مستنصر حسین تارڑ

میرے پسندیدہ :۔

زندگی کی پہلی تنہا عید مبارک

بے شک آپ کو کچھ حساب نہ ہو کہ کتنے روزے گزر چکے ہیں اور کتنے باقی رہ گئے ہیں لیکن اس کے باوجود آپ اپنے اردگرد ظاہر ہوتی ایسی علامتیں دیکھتے ہیں جن سے آپ جان جاتے ہیں کہ عید قریب ہے وہ خاکروب جوپچھلے ایک برس سے آپ کو نظر نہیں آیا وہ یکدم ظاہر ہو کر سڑک پر جھاڑو دینے لگتا ہے اور جونہی آپ قریب سے گزرتے ہیں تو وہ خوب دھول اڑا کر اپنی موجودگی کا ثبوت دیتاہے اور کہتا ہے ’’ سلام صاحب‘‘ وہ ڈاکیہ جس سے آپ کی ملاقات کم ہی ہوتی ہے وہ چاہے ایک بل لے کر آئے ‘ دروازے پر دستک دے کر اسے نہایت احترام سے آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے پوچھتا ہے‘ صاحب جی روزے کیسے چل رہے ہیں؟

گھریلو ملازم نہایت اہتمام سے گھر کی صفائی پر جت جاتے ہیں ایک ایش ٹرے کی نمائش کرتے ہوئے کہتے ہیں’’ لوجی میں نے چمکا چمکا کر اسے لش پش کر دیا ہے۔ خواجہ سرا آنے جانے لگتے ہیں‘ اور آپ روزانہ بینک جانے لگتے ہیں کہ جتنے پیسے نکلواتے ہیں وہ اس روز خرچ ہو جاتے ہیں چھوٹے بچے جو عام طورپر بہت بدتمیز ہوتے ہیں وہ آپ سے نہایت اخلاق سے پیش آنے لگتے ہیں… ان سب علامات سے ظاہر ہے کہ عید قریب آرہی ہے۔ پورے برس میں آپ کسی بھی دن حتمی طور پر نہیں جانتے کہ آج کیا ہوگا لیکن دونوں عیدوں پر آپ خوب جانتے ہیں کہ آج کیاہوگا…

عید کی سکرپٹ میں کوئی ردوبدل نہیں ہوتا‘ یہ وہ ڈرامہ ہے جس کے ہرمنظر سے آپ پہلے سے آگاہ ہوتے ہیں… اس کا آغاز ظاہر ہے عیدکی نماز کی ادائیگی سے ہوتا ہے‘ پھر آپ قبرستان جاتے ہیں‘ بزرگوں کی قبروں پر پھول چڑھا کر ذرا آبدیدہ ہو کر فاتحہ پڑھتے ہیں اور پھر گھر لوٹنے کے بعد دیگر مناظر شروع ہو جاتے ہیں یعنی وہی خوراک کی تیاری اور پھر عزیزوں اور دوستوں کا آناجانا وہ آپ کو اتنی مہلت نہیں دیتے کہ آپ ان کے ہاں چلے جائیں‘ وہ خود چلے آتے ہیں اور گئی رات تک چلے آتے ہیں…گھر کی گھنٹی مسلسل بجتی چلی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ٹیلی فون کی گھنٹی بھی شامل ہو کر عید کی سمفنی بجانے لگتی ہے۔

لیکن میری زندگی کی یہ پہلی عید ہے جو بقیہ تمام عیدوں سے یکسر مختلف ہے…یہ عید کی سکرپٹ کے مطابق بالکل نہیں ہے اورمجھے کچھ پتہ نہیں کہ عید کے روز کیا ہوگا اوراس کا سبب یہ ہے کہ میرے تینوں بچے محض اتفاق ہے کہ نیویارک اور اسکے آس پاس ہیں اور ان کی والدہ جو رشتے میں میری بیوی لگتی ہیں وہ بھی انہی کے پاس ہے…یوں یہ عید میں تنہا بسر کروں گا لیکن یہ مت قیاس کیجئے کہ میں اس تنہائی اوررجدائی سے رنجیدہ اوراداس ہو رہا ہوں ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ میں اس منفرد تجربے میں سے گزرنا چاہتا ہوں کہ دیکھتے ہیں ایک تنہا عید کیسی ہوتی ہے… اور میں رنجیدہ اس لئے نہیں ہوں کہ مجھ میں ایک اطمینان اور تسلی ہے کہ میرے بچے ماشاء اللہ جہاں بھی ہیں صحت مند ہیں اور اپنی زندگی سے خوش ہیں… اور ان کی جانب سے اللہ کرے کہ ہمیشہ ایسا ہی رہے کہ مجھے اچھی خبریں ملتی رہیں

میں عید کے روز ان کی تصویریں دیکھ کر اور ٹیلی فون پر ان کی آوازیں سن کر ہی خوش ہو جاؤنگا…اور اگر میرا پوتا یاشرفون پر صرف یہ کہہ دے کہ …دادا عید مبارک…. تو میری واقعی عید ہو جائے گی۔ ویسے میں یکسر تنہا تو نہیں‘ میرے برابر میں میرے دونوں بھائی رہائش رکھتے ہیں اور میری دونوں بھابھیوں نے میرے کان کھا مارے ہیں کہ بھائی جان عید کے روز آپ نے دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ کھانا ہے لیکن مجھے اس میں تامل ہے …اگرکسی ایک بھائی کے گھر کھانا کھاؤں تودوسرے بھائی کی بیگم ناراض ہو جائے گی کہ اچھا وہ ہم سے زیادہ پیارے ہیں…

علاوہ ازیں ایک اورتشویشناک پہلو بھی سامنے آرہا ہے کہ ایک بھائی کے بال بچوں نے ڈیکلیئر کر دیا ہے کہ بابا جان اگر آپ عید کے روز ہمارے ہاں کھانے کے لئے نہیں آئینگے تو ہم کھانا اٹھا کر آپ کے ہاں آجائینگے اورسب مل کر کھائینگے… اوریہ صورتحال تو بہت خوفناک ہوگی… بعدمیں سارے برتن مجھے دھونے پڑیں گے…بیگم کی غیر موجودگی کے دوران عام طورپر اور ان دنوں خصوصی طور پر یار لوگ مجھ پر بہت ترس کھا رہے ہیں کہ ہائے ہائے عیداکیلے کرو گے… سویاں میں لے کر آجاؤں گا…کھانا میں پہنچاؤں گا ‘ اب میں ان کی منت سماجت بھی کرتا ہوں کہ آپ کی محبت کا شکریہ… گھر میں طوطا نام کی ایک ملازمہ موجود ہے وہ کچھ کھا پکا لے گی یقین کیجئے میں بھوکا نہیں رہوں گا

یہ جو طوطا ہے اسکا اصل نام طاہرہ ہے لیکن اتنابولتی ہے کہ سب لوگ پیار سے اسے طوطا کہتے ہیں… بلکہ ان دنوں جب میں سبزی والے سے سبزی خریدتا ہوں تو کہتا ہوں کہ بھئی گھر میں اور کوئی نہیں تو کیا گوبھی کا یہ پھول میرے اور طوطا کے لئے کافی ہوگا تو وہ حیران ہو کر کہتاہے کہ تارڑ صاحب آپکا طوطا گوبھی کھاتاہے اور میں ہنس کرکہتا ہوں ہاں یہ والا طوطا نہ صرف گوبھی کھاتا ہے بلکہ بھنڈیاں ‘ کریلے اورمٹر پلاؤ بھی بہت شوق سے کھاتا ہے… میں نے اپنی زندگی میں کچھ عجیب اور دلچسپ عیدیں بھی گزاری ہیں ان میں سے ایک تقریباً پچاس برس پیشتر نوٹنگھم انگلستان میں گزاری تھی

میں پاکستان سے کم از کم ایک شلوار اپنے ساتھ لے گیاتھا تاکہ عید کے روز پہنی جا سکے…عید سے چند روز پیشتر میں اسے مقامی دھوبی یا ڈرائی کلینر کے پاس لے گیا اور اس سے درخواست کی کہ اسے سٹارچ لگا دے جس طرح ہمارے ہاں مایا لگاکر شلوار اکڑاتے ہیں… اس غریب انگریز کی سمجھ میں نہ آیاکہ یہ کیسا پہناوا ہے…بہر حال جب میں دو تین روز بعد شلوار وصول کرنے کیلئے گیا تو کیا دیکھتاہوں کہ اندر سے سفید رنگ کی ایک شے جو کھیتوں میں پرندوں کو ڈرانے والے بڈاوے کی مانند بازو پھیلائے ہوئے تھی چلی آرہی ہے شلوارتہہ نہیں کی گئی تھی بلکہ اسے پھیلا کر اکڑا دیا گیا تھا…بہر طور قصہ مختصرعید کے روز یہ کھڑکھڑاتی شلوارپہنی قمیض پر ایک نیلا بلیزر زیب تن کیا

نماز پڑھی اور سیر سپاٹے کے لئے نوٹنگھم کے سنٹرتک چلاگیا…میں وہاں کھڑاتھا کہ ایک بوبی یا سپاہی آگیا اور میری شلوار کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا ’’سر‘‘ آپ نائٹ سوٹ پہن کرپبلک میں چلے آئے ہیں جو کہ نہایت معیوب بات ہے…لوگ اعتراض کریں گے براہ کرم گھر واپس جاکر مناسب لباس پہن کر آیئے‘ان دنوں ابھی انگریز صاحب بہادرپاکستانیوں کی دھوتیوں اور شلواروں سے شناسا نہیں ہوئے تھے اور ہمارے لباس کو نائٹ سوٹ قرار دیتے تھے۔ بے شک مجھے طمانیت ہے… ایک سکون ہے کہ میرے بچے نیو یارک میں خوش و خرم ہیں ماشاء اللہ صحت مند ہیں اور ان کی جانب سے اچھی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن اس کے باوجود اس تنہا عید میں ایک اداسی تو ہوگی…اس کاکچھ مداوا نہیں…

البتہ یہ اداسی قدرے کم تب ہوگی جب میں عید کی نماز کے بعد گلبرگ کے قبرستان میں دفن اپنے ماں باپ کی قبروں پر جاؤں گا…ان پر پھول چڑھاؤں گا اور ان سے کچھ باتیں کرونگا اور ان سے درخواست کرونگا کہ وہ میرے لئے دعا کرتے رہیں… ان کی دعاؤں کی برکت سے مجھے اس جہاں میں سب کامیابیاں ملی ہیں۔ آپ سب کو تنہا عید کرتے ایک شخص کی جانب سے بہت بہت عید مبارک۔

3 آراء دي گئيں

#1 شاہ بھائی بتاريخ: Saturday، 28 November 2009 بوقت: 9:46 pm

ایک ناقابلِ فراموش حقیقت

[جوابی حملہ کرو]

#2 شاہدہ اکرم بتاريخ: Sunday، 29 November 2009 بوقت: 12:14 am

زبردست اِنتِخاب ہے

[جوابی حملہ کرو]

#3 عمر احمد بنگش بتاريخ: Monday، 30 November 2009 بوقت: 11:15 am

او یار تو تنہا کہاں‌ہے، دیکھ میں‌آگیا ہوں‌ناں :razz:
عید مبارکاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خاص‌کر چھوٹی کو

[جوابی حملہ کرو]

اپني رائے ديں

Englishاردو

Englishاردو



Spam Protection by WP-SpamFree