قدرت نے مزا رکھا ہے

جب سے بیگم نے مجھے مرغا بنا رکھا ہے
میں نے نظروں کی طرح سر بھی جھکا رکھا ہے

برتنوں آج میرے سر پہ برستے کیوں ہو
میں نے دھو دھو کے تمہیں کتنا سجا رکھا ہے

پہلے بیلن نے بنایا میرے سر پہ گومڑ
اور چمٹے نے میرا گال سجا رکھا ہے

سارے کپڑے تو جلا ڈالے میری بیگم نے
زیب تن کرنے کو بنیان پھٹا رکھا ہے

اے کنوارو یونہی آباد رہو شاد رہو
ہم کو بیگم نے تو سولی پہ چڑھا رکھا ہے

وہی دنیا میں مقدر کا سکندر ٹھرا
جس نے خود کو یہاں شادی سے بچا رکھا ہے

روز لیتی ہے تلاشی وہ پولیس کی مانند
پوچھتی ہے کہاں پیسوں کو چھپا رکھا ہے

پی جا اس مار کی تلخی کو ہنس کر اکبر
مار کھانے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے

5 آراء دي گئيں

#1 احمد فارغ بتاريخ: Tuesday، 15 December 2009 بوقت: 3:37 am

بہت خوب ۔۔شاعر کا نام بھی لکھ دیں

[جوابی حملہ کرو]

#2 خرم بتاريخ: Tuesday، 15 December 2009 بوقت: 4:29 am

اچھی آپ بیتی لکھی آپ نے۔ :twisted:

[جوابی حملہ کرو]

#3 جعفر بتاريخ: Tuesday، 15 December 2009 بوقت: 9:32 am

خرم صاحب، آپ بیتی تو نہیں البتہ جگ بیتی ضرور لگتی ہے۔۔۔
:mrgreen:

[جوابی حملہ کرو]

#4 Umm Zakariyya بتاريخ: Wednesday، 13 January 2010 بوقت: 5:43 pm

Assalamoalaikum Bhai,

kaash ke aajki duniya main aise mard HOTE to mujh se maar bhi khaatay, yahan to saray hi sar charhte hain, munna, munne ke abba, munne ke chote bhai, munne ke chacha, mamoon, dada, nana, sab ki hamare sar par bartano ki barsaat karte hain :P

[جوابی حملہ کرو]

#5 کنفیوز کامی بتاريخ: Saturday، 16 January 2010 بوقت: 3:36 am

جی شکریہ بہت خوب کہا :smile:

[جوابی حملہ کرو]

اپني رائے ديں

Englishاردو

Englishاردو



Spam Protection by WP-SpamFree