۔یومِ تعلیم ۔ ہفتہ بلاگستان۔2

تعلیم،طالبان،حکومت

پہلے اس ملک میں کونسی تعلیم کی شرح 100 فیصد تھی کہ طالبان آگئے جنھوں نے سیدھا غریب کی تعلیمی درس گاہوں کو ملیامیٹ کیا کیونکہ انکو ڈر ہے کہ اگر انکو پڑھ لکھ کر شعور آگیا تو ہمارے طالبی اسلام کا کیا ہوگا ۔لڑکیوں کی تعلیم برداشت نہ کرنے والے یہ لوگ شاید یہ بھول گئے تھے یاں انکو معلوم ہی نہیں کہ اللہ نے اپنے رسول کو کس طرح اور کس کے زریعے پڑھایا ۔

1۔ہم تمہیں پڑھا دیں گے کہ تم فراموش نہ کرو گے (۶)(سُورَۃُ الاٴعلی آیت نمبر 6)
2۔(اے محمد) کیا ہم نے تمہارا سینہ کھول نہیں دیا؟ (بےشک کھول دیا) (۱)(سورۃ الشَّرح آیت نمبر1)
3۔(اے محمد) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالم کو) پیدا کیا (۱)(سورۃ العَلق آیت نمبر1)

جب تک اربوں روپے ڈکارنے والے اوپر سے پڑھا لکھا پاکستان بنانے کا نعرہ لگانے والے۔ فائلوں میں سکول بنانے والے ۔امیروں اور غریبوں کا الگ الگ سلیبس بنانے والے ۔ یہ امراء یہ رئیس زادے یہ نو دولتیے ۔غریب کے بچے کو آگے بڑھنے سے روکنے والے ۔لاکھوں روپے تنخواہ لیکر سب ہو گیا لکھنے والے اور خود عیاشیاں کرنے والے ۔جب تک ان اسمبلیوں میں ان پڑھ وزیر ہوں گے ۔جب تک امیر کا بچہ حق دار کا حق مار کے سکالر شپ لے کر بیرون ملک عیاشاں کرتا رہے گا ۔اس ملک سے ان پڑھ ختم نہیں ہوں گے ۔جب تعلیم کو نبی کا حکم سمجھ کر عام کرنے والے نہیں آئیں گے اس ملک میں تعلیم عام نہیں ہو سکتی ۔

05_Pakistan_2105

جس دن ان جیسے لاکھوں بچوں کو چھت والا سکول بیٹھنے کے لئے ڈیسک ہوا کے لئے پنکھا پینے کے لئے صاف پانی پہننے کے لئے صاف وردی اور اچھے پڑھے لکھے ٹیچرز مل جائیں گے ہمارے ملک میں کوئی ان پڑھ نہیں رہے گا ۔ انشااللہ

10 آراء دي گئيں

#1 افتخار اجمل بھوپال بتاريخ: Monday، 17 August 2009 بوقت: 6:28 pm

طالبان کی سیاست کو اب خیرباد کہہ دینا چاہيئے ۔ ہمیں جو کچھ بتا جاتا رہا ہے اس کا مقصد عوام کے دماغوں کو ماؤف کرنے کے سوا کچھ نہیں تاکہ صاحب بہادروں کا اْلو سیدھا رہے

[جوابی حملہ کرو]

#2 یاسر عمران مرزا بتاريخ: Monday، 17 August 2009 بوقت: 7:58 pm

مجھے طالبان سے نفرت ہو گئی ہے، یہ لوگ صرف اور صرف امریکہ کے ایجنٹ ہیں۔ تعلیمی نظام کے بارے میں آپ نے سچ فرمایا، ہمارے چودھری، نواب ، وڈیرے نہیں چاہتے کہ عوام پڑھے

[جوابی حملہ کرو]

#3 ریحان بتاريخ: Monday، 17 August 2009 بوقت: 8:24 pm

طالبی اسلام ۔۔۔ !

بھائی کامران ۔۔ آپ نے خوب لکھا ہے کہ طالبان کیسے تعلیمی اداروں کو تباہ کر رہے تھے ۔۔ خواتین کی تعلیم سے دور رکھنا چاہتے تھے ۔۔۔

طالبان ۔۔ ! ۔۔امریکنس رشیا کے خلاف جٍن طالبان کے دوست تھے آج دشمن کیوں ہیں ؟ ۔۔ طالبان ۔۔۔ یہ جو حکومت نے وار اگینسٹ ٹیریر کو ہوا دے رکھی ہے ۔۔ اٍس سے ابھی تو طالبان اور پیدا ہونگے ۔۔ ہم میں سے امریکن سسٹم کا ہر باغی کیا ایک طرح سے طالبان نہیں ؟

پر کامران بھائی ۔۔ ہمراے تعلیمی ادارے ۔۔ یہ بڑے کاری گر پیدا کر رہے ہیں ۔۔‌!

یہ ہمارے صدر ۔۔ ہمارے وزرا ۔۔ ہمارے بلاول زرداری بھٹو صاحب ۔۔ اور دیگر اعلی افسران یہ سب کہاں سے پڑھے ہونگے ؟ ۔۔ امومن دینی مدارس سے تو نہیں ۔۔ وہ دینی مدارس جن کے بارے میں لکھا جاتا ہے کہ وہ انتہا پسند پیدا کر رہے ہیں ۔۔۔ ہٹلر ۔۔ دینی مدارس کا پڑھا ہوا تھا ؟

گر ہم میں سے بھی کوئی گر اپنے بچوں کو اعلی تعلیم نہیں لینے دے رہا تو اسے بھی خود کو تقریباّ طالبان ہی سمجھ لینا چاہیے ۔

[جوابی حملہ کرو]

#4 کنفیوز کامی بتاريخ: Tuesday، 18 August 2009 بوقت: 12:13 am

۔۔۔ سر اجمل جی ۔۔۔ شکریہ آمد کا ۔۔یہ ہماری بھول ہے کہ اس کو خیر باد کہ دیں کیوں کہ درخت کو اوپر سے کاٹ دیا جائے تا یہ ختم نہیں ہوتا بلکہ زمین میں موجود شاخیں اسے دوبارہ درخت بنانا سکتی ہیں ۔ :cool:
۔۔۔ یاسر عمران ۔۔۔ شکریہ بھائی آمد کا
۔۔۔ ریحان بھائی ۔۔۔ امریکنس آج تک کن کے دوست بنے ہیں یہ تو مطلب اور مفاد پرستی ہے ۔باقی باتیں آپکی شاندار ہیں ۔ :cool:

[جوابی حملہ کرو]

#5 فائزہ بتاريخ: Tuesday، 18 August 2009 بوقت: 1:16 am

پڑھے لکھے پنجاب میں آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ چوہدری برادران کے کوششیں آپ نے فراموش کر دیں؟
اچھا لکھا۔
جب تک تعلیم سب تک پہنچانے کے علاوہ یکساں تعلیمی نظام رائج نہیں کیا جاتا ۔ ٹاٹوں اور کرسیوں کا فرق دور نہیں ہو گا۔ زمین پر بیٹھنے والا کبھی کرسی پر بیٹھنے والے کے مقابل نہیں آ سکے گا۔

[جوابی حملہ کرو]

#6 کنفیوز کامی بتاريخ: Tuesday، 18 August 2009 بوقت: 11:06 am

۔۔۔ فائزہ ۔۔۔ شکریہ میں کچھ ہٹ کر لکھنا چاہتا ہوں مگر قلم انہی مسائل طرف مڑ جاتا ہے

[جوابی حملہ کرو]

#7 DuFFeR - ڈفر بتاريخ: Tuesday، 18 August 2009 بوقت: 9:52 pm

واقعی درست لکھا
پنکھے بینچ اور چھت سے زیادہ ہمیں چاہئے ایک ایماندار استاد
باقی مسئلے خود بخود ہی حل ہو جائیں گے

[جوابی حملہ کرو]

#8 عبداللہ بتاريخ: Wednesday، 19 August 2009 بوقت: 4:09 pm

کامی بھائی آپنے کچھ زیادہ کی ڈیمانڈ کردی ہے صرف ایک چاردیواری اور اچھا استاد ہی مل جائے تو
زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

[جوابی حملہ کرو]

#9 کنفیوز کامی بتاريخ: Wednesday، 19 August 2009 بوقت: 4:33 pm

یار عبداللہ باقی بھی ضروری ہیں ہماری حکومت روانڈہ میں تو نہیں پاکستان میں ہے مٹی زرخیز ہے تو پھل ملنا چاہیے ۔۔کیوں ساقی صاحب ؟ :cool:

[جوابی حملہ کرو]

#10 منظرنامہ » ہفتہ بلاگستان ایوارڈ : نامزدگیاں بتاريخ: Monday، 2 November 2009 بوقت: 1:22 am

[...] تعلیم ، طالبان ، حکومت از کامران [...]

اپني رائے ديں

Englishاردو

Englishاردو



Spam Protection by WP-SpamFree