آج کا عربی

کل کا عرب

گھوڑا ۔ ۔ ۔ ۔ تلوار۔ ۔ ۔ ۔ قرآن ۔ ۔ ۔ ۔

آج کا عرب

گاڑی۔ ۔ ۔ ۔ موبائل۔ ۔ ۔ ۔ لیپ ٹاپ

12 آراء دي گئيں

#1 کامران اصغر کامی بتاريخ: Saturday، 14 November 2009 بوقت: 3:13 am

ان تمام اصحاب سے معزرت چاھتا ہوں جو یہاں کمنٹس نہ کر سکے دراصل فیس بک نے بلاگ سے دوری بڑھادی ہے اب یہاں کم ہی آنا ہوتا ہے ۔ جلدی اور بھولنے کی عادت نے بہت مشکل کردی ہے۔ :cry:

[جوابی حملہ کرو]

#2 عبدالقدوس بتاريخ: Saturday، 14 November 2009 بوقت: 6:21 am

بس تمیں مار پڑنے والی ہے ادھر سے جلد ہی :roll:

[جوابی حملہ کرو]

#3 جعفر بتاريخ: Saturday، 14 November 2009 بوقت: 12:18 pm

آج کل کے عرب کی ایک اہم چیز تو بھول ہی گئے آپ۔۔۔
آیا یاد۔۔۔
یا نئیں۔۔۔
;-)

[جوابی حملہ کرو]

کنفیوز کامی Reply:

جعفر مائی پرینڈ ۔۔ کیوں مجھے کھوکھر بننے پر مجبور کرتے ہو۔ :razz:

[جوابی حملہ کرو]

#4 arifkarim بتاريخ: Monday، 16 November 2009 بوقت: 2:37 am

کمال ہے جی۔ عربیوں کا تیل جس دن ختم ہوگا۔ یہ لوگ واپس گھوڑا تلور قرآن بن جائیں گے!

[جوابی حملہ کرو]

#5 عبداللہ بتاريخ: Monday، 16 November 2009 بوقت: 11:33 am

کیوں کیا گھوڑا ،تلوار اور قرآن کی ذمہ داری صرف عربیوں کی ہی ہے!

[جوابی حملہ کرو]

#6 کنفیوز کامی بتاريخ: Monday، 16 November 2009 بوقت: 5:31 pm

عبداللہ میرے بھائی کہاں تھے تم تمھارے بغیر تو بلاگستان ویران ہوجاتا ہے یار جاتے وقت بتا کر تو جایا کرو ۔ اب تم فیس بک پر بھی چکر لگایا کرو وھاں بھی تمھاری ضرورت ہے۔ سارے بلاگر اب فیس بک پر مستیاں کر رہے ہیں۔
یار ہماری بھی ذمہ اری ہے میں نے تو انکی موجودہ حالت دیکھتے ہوئے کہا ہے۔ اب تم ہماری اپنی حالت کا ذکر نہ شروع کر دینا وہ سب کو پتا ہے۔ یہ قوم کچھ خاص ہے۔

[جوابی حملہ کرو]

#7 کنفیوز کامی بتاريخ: Monday، 16 November 2009 بوقت: 5:36 pm

ٹھیکیدار صاحب مار کیوں پڑنت والی ہے میں نے یا کیا ہے۔ :razz:

[جوابی حملہ کرو]

#8 عبداللہ بتاريخ: Tuesday، 17 November 2009 بوقت: 9:42 am

کامی بھائی ہمارے بڑے بوڑھے کہا کرتے ہیں کہ غلاظت میں پتھر پھینکو گے تو تو اس کی چھینٹیں تمھارے اوپر بھی آئیں گی تو میں غلاظت سے دور رہنا ہی پسند کرتا ہوں جس طرح کی گندی اور بازاری ذبان وہاں استعمال ہوتی ہے اللہ محفوظ رکھے بلا وجہ آدمی کا اپنا اخلاق خراب ہو تا ہے ،کثر تو خیر بھائی لوگ یہاں بھی نہیں چھوڑتے مگر پھر بھی کچھ حدود اور قیود کا خیال رکھ ہی لیتے ہیں،
ویسے آپ اپنا یہ برادران یوسف والا مشورہ نہ ہی دیں تو مہر بانی ہوگی :)
یہ قوم کچھ خاص ہے !کن معنوں میں؟

[جوابی حملہ کرو]

#9 عبداللہ بتاريخ: Tuesday، 17 November 2009 بوقت: 9:45 am

عربی عیا شی کررہے ہیں تو اس دولت پر جو ان کی ذمین سے نکلی ہے،فکر تو ہمیں ہونا چاہیئے،
قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن !!!

[جوابی حملہ کرو]

#10 شاہدہ اکرم بتاريخ: Friday، 20 November 2009 بوقت: 1:06 pm

عربی عیا شی کررہے ہیں تو اس دولت پر جو ان کی ذمین سے نکلی ہے،فکر تو ہمیں ہونا چاہیئے،
قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن !!!

کِتنی درُست بات کہی ہے عبدُاللہ نے

[جوابی حملہ کرو]

#11 عبداللہ بتاريخ: Sunday، 22 November 2009 بوقت: 11:55 am

:sad: شاہدہ جی افسوس تو یہی ہے کہ یہ بات درست ہے کاش یہ درست نہ ہوتی!

[جوابی حملہ کرو]

اپني رائے ديں

Englishاردو

Englishاردو



Spam Protection by WP-SpamFree