۔یوم بچپن ۔ ہفتہ بلاگستان ۔1

یاد ماضی عذاب ہے یارو

یہ شرارت اس وقت کی ہے جب میں پانچویں کلاس میں پڑھتا تھا میرا سکول گورنمنٹ پرائمری سکول کوٹ فرید سرگودھا تھا ۔یہ سکول گھر سے کافی دور تھا میں روزانہ پیدل ہی سکول جاتا تھا۔ سر میں سرسوں کا تیل لگا کر کنگھی کی ہوتی تھی اب تو اسکی ضرورت ہی پیش نہیں آتی ۔کپڑے کا بنا ہوا بستہ جو میری ماں نے مجھے سلائی مشین پر بنا کر دیا تھا یہ مشین آج بھی چلتی ہے گو کہ بوڑھی ہو چکی ہے۔ہاتھ میں لکڑی کی تختی جو کافی بھاری ہوتی تھی چلتے چلتے جگہ جگہ اسکو بطور تلوار استعمال کرتا کبھی سکول میں تلوار بازی کے دوران ٹوٹ جاتی تو والد صاحب سے سخت ڈانٹ پڑتی اور سزا کے طور پر پہلے سے بھاری تختی اٹھانا پڑتی تھی ان وقتوں میں ماں باپ کا ڈر بہت ہوتا تھا آجکل تو برائے نام ہی ڈر ہے ۔ وردی کا اب مجھے ٹھیک یاد نہیں مگر شاید ملیشاء کلر ہی تھا ۔بیٹھنے کے لئے کلاس میں ٹاٹ استعمال ہوتے تھے ۔
ہمارے گھر کے قریب کافی فالتو زمین تھی آبادی کیوں کہ بہت کم تھی اسلئے اس زمین پر اکثر پکھی واس جن کو ہم جانگلی بھی کہتے تھے آ کر ڈیرہ ڈالتے تھے ۔زمین کا یہ خالی ٹکڑہ رنگ برنگی جھگیوں مختلف قسم کے جانوروں جن میں ریچھ بندر بکریاں مرغیاں کتے گھوڑے گدھے شامل ہوتے تھے ۔جانگلی دیکھنے میں بہت ڈرونے ہوتے تھے کالی رنگت لمبے قد سرخ آنکھیں کانوں میں بالیاں انکے بچے بھی عجیب ہوتے تھے ننگے بدن سر پر بالوں کی ایک لٹ باقی ٹنڈ گندے جسم ۔جھگی کے باہر کھانا پکانے کا بندوبست ہوتا تھا۔ ۔
اصل واقعہ کیا تھا ۔۔؟واقعہ کچھ یوں ہے کہ بچپن سے ہی مجھ کو پھولوں والے پودے بہت پسند تھے گھر میں میں نے دیوار کے ساتھ تھوڑی سی مٹی ڈال کر ایک کیاری بنائی ہوئی تھی جہاں میں اپنی پسند کے پودے اگاتا اور ایک شفیق باپ کی طرح انکا دھیان رکھتا تھا گرمی ہو یا سردی میں نے کبھی اپنی ڈیوتی میں کوتاہی نہیں برتی تھی ۔مجھے جہاں سے بھی کسی پودے کی آفر ہوتی میں پیدل چل کر وہ پودا حاصل کرتا تھا میرے دوست اکثر مجھے اپنے گھر سے پودے دیا کرتے تھے ۔بزریعہ بیج پودہ حاصل کرنے کے لئے میں چوری گھر سے بازار جایا کرتا تھا ۔
اوپر بیان کردہ جگہ پر ایک نئی کالونی معرض وجود میں آ گئی سب سے پہلئ سڑکیں بنیں پھر ان کے ارد گرد نئے پودے لگائے گئے ۔میں چوں کہ بازار سودا سلف لینے کے لئے نکلتا تھا تو چوری چھپے سائیکل کا رخ اس نومولود کالونی کی طرف پھیر لیتا تھا صرف ان خوبصورت رنگ برنگے پودوں کو دیکھنے کے لئے ۔
ایک دن میرے ایک دوست اختر نے مجھے بتا یا کہ وہ مجھے ایک پودہ دینا چاہتا ہے میں بھی کہاں انکار کرنے والا تھا فورا ہاں کر دی تو تفریح جسے آدھی چھٹی بھی کہتے ہیں میں جانے کا پروگرام بنایا گیا خدا خدا کر کے تفریح کا ٹائم ہوا میں نے اختر سے کہا کہ جلدی چلو ٹائم کم ہے واپس بھی آنا ہے ۔ہم دونوں سکول سے نکل پڑے اور اختر مجھے اسی نومولود کالونی میں لے آیا جو ہمارے گھر کے قریب تھی میں نے کہا یار یہاں پودے توڑنے منع ہیں ایسا مت کرو مگر اختر بضد تھا کچھ نہیں ہوتا یہ میرے ابو کے دوست ہیں تم اپنی پسند کا ایک پودا توڑ لو میری ذمہ داری پر میں نے اس تسلی پر پودے کو توڑ لیا ۔۔
اوئے۔۔۔۔پکڑو انکو ۔۔اس سے پہلے کہ ہم یہ سن کر دوڑک لگاتے قریب سے گزرے ایک شخص نے ہم دونوں کو دبوچ لیا اور پکڑ کر اپنے دفتر لے گئے سردیوں کے دن تھے ہم دونوں کو ایک کپڑے کے ساتھ ہاتھ اور پاوں سے باندھ دیا گیا ۔سخت سردی میں بھی میں پسینے سے نچڑ چکا تھا۔ اب ہمارا ٹرائل شروع ہو چکا تھا کیا نام ہے ؟ کس کے بیٹے ہو ؟ کہاں رہتے ہو ؟یہ سب جان کر ہمارے والدین کو خبر کر دی گئی تھوڑی دیر بعد میرے والد سائیکل پر سوار آئے اور مجھے اس حالت میں دیکھ کر ان سے پوچھا کیا کیا ہے اس نے ؟ تفصیل معلوم ہونے پر وہ واپس سائیکل کی طرف بڑھے اور جاتے ہوئے کہ گئے ” اسے مت چھوڑنا یہی باندھ کر رکھو ”
اور سائیکل سمیت غائب ہو گئے میری حالت اور بری ہو گئی کیوں کہ گھر جا کر اس سے ذیادہ دھلائی ہونا تھی ۔اتنی دیر میں اختر کی والدہ آ گئیں انہوں نے منت سماجھت کی واسطہ بتایا اور اختر کو چھڑوالیا مگر مجھے وہ لوگ چھورنے سے انکاری تھے میرا خون خشک ہو رہا تھا میں نے حسرت بھری نگاہوں سے اختر کی طرف دیکھا تو اس نے اپنی والدہ سے میرے لئے بھی سفارش کی جو تھوڑی دیر کی بحث کے بعد قبول ہو گئی اس وعدے کے ساتھ کہ آئیندہ کبھی بھی چوری نہیں کریں گے ۔
ہم دونوں بھاگم بھاگ سکول پہنچے چھٹی کا ٹائم سر پر تھا بستے لئے اور گھر واپس آ گئے گھر داخل ہوتے ہی شرم سے پانی پانی ہو رہے تھے سر جھکا ہوا تھا ۔ شوق دا کوئی مُل نئی ہوندا

21 آراء دي گئيں

#1 ساجداقبال بتاريخ: Saturday، 15 August 2009 بوقت: 6:43 pm

آہ! کیا بلیک اینڈ وائٹ دور ہوتا تھا۔

[جوابی حملہ کرو]

#2 فلک پوش بتاريخ: Saturday، 15 August 2009 بوقت: 6:57 pm

ساجد بھائی آج کا رنگین دور بھی اس کے آگے صرف کالا ہے۔

[جوابی حملہ کرو]

#3 کنفیوز کامی بتاريخ: Saturday، 15 August 2009 بوقت: 6:59 pm

ساجد بھائی میرے کام کا کیا بنا۔ :sad:

[جوابی حملہ کرو]

#4 جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین بتاريخ: Sunday، 16 August 2009 بوقت: 6:43 am

کامران بھائی!

بس وہ دن تھے ۔ ماضی تھا۔ ان یادوں کا اب ایک خزینہ ہے جسے جب چاہو سلو موشن موی کی طرح چلا لو اور بس۔ وہ وقت پھر لوٹ کر آنے والا نہیں۔ زندگی اسقدر مصروف ہوگئی ہے۔ اور بچپن اسقدر دور ۔ کہ جو پیچھے لوٹ کر دیکھے ۔ وہ جم کر پتھر ہوجائے۔

[جوابی حملہ کرو]

#5 کنفیوز کامی بتاريخ: Sunday، 16 August 2009 بوقت: 10:17 am

سچ فرمایا سر جی یہ دن اب کبھی نہیں آئیں گے جوں جوں زندگی آگے بڑھتی ہے مشکل سے مشکل ہوتی جاتی ہے ۔ :sad:

[جوابی حملہ کرو]

#6 فائزہ بتاريخ: Sunday، 16 August 2009 بوقت: 10:15 pm

میرے بچپن کا بھی کچھ حصہ سرگودھا میں گزرا ہے۔ اپنی پھپھو کے یہاں چھٹیاں گزارنے جایا کرتے تھے۔ بہت کشادہ بلاک ہوتے تھے اور ہر گھر کے سامنے چھوٹا موٹا پودا یا درخت بھی ضرور ہو تا تھا۔ وہاں کے اردو بازار سے رسالے ، کتابیں خرید کر بھی پڑھی ہیں۔ پھپھو کا کرائے کا مکان اردو بازار کے سامنے والی سڑک پر تھا اور پرانے زمانے کا بنا ہوا تھا اوپر والی منزل سے سارا بازار نظر آتا تھا۔ اب تو وہ گرا دیا گیا ہے پہلے ہی کافی مخدوش حالت تھی اس کی۔ جانگلی بولی سننے کا بھی تھوڑا بہت اتفاق ہوا لیکن سمجھ نہیں آتی تھی۔

[جوابی حملہ کرو]

#7 کنفیوز کامی بتاريخ: Monday، 17 August 2009 بوقت: 2:18 am

۔۔ فائزہ ۔۔ میں چھ ماہ کا تھا جب سیالکوٹ سے سرگودھا شٍفٹ ہوئے تھے اور جب بیس سال کا تھا تو واپس سیالکوٹ شفٹ ہو گئے اب باقی زندگی ملک سے باہر بہت سادہ اور پر سکون زندگی تھی سرگودھا شہر کی سائیکل پر بہت آوارہ گردی کی ہے ۔ہماری رھائیش کوٹ فرید روڈ پر بڑے قبرستان کے سامنے ایک نذیر کالونی تھی اس کا آغاز ہمارے ہی گھر سے ہوتا تھا بہت بڑا گھر تھا ہمارا آج بھی اگر اس گلی میں کسی سے ہمارے بارے میں پوچھا جائے تو وہ بہت خوشی سے ذکر کرتے ہیں ۔

[جوابی حملہ کرو]

#8 جہانزیب بتاريخ: Monday، 17 August 2009 بوقت: 7:21 pm

سرگودھا سے ایک اور بلاگر :mrgreen:
فائزہ یہ اردو بازار کے آس پاس جو کشادہ گلیاں‌ ہیں‌ ان کا پتہ مجھے بھی بتائے گا، وہاں‌ تو اتنی بھیڑ‌ ہوتی ہے کہ بندے کا دم گھٹ‌ جاتا ہے :razz:

[جوابی حملہ کرو]

#9 یاسر عمران مرزا بتاريخ: Monday، 17 August 2009 بوقت: 7:55 pm

لیکن آپ کے ابو نے آپ کو کیوں نہیں چھڑایا، ویسے آج کل کے ابو تو ایسا نہیں ہونے دیتے
خیر، اچھی تحریر تھی، شکریہ

[جوابی حملہ کرو]

#10 سعدیہ سحر بتاريخ: Monday، 17 August 2009 بوقت: 8:27 pm

سلام کامی

مجھے سرسوں کے تیل پہ ھنسی آئ — میری امی کو جب بھی مجھ پہ بہت پیارآتا تھا لاڈ لاڈ میں آدھی تیل کی شیشی سر میں ڈال دیتی تھیں کہ اس سےبال اچھے ھوتے ھیں اور دماغ روشن ھوتا ھے آنکھوں میں اتنا سرمہ ڈالتی تھیں کہ آنکھیں آنکھین کم سرمے دانیاں زیادہ لگتی تھیں

بہت سادا نقشہ کھینچا ھے ماحول کا

[جوابی حملہ کرو]

#11 میرا پاکستان بتاريخ: Monday، 17 August 2009 بوقت: 9:31 pm

واقعی سادگی سے تحریر کی خوبصورتی میں‌جو اضافہ کیا ہے کمال ہے۔ ویسے اس طرح کے واقعات سبھی کیساتھ پیش آ چکے ہیں یعنی چوری کرنا اور پکڑنے جانے پر ٹھکائی ہونا۔

[جوابی حملہ کرو]

#12 رضوان بتاريخ: Monday، 17 August 2009 بوقت: 11:37 pm

لگتا ہے اب سرگودھا کو بلاگروں کا شہر کہنا چاہیے۔
نئیں ریساں سرگودھے دیاں
میراتعارف سرگودھا سے ریلوے اسٹٰیشن اور بس کے اڈے تک ہی تھا اب وہ بھی ٹوٹ گیا ہے۔
آپ کے توسط سے پھر یادیں ہری ہوگئیں

[جوابی حملہ کرو]

#13 کنفیوز کامی بتاريخ: Monday، 17 August 2009 بوقت: 11:41 pm

۔۔۔جہانزیب بھائی ۔۔۔فسٹ ٹیم خوش آمدید یار میں بھی سرگودھا کو اچھی طرح جانتا ہوں مجھ سے نہیں پوچھا ۔ :cool:
۔۔۔ یاسرعمران بھائی ۔۔۔ظاہر ہے غصہ تھا کہ اتنی بیبی اولاد نے کیا کام کیا۔ :sad:
۔۔۔ سعدیہ ۔۔بھر تو لازم آپ کی آنکھیں بڑی بڑی ہوں گئیں ۔ :shock:
۔۔۔افضل بھائی ۔۔۔ میری ٹھکائی صرف دو بار ہوئی تھی جو جلدی لکھوں گا ۔ :razz:

[جوابی حملہ کرو]

#14 فائزہ بتاريخ: Tuesday، 18 August 2009 بوقت: 1:07 am

جہانزیب بھائی میں نے اپنے بچپن کے دنوں کا ذکر کیا ہے۔ اور بلاکوں کی گلیاں کچھ بلاگ کافی تنگ گلیوں والے بھی تھے لیکن میں اٹھائیس بلاک اور اس کے بعد شاید بارہ بلاک تھا اس کا ذکر کر رہی ہوں۔ بازار تنگ تھا یہ تو مجھے یاد نہیں لیکن اندر اندر گلیاں کافی کھلی تھیں اور جو گیارہ بلاک کی گلیاں اردو بازار کے بائیں طرف ہے جہاں گول بازار سے سڑک آتی ہے اس کی گلیاں کافی کھلی تھیں کم از کم ہمارے لاہور کے محلوں سے تو ان کا کوئی مقابلہ نہیں جو کہ اندرون شہر کے محلے ہیں۔ ویسے بھی بچپن میں انسان اپنے سائز کے حساب سے چیزوں کا موازنہ کرتا ہے اور اس وقت میں کافی چھوٹی سات یا آٹھ سال کی تھی۔

[جوابی حملہ کرو]

#15 فائزہ بتاريخ: Tuesday، 18 August 2009 بوقت: 1:09 am

پہلی لائن میں بلاک کی جگہ بلاگ لکھ دیا کیوں وہی تو لکھتی رہتی ہوں۔

[جوابی حملہ کرو]

#16 کنفیوز کامی بتاريخ: Tuesday، 18 August 2009 بوقت: 10:59 am

۔۔۔ رضوان ۔۔۔ بے شک شاھینوں کا شہر سرگودھا بہت اچھا تھا اور اسکے لوگ بہت سادہ اور ملن سار ہیں اب پتا نہیں اس کا کیا حال ہے کافی عرصہ ہو گیا گئے ہوئے ۔ :cool:

[جوابی حملہ کرو]

#17 DuFFeR - ڈفر بتاريخ: Tuesday، 18 August 2009 بوقت: 10:01 pm

ایک دفعہ مجوں والوں کے بچوں کو مار کر میں گھر میں گھس گیا۔ دودھ والا آیا اور امی کو کہا کہ آپ کا بچہ مار کر آیا ہے میرے بیٹے کو۔ امی نے دوسری بات نہیں سنی اور مجھے ہاتھ پکڑ کر باہر نکال دیا کہ جو حساب کرنا ہے اسی سے کر اور دروازہ بند کر لیا۔ دودھ والا شرم و شرمی مجھ سے بھی آنکھیں چرائے واپس چلا گیا :D

[جوابی حملہ کرو]

#18 کنفیوز کامی بتاريخ: Tuesday، 18 August 2009 بوقت: 11:03 pm

دودھ والے کو شرم کیوں آگئی وہ تو بے شرم ہوتے ہیں پانی ملاتے اور جھوٹ بولتے شرم نہیں آتی ان کو ۔ :cool: یقینا تیری شکل دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :mrgreen:

[جوابی حملہ کرو]

#19 عبداللہ بتاريخ: Wednesday، 19 August 2009 بوقت: 4:03 pm

بس کامی بھائی ہمارے والدین بھی کچھ ایسے ہی تھے اور اچھے تھے کم سے کم بگڑی اولادیں معاشرے پر بوجھ بنا کر تو نہیں چھوڑ گئے :|

[جوابی حملہ کرو]

#20 کنفیوز کامی بتاريخ: Wednesday، 19 August 2009 بوقت: 4:30 pm

عبداللہ میرے بھائی تو کدھر ہوتا ہے تیرا کوئی ٹھکانہ ہے میرا مطلب بلاگ کوئی ویب وغیرہ ۔
ٹھیک کہا عبداللہ یہ ان کی نیکی ہے ۔

[جوابی حملہ کرو]

#21 منظرنامہ » ہفتہ بلاگستان ایوارڈ : نامزدگیاں بتاريخ: Monday، 2 November 2009 بوقت: 1:21 am

[...] یاد ماضی عذاب ہے یارو از کامران اصغر(کنفیوز [...]

اپني رائے ديں

Englishاردو

Englishاردو



Spam Protection by WP-SpamFree