موم کے پتلے

موم کے پتلے تھے ہم اور گرم ہاتھوں میں رہے
جس نے جو چاہا ہمیں ویسا بناکے لے گیا

2 آراء دي گئيں

#1 جعفر بتاريخ: Sunday، 15 March 2009 بوقت: 3:57 pm

واہ جی واہ۔۔۔ پیندی سٹّے شعرو شعری۔۔۔ :mrgreen: :mrgreen:
پہلی پوسٹ پر مبارکباد۔۔۔۔ :razz:
شاعر کا نام بھی لکھ دیتے تو اچھا ہوتا۔۔۔ بہرحال اس سے بھی دردناک شعر ملاحظہ کریں
نہ آنا میری میت پر ہمراہ رقیباں
مسلماں میت کو جلایا نہیں کرتے
:grin: :grin: :grin:
اوہ یہ تبصرہ تو پوسٹ سے بھی بڑا ہو گیا ہے ایسا کریں اس کو پوسٹ بنالیں اور اپنی پوسٹ کو تبصرہ۔۔۔ :wink: :wink:

[جوابی حملہ کرو]

#2 شاہدہ اکرم بتاريخ: Friday، 8 May 2009 بوقت: 6:36 pm

قصُور تو ہمارا ہُوا نا کیُوں اِتنے موِمی رہے

اور جعفر

نہ آنا میری میت پر ہمراہ رقیباں
مسلماں میت کو جلایا نہیں کرتے

میت کو مُسلمان جلایا نہیں کرتے

[جوابی حملہ کرو]

اپني رائے ديں

Englishاردو

Englishاردو



Spam Protection by WP-SpamFree