishاردو



Spam Protection by WP-SpamFree