موم کے پتلے تھے ہم اور گرم ہاتھوں میں رہے
جس نے جو چاہا ہمیں ویسا بناکے لے گیا
موم کے پتلے
Friday، 13 March 2009 — اصلی شاعری
ورڈ پریس کی نرم و نازک شاخ پر بنایا ایک ٓا شیانہ
Friday، 13 March 2009 — اصلی شاعری
موم کے پتلے تھے ہم اور گرم ہاتھوں میں رہے
جس نے جو چاہا ہمیں ویسا بناکے لے گیا
2 آراء دي گئيں
واہ جی واہ۔۔۔ پیندی سٹّے شعرو شعری۔۔۔



پہلی پوسٹ پر مبارکباد۔۔۔۔
شاعر کا نام بھی لکھ دیتے تو اچھا ہوتا۔۔۔ بہرحال اس سے بھی دردناک شعر ملاحظہ کریں
نہ آنا میری میت پر ہمراہ رقیباں
مسلماں میت کو جلایا نہیں کرتے
اوہ یہ تبصرہ تو پوسٹ سے بھی بڑا ہو گیا ہے ایسا کریں اس کو پوسٹ بنالیں اور اپنی پوسٹ کو تبصرہ۔۔۔
[جوابی حملہ کرو]
قصُور تو ہمارا ہُوا نا کیُوں اِتنے موِمی رہے
اور جعفر
نہ آنا میری میت پر ہمراہ رقیباں
مسلماں میت کو جلایا نہیں کرتے
میت کو مُسلمان جلایا نہیں کرتے
[جوابی حملہ کرو]
اپني رائے ديں