اللہ کا گھر ۔۔۔۔

ایک دن مغرب کے بعد تین چار باریش ٹوپی بردار اشخاص میرے پاس آئے اور بہت محبت سے ملے سلام دعا کے بعد ان اشخاص نے اپنا تعارف یوں کروایا کہ یہ فلاں شعبہ سے ہیں اور یہ فلاں کام کرتے ہیں یہ پاکستان سے ایک تبلیغی جماعت لیکر شارجہ آئے ہیں اور اسی سلسلے میں آج آپ کے شہر میں ایک تبلیغی نشست بعد نماز عشاء رکھی ہے آپ لوگ ضرور شرکت فرمائیں اور میرے بھائی ابھی بھی وقت ہے اللہ کی طرف رجوع کریں اور نماز کی پابندی کریں ۔۔۔۔اسکے بعد وہ حضرات آنے کہ تاکید کرتے ہوئے چلے گئے ۔
ان کے جانے کے بعد میں سوچ میں پڑ گیا اور مجھے وہ شخص یاد آیا جو ایک دفعہ میر پاس آیا اور تبلیغ کی باتیں کرنے کے بعد بولا بھائی صاحب میں منڈی بہاولدین کا رہنے والا ہوں ۔آپ بھی ماشااللہ پاکستانی بھائی ہیں۔ میں نے ایک مسجد شروع کر رکھی ہے آپ سے گذارش ہے کہ اس نیک کام میں حصہ ڈالیں ۔ ان صاحب کے پاس باقاعدہ پاکستان سے پرنٹ شدہ رسید بک بھی تھی میرا دماغ پہلے ہی گرم تھا کسی بات پر اور یہ بچارہ میرے ہتھے چڑھ گیا ۔ میں نے کہا بھائی صاحب آپ کا دماغ ٹھیک ہے آپ کو پتا ہے آپ اس وقت کہاں ہیں میں ایک کال کروں گا اور آپ جعل سازی میں اندر ہو جائیں گے اس لئے بہتر یہ ہی ہے کہ آپ تشریف لے جائیں ۔وہ شخص تھوڑا گھبرایا مگر پھر تھوڑی ہمت کر کے بولا میرے بھائی میں نے تو مسجد کے لئے چندہ مانگا ہے اپنے لئے تھوڑا کچھ مانگا ہے میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات شروع کی ۔۔بھائی میری بات سنو۔۔ ایسی رسیدی مسجدیں پاکستان میں بہت بنتی دیکھیں ہیں اور تم پاکستان سے بیس پچیس ہزار کی ٹکٹ لیکر یہاں چندہ لینے آئے ہو یہاں رہنے کا کھانے کا اور چھوٹے موٹے خرچے ہیں اگر یہ سب تم نہ کرتے اور یہ سارے پیسے مسجد پر لگاتے تو کتنا اچھا ہوتا ۔۔۔وہ صاحب بولے بھائی مدد نہیں کرنی تو نہ سہی۔۔ یہ کہ کر وہ شخص ایسا غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔۔
میں سوچتا ہوں اس ملک کے مولوی حضرات کو اپنی قوم کی اتنی فکر نہیں جتنی ہمارے مولوی صاحبان کو ہے
کتنا خرچہ کر کے وہ یہاں آتے ہیں جن سے کتنے لوگوں کی مدد ہو سکتی ہے ۔میں تبلیغ کے خلاف بات نہیں کر رہا مجھے دکھ ہے ایسے لوگوں پر جو پاکستان کا نام بدنام کرتے ہیں اور اللہ کا تو خوف انکو ہے نہیں ۔ آج کا دور میڈیا کا دور ہے گھر گھر بات پہنچانے کا آسان زریعہ ہے ویسے بھی اب بات سننے کے لیے کس کے پاس وقت ہے۔

10 آراء دي گئيں

#1 جعفر بتاريخ: Monday، 18 January 2010 بوقت: 10:06 am

بھائی جان، تبلیغی جماعت والوں اور چندہ مانگنے والوں میں‌بڑا فرق ہے۔۔
تبلیغی جماعت والوں کے طریقے اور نظریے سے اختلاف ہوسکتا ہے
لیکن ان کی کمٹمنٹ سے نہیں۔۔۔

[جوابی حملہ کرو]

Hussein Reply:

yeah kiya baat hui? committed to shaitaan bhee bara hai ub usku achaa samajhnay lagain? punjabiyoon kay baas aqal kee baree kamee huti hai, bas mullait kay piyar main aoot pataang maree jatay hain

[جوابی حملہ کرو]

#2 محمد سعيد البالنبوري بتاريخ: Monday، 18 January 2010 بوقت: 11:13 am

KAMI SAHAB
mujhe aap ki bat se ittifaq hay.
Mera khayal se kuy tablighi muchannid nahi hota,muchannid tablighi ban jata hay aur 1 teer se kay shikar karta hai.

[جوابی حملہ کرو]

#3 افتخار اجمل بھوپال بتاريخ: Monday، 18 January 2010 بوقت: 3:29 pm

منافقت اتنا فروغ پا چکی ہے کہ اچھے اور بُرے کی تمیز بہت دشوار ہو گئی ہے ۔ لیکن یہ واقعی کمال ہے کہ کوئی پچیس تیس ہزار روپیہ خرچ کر کے جند سو روپے جمع کرے

[جوابی حملہ کرو]

#4 فرحان دانش بتاريخ: Monday، 18 January 2010 بوقت: 3:41 pm

تبلیغی جماعت والوںکی کوشش ہوتی ہے مسلمان کو دوبارہ مسلمان کیا جائے۔
تبلیغی جماعت والوں کی اکثریت جاہل لوگوں پرمشتمل ہوتی ہے۔ جن کو نظریہ اسلام بھی صیح طریقے سے معلوم نہیں ہوتا۔

[جوابی حملہ کرو]

#5 محمداسد بتاريخ: Monday، 18 January 2010 بوقت: 9:15 pm

میرے خیال میں دونوں واقعات یکسر مختلف ہیں۔ تبلیغی جماعت سے نظریاتی اختلاف ایک طرف رکھ کر دیکھیں تو یہ لوگ بغیر کسی لالچ کے کام کرتے ہیں۔ کم از کم میں نے انہیں کبھی سرعام چندہ مانگتے نہیں دیکھا۔ ان کی مطلوب شہ صرف تھوڑا سا وقت ہوتا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ کہ تنقید کا جواب تہمل سے دیتے ہیں، نا کہ جاہلوں کی طرح مغلظات کا تبادلہ کریں۔ ممکن ہے تبلیغ کی نیت سے آپ کے پاس جو لوگ آئے ہوں وہ بزنس ٹور پر ہوں اور عادت کے مطابق تھوڑا سا وقت تبلیغ کے لیے صرف کررہے ہوں۔

[جوابی حملہ کرو]

#6 جعفر بتاريخ: Monday، 18 January 2010 بوقت: 10:25 pm

جی بالکل حسین صاحب شیطان بڑا کمٹڈ ہوتاہے۔۔ آپ سے بہتر یہ کون جان سکتاہے۔۔۔

[جوابی حملہ کرو]

Hussein Reply:

گدھے کو گدھا کہنا گھمنڈ ہے؟

[جوابی حملہ کرو]

#7 کنفیوز کامی بتاريخ: Tuesday، 19 January 2010 بوقت: 12:47 am

////// جعفر /////// جعفر صاحب میں نے مسجدوں میں زبردستی نام شامل کرتے دیکھا ہے بغیر اس شخض کی اجازت لیے بٍغیر اسکی کوئی تکلیف یا ضروری کام پوچھے بس نہیں بھائی اللہ کی راہ میں نکلو اور کچھ تو ایسے ہیں جو شوقیہ اس میں شامل ہوتے ہیں کہ چلو چند روز گھر اور ابا جان سے جان چھوٹے گی سیر کی سیر ہو جائے گی ۔غرض تبلیغ پر نکلنے سے پہلے اسکا مفہوم اور طریقہ معلوم ہونا چاہیے اور یہ کس جگہ کرنی چاہیے یہ بھی پتا ہونا چاہیے ۔
///////// حسین //////// اچھا ہوتا اگر اپنے کمنٹ کے پیچھے کوئی رابطہ چھوڑتے اسے کمنٹنے والوں کو میں نہ روکتا ہوں اور نہ ڈیلیٹ کرتا ہوں ہو سکتا ہے کبھی عقل جاگ جائے ۔
///////// بالنبوری بھائی ////// آمد کا شکریہ مگر ربط بہت ضروری ہوتا ہے پہچان کے لیے ۔
//////// اجمل صاحب ////// چند سو روپے نہیں کچھ ایسے سادہ لوگ بھی ہیں جو انکے چکر میں اآ کر ذیادہ رقم بھی تھما دیتے ہیں ۔
//////// دانش ///// کی دانش مندانہ باتیں ۔
//////// اسد ////// آنے کا شکریہ آپ بلکل ٹھیک فرماتے ہیں تبلیغ والے بھائی تو ابھی بھی آتے ہیں مجھے ان سے کو شکایت نہیں یہ بہت اچھے لوگ ہیں مگر کبھی کبھی کچھ ایسے بندے بھی آجاتے ہیں جو اس کام کے لائق نہیں ہوتے ۔

[جوابی حملہ کرو]

#8 خرم بتاريخ: Tuesday، 19 January 2010 بوقت: 7:06 am

سرجی ٹینشن ناٹ۔ سب دھندے ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ اچھے بُرے ہر جگہ ہیں۔ غیر ممالک میں جاکر پاکستانی چندے مانگنے کی رسم زمانہ حال کی ہے۔ جن کی پہنچ ہے وہ غیر ملکی حکومتوں سے چندے لیتے ہیں اور جو بچارے نقال ہیں وہ کرایہ خرچ کرکے دہاڑی لگانے آجاتے ہیں۔ جو حکومتی امداد پر پلتے ہیں انہیں‌تو ہم کچھ کہتے نہیں بلکہ فخریہ بتاتے ہیں”جی اس مدرسہ کےناظم تو فلاں ملک سے تعلقات رکھتے ہیں” اور جو غریب دہاڑی لگانے آتا ہے اسے ہم آگے لگا دیتے ہیں۔ :mrgreen:

[جوابی حملہ کرو]

اپني رائے ديں

Englishاردو

Englishاردو



Spam Protection by WP-SpamFree