وومن ڈے

اھل اسلام اھل پاکستان اور تمام بلاگرز لیڈیز کو وومن ڈے مبارک ہو ۔

چاہے وہ

کسی کھیت میں محنت مزدوری کر رہی ہو ۔
کسی دفتر میں جاب کر رہی ہو ۔
کسی گھر میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہو ۔
کسی ظالم نامرد کا ظلم و تشدد برداشت کر رہی ہو ۔
قومی اسمبلی میں دو شادیوں کا اعلان کر رہی ہو ۔
وزیر بن کر شاہی زندگی گزار رہی ہو ۔
کسی کمپیوٹر کے آگے بیٹھی بلاگ لکھ رہی ہو ۔

بل گیٹ کے بل ڈاگ

پچھلے چند مہینوں سے پریشانیوں کا ایسا سلسلہ چلا ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتا ابھی تازہ ترین جھٹکے میں جو ہوا وہ کچھ یوں ہے ۔
ہم بھائی حسب معمول سارھے دس شاپ پر آگئے اور اپنے کل کے باقی کام نمٹانے لگے ابھی ڈیڑھ گھنٹہ گزرا تھا کہ چار لوکل عربی لباس میں ہماری شاپ میں گھس آئے اور ہم دونوں بھائیوں کو ایک طرف الگ ہونے کا کہا اور شاپ کی تلاشی شروع کردی ٹیبل پر موجود لیپ ٹاپ دیکھ کر ایک بولا یہ سب کس کے ہیں ہم نے کہا یہ سب کسٹمرز کے ہیں ۔ ۔۔اچھا ابھی ہمارے افسر آئیں گے اور آپ کی تمام چیکنگ ہو گی۔
ہم نے کہا کس چیز کی چیکنگ ؟
آپ لوگ نقلی ونڈوز اور آفس انسٹال کرتے ہیں ۔
تھوڑی دیر کے بعد ایک اور پانچ اشخاص کا گروپ شاپ میں داخل ہوا اور شاپ میں موجود سب کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کو چیک کرنے لگا ۔
یہ سلسہ ایک گھنٹے تک چلا ۔
ہمارا پرسنل اور ایک کسٹمر کا کمپیوٹر ضبط کر لیا گیا ساتھ ہی شاپ پر موجود تمام سافٹ ویر بھی لے گئے ۔
اگلے دن ہمیں ٹریڈ سینٹر میں بلایا گیا اور پانچ گھنٹے تک بحث چلتی رہی ۔
آخری اظلاع تک ابھی تک کیس دبئی جا چکا ہے اور کوئی اطلاع نہیں کبھی کہتے ہیں صرف جرمانہ ہو گا کبھی کہتے ہیں جیل ہو گی جرمانے کی حد 10000 درھم سے لیکر 50000 درھم تک ہو سکتا ہے جرمانے کی عدم ادائیگی پر ایک یا تین ماہ کی جیل ہو سکتی ہے ۔
اس دن سے لیکر آج دن تک کام دھندہ چوپٹ ہے بہت ٹینشن ہے دماغ کام نہیں کرتا
یاد رہے یہ آپریشن پورے شہر میں کیا گیا جہاں صرف گنتی کے 20 سے 25 دکانیں اس کام سے متعلق ہیں سب ہی کا کچھ نا کچھ پکڑا گیا ۔

5 لاکھ 10 لاکھ

حکومت وقت
نے عوام کی عزت پامال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑنے تہیہ کر رکھا ہے پورے ملک میں کہیں بھی کوئی ایسا واقعہ جو میڈیاء میں چھا رھا ہو حکومت کے لیے بجائے بے عزتی کے عزت بنانے کے کام آجاتا ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ اس واقعہ کے ذمہ اروں کو جلد از جلد ایسی سزا سے نوازا جائے جس سے متاثر ہونے والوں کو دلی اطمینان اور سکون میسر آئے اور یہ کام حکومت وقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزت بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو گا ۔
لیکن ہو کیا رھا ہے
بجائے انصاف مہیاء کرنے کے سوٹ بوٹ میں ملبوس حفاظتی گارڈوں کے حصار میں میڈیاء اور صحافتی سحر کی چمکتی سپاٹ لائیٹ کی روشنی میں یہ لوگ ان افراد کے جذبات مجروح کرنے چلے آتے ہیں چند منٹ کی وڈیو بنتی ہے جھوٹے دلاسے اور وعدے کیے جاتے ہیں اور آخر میں میڈیاء کے سامنے آکر عوامی خزانے سے اپنے نام کا لیبل لگا کر پانچ دس لاکھ دینے کا اعلان کیا جاتا ہے جو کسی کو ملتا ہے کسی کو نہیں اور کسی کو دے کر چھین لیا جاتا ہے ۔
میں پوچھتا ہوں
کیا ایسا کرنے سے کسی کی عزت واپس مل جائے گی؟
کسی کا غم سے بھرا دل سکون پا سکے گا؟
کسی بچھڑا ہوا پیارا واپس آجائے گا؟
نہیں میں تو ڈرتا ہوں کہیں یہ کام مدد کی بجائے فیشن ہی نا بن جاے لوگ اس کو بھی پیسے کمانے کا ذریعہ نا بنا لیں کیونکہ یہ حکومتی حربہ کامیاب ہوتا نظر آتا ہے۔
یہ نا ہو کل کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی حکومت پیسے بانٹنے شروع کردے۔ مثلا فلاں نے فلاں کے منہ پر تھپٹر مارا وزیر اعظم نے گھر جا کر معزرت کی اور 10000 کا چیک پیش کیا۔

حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ پیسہ ہر مرض کا علاج نہیں لوٹ کھسوٹ اور کمیشن سے دولت تو کمائی جا سکتی ہے لیکن اس دولت کو اس بانٹ کر عزت نہیں بنائی جا سکتی عزت بنانی ہے تو انصاف دو روٹی کپڑا اور سر پر چھت دو محنت سے روزی کمانے کے لیے ملازمت دو عزت سے جینے دو ۔۔۔۔۔نہیں تو یہ کرسی یہ ملک چھوڑ دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک طوائف بھی اپنا دھندہ چند اصولوں پر چلاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔

مستنصر حسین تارڑ

میرے پسندیدہ :۔

ہے کوئی عقد ثانی کا شوقین ؟

میرے مشاہدے میں آیا کہ عوام الناس میں ایک عجیب پرمسرت اور شادماں لہر دوڑ رہی ہے…چہرے خوشی سے تمتما رہے ہیں اور بات بے بات پر قہقہے لگائے جا رہے ہیں اور جمہوریت کی توصیف میں پل کے پل باندھے جا رہے ہیں کہ واہ صاحب یہ صرف جمہوریت ہی ہے جس کے صدقے میں دل کی بات بے دھڑک کہہ دی جاتی ہے…عوام کے دلوں میں جو امنگیں ہیں انہیں زبان مل جاتی ہے ورنہ آمریت میں تودل کی دل ہی میں رہ جاتی ہے …

البتہ میں نے یہ محسوس کیا کہ یہ جو مسرت اور شادمانی کی لہر ہے یہ صرف مرد حضرات کے چہروں پر نہ صرف دوڑ رہی ہے بلکہ سرپٹ بھاگی جا رہی ہے لیکن خواتین اس دوڑ میں ہر گز شامل نہیں ہیں حالانکہ اپنی نسیم حمید نے تو دوڑ دوڑ کر نئے ریکارڈ قائم کر دیئے ہیں اور یہ جو خواتین ہیں ان کے چہرے تو پہلے سے زیادہ غصیلے اور پر جوش ہوگئے ہیں اور ان میں میری اہلیہ محترمہ کا چہرہ بھی شامل ہے…چنانچہ یہ عقدہ مجھ سے نہ کھلا کہ آخر صرف مرد حضرات ہی کیوں دمکتے پھرتے ہیں اور جمہوریت کے گن گاتے چلے جاتے ہیں…

یہاں تک کہ صبح کی سیر کے میرے ساتھی بابا جات بھی چمکتے پھرتے ہیں کہ واہ صاحب جمہوریت کی کیا بات ہے دل خوش کردیا ہے… میں نے ایک ایسے ہی دوست بابا جی سے اس سلسلے میں مدد چاہی کہ بابا ان دنوں مرد حضرات تو خوشی سے دیوانے ہو رہے ہیں لیکن خواتین نہایت خونخوار ہوتی جاتی ہیں اس کا کیا سبب ہے تو انہوں نے مجھے ایک پرمسرت دھپ رسید کرتے ہوئے کہا…تارڑ صاحب آپ کو حالات حاضرہ کا کچھ علم نہیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے…

جناب پنجاب اسمبلی کی ایک محترمہ ممبر صاحبہ نے باقاعدہ اسمبلی میں کھڑے ہو کر یہ بیان دیا ہے کہ خواتین سرپلس ہو رہی ہیں اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ مرد حضرات فوری طور پر دوسری یا تیسری شادیاں کرلیں… یوں مسئلہ حل ہو جائے گا… بلکہ انہوں نے انتہائی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے شوہر نامدار کو بھی یہی مشورہ دیا ہے کہ بے شک آج شام سے پہلے پہلے دوسری بیوی کرلو مجھے کچھ اعتراض نہ ہوگا… تارڑ صاحب یہ سب جمہوریت کی کرامت ہے ورنہ آج تک کبھی کسی نے مردوں کے دفن شدہ جذبات کی یوں کھلے عام نمائندگی نہیں کی تھی… بھلا آپ ہی بتایئے کہ دنیا میں وہ کونسا مرد ہے جس کی باچھیں عقد ثانی کے نام پر کھل نہیں جاتیں اور دل میں لڈو نہیں پھوٹتے…میں تو آئندہ انہی خاتون کو ووٹ دوں گا چاہے یہ الیکشن میں کھڑی ہوں یا نہ ہوں…

اس دل پذیر خبر سے مجھ پر بھی ایک نہایت مسرت آمیز کیفیت طاری ہوگئی‘ میرے دل میں تو اتنے ڈھیروں لڈو پھوٹے جیسے وہاں مٹھائی کی دکان کھل گئی ہے… عقدثانی‘ دوسری شادی‘ ایک اور بیوی… ظاہر ہے موجودہ بیگم سے قدرے کم سن ہو تو بہتر ہے‘ ورنہ اس عمر کی ایک اور بیگم گھر میں لانے سے فائدہ… ذات پات کی کوئی قید نہیں‘ بے شک زیادہ خوبصورت نہ ہو‘ جہیز کامطالبہ بھی نہیں کیا جائے گا…روٹی کپڑا اور مکان مہیا کیا جائے گا‘ تعلیم یافتہ ہونا بھی ضروری نہیں کہ پہلے والی تعلیم یافتہ ہے تبھی تو ٹکا سا جواب دیتی ہے اور میری تحریروں میں غلطیوں کی نشاندہی کرتی رہتی ہے… اور ہاں یہ جو مارے خوشی کے یہ کہہ گیا کہ ذات پات کی کوئی قید نہیں تو اسے درست کر لیجئے کہ دوسری بیگم کچھ بھی ہو راجپوت نہ ہو کہ اسے تو ہم ایک عرصے سے بھگت رہے ہیں

عقد ثانی ایک ایسا منتر ہے جو ہر مردکے دل کے دروازے کھٹاک سے کھول دیتا ہے‘ دوسری شادی مرد کے کانوں میں رس گھولتی اس کی روح کو سرشار کردیتی ہے ایک اور بیوی کا تصور ایسا ہے کہ ہر جانب غنچے کھلنے لگتے ہیں صحرا میں بہار آجاتی ہے اورہولے سے باد نسیم چلنے لگتی ہے…ہندوؤں کے کسی وید میں درج ہے کہ اگر کوئی مرد جو بہت بوڑھا ہو اور اتنا بیمار ہو کہ اس کے بچنے کی کوئی امیدنہ ہو‘ کوئی دوا اثر نہ کرے کوئی دعا قبول نہ ہو اور وہ آخری سانسوں پر آجائے تو ایک نوجوان کنیا لے آیئے اور وہ جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کرے کہ… میں تمہارے لئے ہوں… مجھے پکڑ لو… اگر تو اس قریب المرگ بابا جی میں کچھ سکت ہوگی تو وہ فوراً چھلانگ مار کر اٹھ بیٹھیں گے اور کنیا کو اپنی جان کے لالے پڑ جائیں گے اور ان کی جان بچ جائے گی… اور اگر بابا جی اس پیشکش پر بھی نہ اٹھیں تو سمجھ لیجئے کہ وہ پرلوک سدھار چکے ہیں…

دراصل ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی ہندو ثقافت کے غلام ہیں کہ ان کے ہاں دوسری شادی کو پاپ سمجھا جاتا ہے جب کہ اپنے برادر مسلم ملکوں کی جانب نگاہ کیجئے کہ وہاں دو تین بیویاں تو معمول کی بات ہیں یعنی اگر پلے میں مال پانی ہو تو…بلکہ وہ ہم پاکستانیوں پر اکثر ترس کھا کر کہتے ہیں کہ اچھا تو آپ کی صرف ایک بیوی ہے… ہائے ہائے آپ تو مسکین ہیں‘ آپ پر ترس آتا ہے…

جدہ کے ایک کمپاؤنڈ میں ایک موٹے تازے صاحب سے ملاقات ہوئی جن کی پتلون ان کی توند سے مسلسل کسک جاتی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ وہ ائیر فورس میں ہیں‘ ہر ہفتے کہیں غائب ہو جاتے تھے اور دو ہفتوں کے بعد نمودار ہوتے تھے… میں نے پوچھا تو کہنے لگے اپنی دوسری بیوی کے پاس بیروت گیا تھا

میں نے رشک کے مارے لوٹ پوٹ ہوتے کہاکہ سبحان اللہ آپ کی دو بیویاں ہیں تو کہنے لگے نہیں تین ہیں‘ تیسری میری خالہ زاد ہے گاؤں میں رہتی ہے … بلکہ انہی دنوں ایک دلچسپ خبر شائع ہوئی کہ سعودی عرب میں اکٹھی تین خواتین نے بیک وقت ایک وین ڈرائیور سے شادی کرلی… ان کا کہنا تھا کہ یہاں عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں اور نامحرم کے ساتھ بھی نہیں بیٹھ سکتیں چنانچہ ہم نے اس وین ڈرائیور سے اس لئے شادی کرلی کہ یہ ہمیں روزانہ اس سکول میں چھوڑ آیا کرے گا جہاں ہم تینوں کام کرتی ہیں…

قصہ مختصر جب میرے دوست بابا جی نے مجھے پنجاب اسمبلی کی رکن خاتون کا یہ بیان سنایا کہ مردوں کو دو دو شادیاں کرنی چاہئیں تو میں دل ہی دل میں عقد ثانی کی منصوبہ بندی کرتے نہایت مسرت آمیز کیفیت میں گھر پہنچا اور بیگم کو ان کے روح پرور بیان سے آگاہ کرکے دوسری شادی کے لئے یو نہی سرسری سی آمادگی ظاہر کی‘ اس کے بعد چراغوں میں توکیا سرچ لائٹوں میں بھی روشنی نہ رہی بیگم جو ماشاء اللہ نماز روزے کی پابند ہیں یکدم راجپوت ہو کر پرتھوی راج چوہان کی مانند گویا تلوار سونت کر کھڑی ہوگئیں…

میرے ساتھ جو ہوا اس کی تو خیر ہے وہ تو ہوتا ہی رہتا ہے لیکن انہوں نے پنجاب اسمبلی کی رکن خاتون کی شان میں بھی گستاخیاں کیں اور ان میں چڑیل جیسے غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کئے کہ پہلے تو اپنے میاں کی دوسری شادی اپنے ہاتھوں سے کرے اور سوکن کو ہار پہنا کر اپنے گھر لائے اور پھر دوسروں کے خاوندوں کو یہ پٹی پڑھائے… میں نے اسے خبردار کیا کہ ایسی زبان استعمال کرنے سے اس خاتون ممبر کا وہ مجروح ہو جائے گا جسے استحقاق کہتے ہیں لیکن اس نیک بخت نے پھر بھی مزید گستاخیاں کیں… میں اس اسمبلی ممبر خاتون سے جس نے نیک نیتی سے مشورہ دیا تھا صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یا تو اسمبلی میں جو کچھ بیان دیں اسے قانونی شکل دے کر اس پر زبردستی عمل کرائیں ورنہ ایسے خالی خولی بیان دے کر ہمارے دل میں پھوٹنے والے لڈؤں کی فیکٹری لگا کر فوراً ہی ہمیں بیویوں کے ہاتھوں زدوکوب نہ کروائیں…اور ہاں آئندہ کسی محفل میں میری بیگم کے سامنے آنے سے گریز کیجئے گا یہ آپ کے بھلے کی بات کہتاہوں۔

Dated : 2010-02-25 00:00:00

ووٹ کاسٹنے کا اصلی طریقہ

ہم پاکستانی ہیں ہر جوڑ کا توڑ نکالنے والے اپنی بیوی چاہے گھر سے بھاگ گئی ہو مگر بازار میں بورڈ لگا کر بیٹھے ہوتے ہیں محبوب قدموں میں محبوبہ چھاتی پر ۔۔۔ پسند کی شادی ۔۔۔ من چاھا رشتہ ایک ہی تعویز سے حاصل کریں ۔
نہیں نہیں میں کوئی بورڈ والا نہیں ہوں مجھے تو ایک بہن نے بڑی دور سے للکارا ہے جیسے انہوں نے مجھے کہا ہے کم از کم مجھے تو ایسا ہی لگا تھا ۔
تو میرے مسلمان بھائیوں بہنوں آپ سے درخواست ہے بلکہ گزارش ہے کہ رج کے ووٹ کاسٹو نہیں تو یاد رکھو روز رزلٹ خدا نا خواسطہ بچیاں ھار گئیں تو مردوں کا گریبان اور لیڈیز کے بال ہوں گے چاہے ایک ہاتھ لمبے ہی کیوں نا ہوں ۔
میرے بھائیوں اور بہنوں محمد بن قاسم ایک آواز پر کہاں سے کہاں پہنچ گیا تھا اور آپ اپنے گھر آرام سے بیٹھ کر بھی ووٹ نہیں کاسٹ سکتے لیڈیذ کے لیے تو نہیں کیونکہ ان میں آل ریڈی شرم موجود ہوتی ہے لیکن مرد حضرات کے لیے شرم کی بات ہے ۔
ووٹ کاسٹنے کا طریقہ ۔۔۔۔
مندرجہ ذیل لنکز میں سے کسی پر پہلے کلک کریں ۔۔
http://casting.kiabi.com/casting/?id=377413
یہاں۔۔۔۔۔ ایک پیاری سی بچی جس کا نام حفضہ ہے اورنج کلر کی شلوار قمیض پہنی ہوئی ہے ماں کا نام اسماء بتاتی ہے والد کا ذکر کرتے ڈرتی ہے عمر پانچ سے سات سال ہے سر کے بال لمبے اور پیارے ہیں رنگ گورا ہاتھ میں اورنج پکڑے کھڑی نظر آئے گی ۔
http://casting.kiabi.com/casting/?id=378290
یہاں۔۔۔۔۔ ایک دوسری پیاری سی بچی جس کا نام طیبہ ہے گرے گلر کے کپڑے پہنے سامنے اورنج کیک رکھے ہاتھ میں بڑی سی چھری لیے لال رنگ کی چادر پر بیٹھی یقینا ابو کا انتظار کررہی ہے سر کے بال لمبے اور پیارے ہیں رنگ گورا ہے ۔
اچھا جی دیکھ لیا حفضہ اور طیبہ کو اب کرنا کیا ہے ۔۔
کسی ایک لنک پر جائیں
1۔پہلے خانے میں کوئی سا بھی ایک ای میل ایڈریس ایڈ کریں۔
2۔دوسرے خانے میں اپنی جنس کا بتائیں کہ آپ ہی ہیں شی ہیں یا ۔۔۔کون ہیں
3۔اپنا نام
4۔اپنا نیک نیم جیسے اشرف عرف اچھو جاوید عرف جیدا لیاقت عرف لیاکی
5۔اس خانے میں وہ تاریخ رقم کریں جو مطلب تاریخ پیدائیش رقم کریں خواتین گھبرائیں نہیں اصلی بتانے کی ضرورت نہیں 2 نمبر بھی چلے گی چاہے دو سال ہی لکھ دیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
6۔اس خانے میں وہ کلر نمبر ڈالیں جو آپکو نظر آرہے ہیں ۔
7۔ جی ہاں ساتواں اور آخری کام ووٹیز والا بٹن پریس کر دیں ۔
ٹوٹکے ۔۔۔
ایمیل ایڈریس جیسے mkaimik@gmail.com میرا ایڈریس ہے اس سے میں نے ایک ووٹ کاسٹا کیا پھر دوبارہ جا کر لنک پر کلک کیا تو میرا سب ڈیٹا موجود تھا اب میں نے اپنے ایمیل ایڈریس میں تھوڑی سی تبدیلی کی جیسے mkamik1@gmail.com اس میں صرف نمبر 1 کا اضافہ کیا ہے اور بدلے ہوئے کلر کوڈ ڈال کر دوسرا ووٹ کاسٹ کیا اسی طرح اگلی بار 1 کی جگہ 2 لگا دیں بس نمبر بدلتے جائیں ووٹ دیتے جائیں ۔
تو
میرے بہنوں اور میری بھائیوں اسی طرح آپ بھی ہر بچی کو پانچ پانچ لاکھ ووٹ ایسے کاسٹ کر سکتے ہیں جیسے ہماری حکومت ہر غلط کام پر پانچ لاکھ تقسیم کرتی ہے مگر یہ تو حکومتی کام نہیں ہمارا اپنا کام ہے ہمارے بچے ہیں انشااللہ یہی جیتیں گے تو ہو جاو شروع پاکستانی طریقے سے ووٹ ڈالنے ۔(:
باجی اسماء خوش ہوئیں ۔۔۔۔۔
باجی اسماء ساباس ہی دیں گئیں ۔۔۔۔

پیار کا دھوکا

پھر سے پیار کا دھوکا کھایا جا سکتا تھا
دل کا کیا ہے دل تو بہلایا جا سکتا تھا

کیوں واپس نہ آیا جا کر وہ جانے
لیکن اس کے پاس تو جایا جا سکتا تھا

گر نہ ہوتا موم کی صورت دل اپنا
غم کے سورج سے ٹکرایا جا سکتا تھا

ایک تمھارا ساتھ اگر مل جاتا تو
ساری دنیا کو ٹھکرایا جا سکتا تھا

لوگوں نے مجرم ٹھرایا مان لیا
آخر کس کس کو سمجھایا جا سکتا تھا

 

لے ڈوبا جب آنکھوں کو طوفان بتول
کیسے دل کا شہر بچایا جا سکتا تھا

شاعرہ ” فاخرہ بتول ”
سلیکشن ” کامی “

نیا میکس تھون

اگر آپ موڈ بنا کر بیٹھے ہیں کہ آج جی بھر کر چیٹنگ اور براوزنگ کروں گا مگر فائر فاکس ، ایکسپلورر سات سمیت کوئی بھی براوزر آپ کا ساتھ نہیں دے رھا تو گھبرائیں نہیں دنیا میں اور بھی براوزرز ہیں ایکسپلورر کے سوا جی ہاں میں بات کر رھا ہوں ” میکس تھون ” انٹر نیٹ براوزر کی جو آپ کی خواہشات پر پورا اترے گا ۔
میکس تھون ایک فری ایکسپلورر ہے اور اسے میکس تھون انٹر نیشنل نے بنایا ہے تاکہ براوزنگ کی دنیا میں کچھ نیا لایا جائے ۔میکس تھون کمپنی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کمیونٹی بھی ہے جس کے سٹاف ممبران اپنے فالتو ٹائم میں سے کچھ وقت اس کام کو فری دیتے ہیں تاکہ ذیادہ سے ذیادہ لوگوں کا بھلا ہو سکے ۔
میکس تھون ایک ایوارڈ یافتہ کمپنی ہے یہ 2003 سے اب تک مختلف ایوارڈ جیت چکی ہے۔
آپ اس لنک سے بہت جلد اور ایزی ڈاونلوڈنگ کر سکتے ہیں ۔

 http://www.maxthon.com/download.htm

فیس بک کے رسیے اس سے بہت خوش ہونگے کیونکہ اگر آپ اس میں موجود فیس بک اکاونٹ اوپن کریں گے تو یہ فیس بک کی اپ ڈیٹس بھی بتائے گا ۔
اسکے علاوہ سارے ای میل اکاونٹ بھی آپ چیک کر سکتے ہیں ۔
اسکے علاوہ بہت کچھ ہے بھائی اس میں وزٹ تو کرو۔
مجھے تو یہ بہت پسند آیا ہے کیونکہ یہ پوسٹ میں نے اسی براوزر میں ورڈپریس اوپن کر کے لکھی ہے ۔ یہ یونی کوڈ 8 کو سپورٹ کرتا ہے ۔
اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو فانٹ موجود ہیں تو بے فکر اردو پڑھیں اور لکھیں۔
اردو سائیٹ جیسے جنگ بی بی سی اردو اور ای پیپرز کا رزلٹ بھی شاندار ہے ۔
اسکے علاوہ کسی کو نئی چیز نطر آئے تو ضرور شئیر کرے ۔
کیوں عمر بھیاء ٹینشن خلاص ہوئی کہ نہیں ۔

بلاگی دھشت گردی ؟

میں اپنے آپ کو اس بلاگستان کا سب سے کرخت بلاگر سمجھتا تھا اسی وجہ سے لیڈیز بلاگر میرے بلاگ سے دور بھاگتی ہیں مگر اب مجھے اندازہ ہوا ہے کہ میں اتنا برا نہیں جتنا مجھے سمجھا جارھا ہے مجھ سے بڑھ کر بھی کوئی ہے میں بات کرنا چاھ رھا ہوں ان کمنٹس کی جو شاہدہ آپی کے بلاگ پر کیے گے۔
آجکل بلاگ پر بہت ہی غلط قسم کے لوگوں کا آنا جانا ذیادہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے غلط اور بے ہودہ قسم کے تبصرے ذیادہ کیے جا رہے ہیں ۔ ویسے تو جیسی تربیت ہو گی ویسی ہی سوچ ہو گی مگر تبصرہ کرنے سے پہلے کم از کم یہ تو دیکھ اور پڑھ لینا چاہیے کہ کس کے بلاگ پر تبصرہ کر رھا ہوں اور کیا لکھ رھا ہوں ۔
شاہدہ آپی کے بلاگ پر ہونے والے تبصرے میں نے پڑھے تو نہیں مگر تانیہ بہن کے بلاگ پر ایسے تبصرے میری نظر سے گزرے تھے جہاں تانیہ بہن نے شاہدہ آپی کی طرح پورے صبر اور تحمل کے ساتھ کام لیتے ہوئے نا صرف ان تبصروں کو پبلش کیا بلکہ انکا بھر پور جواب بھی دیا ۔
کسی لیڈیز یا جینٹس بلاگ پر ہر شخص اپنی رائے دے سکتا ہے مگر اس قسم کی حرکت کرنے والا اپنا تو نقصان کرے گا ساتھ ساتھ اپنے ماں باپ کی عزت کا جنازہ بھی نکالے گا اللہ تعالی ہر ماں باپ کو ایسی اولاد سے بچائے جو انکی عزت کا دشمن بن جائے ۔
آپ سب حضرات کی خدمت میں خصوصاٌ اردو بلاگ کی انتظامیہ کے گوش گزار کروں گا کہ وہ کوئی ایسی صلاحیت پیدا کریں کہ جس سے نامعلوم لوگ کسی بھی بلاگ پر تبصرہ نہ کر سکیں جب تک کہ وہ ای میل ایڈریس اردو بلاگز پر رجسٹر نہ ہو جائے ۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے ۔
یہ آپ اور میرے لیے چیلنج ہے کہ اپنی ماں بہنوں جیسی ہستیوں کو ان گٹر کی گندگی جیسے لوگوں سے محفوظ کریں ۔
شکریہ کامی

کھٹی املی

پڑھنے سے پہلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر سمجھ نہ آنے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں تمام کنفیوز تحریریں لیڈیز اور ستر سال کے بزرگوں سے دور رکھیں کسی بھی صورت نہ رکنے پر ادارہ ذمہ دار نہ ہو گا۔
نوٹ:۔ یہ پڑھنے کے بعد ” وہ ” عورتیں جو خود کو مظلوم سمجھتی ہیں یقیناٌ خود کو برتر اور اعلی قابل احترام سمجھیں گئیں ۔واللہ علم

یارو آجکل عورت ذات کو پھر اپنے مظلوم ہونے کا احساس ہوا ہے۔
اگر عورت ان پڑھ ہے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہے تو مانا جا سکتا ہے کہ عورت مظلوم ہے
مگر حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ اچھی خاصی پڑھی لکھی سمجھ دار عورتوں نے بھی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ عورت مظلوم ہے ۔
حیرت ہے ۔۔۔
عورت جس کو اللہ نے ایک آدم سے ہی پیدا کیا سوری کوئی اسلامی دلیل نہیں دینا چاہتا ۔
میں ان سے پوچھتا ہوں کہ عورت کن وجوھات کی بنا پر عورت کو مظلوم اور ستم ذدہ اور مرد کو فرعون اور ظالم قرار دیتیں ہیں ۔
کیا مرد عورت کو دیکھ نہیں سکتا اگر دیکھنے پر پابندی ہے تو ہزاروں کا میک اپ کیوں کروایا جاتا ہے بازاروں میں فل تیار ہو کر کیوں نکلا جاتا ہے ۔
اگر کسی دوسرے ملک میں ہوں تو انہیں اور کوئی نہیں دیکھتا بس پاکستانی ہی دیکھتے ہیں ظاہر ہے ان لوگوں کو کیا معلوم عورت کیا چیز ہے سوائے حرص مٹانے والی مخلوق کے اسی لیے وہاں عورت اور مرد کا فرق ختم ہے خاندانی سسٹم نہیں بچے شرائط پر پیدا کیے جاتے ہیں اور پھر جوان ہونے پر انکو اسی سلسلے سے جوڑ دیا جاتا ہے جہاں انکے نام نہاد ماں باپ نے شروع کیا تھا۔کو پتا نہیں کون کس کا بیٹا اور کس کی بیٹی ہے۔
اگر کوئی مرد کسی عورت پر ہاتھ اٹھاتا ہے تو کوئی وجہ ہو گی کو ئی گھریلو مسلہ ہو سکتا ہے مسلے کو پسے پشت ڈال کر عورت کو مظلوم قرار دے دینا درست نہیں اصل وجہ وہ مسلہ ہے اس کو درست کرنے کی ضرورت ہے ۔
دوسری بات عورت کو مردوں جیسے حقوق حاصل نہیں ان کو دبایا جاتا ہے اور آگے بڑھنے سے روکا جاتا ہے یہ بھی غلط ہے۔
آج پاکستانی عورت
وزیر اعظم بنتی ہے مگر عورت پھر بھی مظلوم ہی رہی
سپیکر قومی اسمبلی ہے ویسے لگتا ہے جیسے کوئی شادی اٹینڈ کر رہی ہیں
ممبر قومی اسمبلی ہے جہاں چلا چلا کر اپنا غصہ اتارتی ہے
ممبر پنجاب اسملبی ہے جس کا فائدہ اٹھا کر کریڈڈ کارڈ چراتی ہے
بہترین ایکٹرس ہے ویسے ایکٹر تو ہر عورت ہی ہوتی ہے
بہترین رائیٹر
بہترین بلاگر جیسے انیقہ اسماء اور سعدیہ
اعلیٰ سپیشلسٹ ڈاکٹر ہیں
اعلی قسم کی اینکر پرسن ہیں جیسے عتیقہ اوڈھو وغیرہ دل خوش ہو جاتا ہے ۔
بہترین استاد ہے چاہے گھر میں ہو یا کسی مدرسے میں صرف بچوں کی۔
پائیلٹ ہیں اور جہاز اڑاتیں ہیں ۔
یہ مظلومیت صرف ان پڑھ عورتوں کے قصے ہیں۔
مگر مجھے لگتا ہے جو کچھ پاکستانی عورت کے بارے لکھا جارھا ہے وہ کسی دیہاتی عورت کا گھریلو قصہ ہے جو لوگوں کی کمیٹیاں کھا جاتی ہے اور چرچا نہیں ہوتا۔
میری پاکستانی عورتوں سے گزارش ہے کہ خدا راہ جو عزت آپ کو بخشی گئی ہے اس کا پرچار کریں نہ کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے اپنے آپ کو مظلوم کہلوانا ۔۔
نہی ہے کوئی چیز نکمی زمانے میں
کیسی اداسی چھائی ہے زنان خانے میں

اللہ کا گھر ۔۔۔۔

ایک دن مغرب کے بعد تین چار باریش ٹوپی بردار اشخاص میرے پاس آئے اور بہت محبت سے ملے سلام دعا کے بعد ان اشخاص نے اپنا تعارف یوں کروایا کہ یہ فلاں شعبہ سے ہیں اور یہ فلاں کام کرتے ہیں یہ پاکستان سے ایک تبلیغی جماعت لیکر شارجہ آئے ہیں اور اسی سلسلے میں آج آپ کے شہر میں ایک تبلیغی نشست بعد نماز عشاء رکھی ہے آپ لوگ ضرور شرکت فرمائیں اور میرے بھائی ابھی بھی وقت ہے اللہ کی طرف رجوع کریں اور نماز کی پابندی کریں ۔۔۔۔اسکے بعد وہ حضرات آنے کہ تاکید کرتے ہوئے چلے گئے ۔
ان کے جانے کے بعد میں سوچ میں پڑ گیا اور مجھے وہ شخص یاد آیا جو ایک دفعہ میر پاس آیا اور تبلیغ کی باتیں کرنے کے بعد بولا بھائی صاحب میں منڈی بہاولدین کا رہنے والا ہوں ۔آپ بھی ماشااللہ پاکستانی بھائی ہیں۔ میں نے ایک مسجد شروع کر رکھی ہے آپ سے گذارش ہے کہ اس نیک کام میں حصہ ڈالیں ۔ ان صاحب کے پاس باقاعدہ پاکستان سے پرنٹ شدہ رسید بک بھی تھی میرا دماغ پہلے ہی گرم تھا کسی بات پر اور یہ بچارہ میرے ہتھے چڑھ گیا ۔ میں نے کہا بھائی صاحب آپ کا دماغ ٹھیک ہے آپ کو پتا ہے آپ اس وقت کہاں ہیں میں ایک کال کروں گا اور آپ جعل سازی میں اندر ہو جائیں گے اس لئے بہتر یہ ہی ہے کہ آپ تشریف لے جائیں ۔وہ شخص تھوڑا گھبرایا مگر پھر تھوڑی ہمت کر کے بولا میرے بھائی میں نے تو مسجد کے لئے چندہ مانگا ہے اپنے لئے تھوڑا کچھ مانگا ہے میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات شروع کی ۔۔بھائی میری بات سنو۔۔ ایسی رسیدی مسجدیں پاکستان میں بہت بنتی دیکھیں ہیں اور تم پاکستان سے بیس پچیس ہزار کی ٹکٹ لیکر یہاں چندہ لینے آئے ہو یہاں رہنے کا کھانے کا اور چھوٹے موٹے خرچے ہیں اگر یہ سب تم نہ کرتے اور یہ سارے پیسے مسجد پر لگاتے تو کتنا اچھا ہوتا ۔۔۔وہ صاحب بولے بھائی مدد نہیں کرنی تو نہ سہی۔۔ یہ کہ کر وہ شخص ایسا غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔۔
میں سوچتا ہوں اس ملک کے مولوی حضرات کو اپنی قوم کی اتنی فکر نہیں جتنی ہمارے مولوی صاحبان کو ہے
کتنا خرچہ کر کے وہ یہاں آتے ہیں جن سے کتنے لوگوں کی مدد ہو سکتی ہے ۔میں تبلیغ کے خلاف بات نہیں کر رہا مجھے دکھ ہے ایسے لوگوں پر جو پاکستان کا نام بدنام کرتے ہیں اور اللہ کا تو خوف انکو ہے نہیں ۔ آج کا دور میڈیا کا دور ہے گھر گھر بات پہنچانے کا آسان زریعہ ہے ویسے بھی اب بات سننے کے لیے کس کے پاس وقت ہے۔

نیا سال

آپ کو کچھ کہنا ہے تو کہیے مجھے کچھ نہیں کہنا۔۔۔۔۔۔۔

بیتے دن

بیتے دنوں کو سوچتا ہوں تو غم کے بادل چھا جاتے ہیں
یادوں کی بجلیاں کڑکنے لگتی ہیں
اور
آنکھوں سے غم کی برسات شروع ہو جاتی ہے
بیتے دنوں کو سوچتا ہوں تو
بھری دنیا میں خود کو تنہاء پاتا ہوں
دماغ سن ہوجاتا ہے
دل دھڑکنا بند کر دیتا ہے
بیتے دنوں کو سوچتا ہوں تو
قہقہے سرگوشیاں وہ معصوم مسکراہٹیں
مجھ سے ٹکرا کر واپس گم ہو جاتے ہیں
بیتے دنوں کو سوچتا ہوں تو
وہ خوبصورت جگہ جہاں کبھی خوشی تھی جوش تھا جذبے تھے محبت تھی خواہشیں تھیں وعدے تھے
وہ خوبصورت جگہ آج ویران ہے سنسان ہے
بیتے دنوں کو سوچتا ہوں تو
یہ زندگی ایک خواب سی لگتی ہے
ایک خواب جو ایک دن ٹوٹ جائے گا
خواب تو ہوتے ہی ٹوٹنے کے لیے ہیں
پھر خوابوں سے پیار کیوں امید کیوں
کاش میں یہ بیتے دن اپنی زندگی سے نکال سکتا
مگر یہ روح کی طرح مجھ میں سما چکے ہیں

جادو اور جادوگری

سورۃ النَّاس
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

کہہ دو میں لوگوں کے رب کی پناہ میں آیا (۱) لوگوں کے بادشاہ کی (۲) لوگوں کے معبود کی (۳) اس شیطان کے شر سے جووسوسہ ڈال کر چھپ جاتا ہے (۴) جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے (۵) جنوں اور انسانوں میں سے (۶ 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ :۔
بنو زریق کے لبید اعصم نامی ایک یہودی نے نبی صل اللہ علیہ وسلم پر جادو کردیا۔آپ نبی صل اللہ علیہ وسلم کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ نبی صل اللہ علیہ وسلم کچھ کر رہے ہیں حالانکہ آپ نبی صل اللہ علیہ وسلم کچھ نہیں کرتے تھے۔
ایک دن کی بات ہے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے کئی مرتبہ دعا فرمائی پھر فرمایا :۔ عائشہ ! کیا تم جانتی ہو ؟ کہ میں نے اللہ سے جس معاملے میں دعا کی تھی اس نے میری دعا کو قبول فرما لیا ہے۔ میرے پاس دو آدمی آئے ایک میرے سرھانے بیٹھا اور دوسرا پائینتی۔سرھانے والے نے پا ئینتی والے سے یا پائینتی والے نے سرھانے والے سے کہا :۔
اس شخص کو کون سی بیماری ہے ؟
دوسرے نے کہا اس پر جادو کا اثر ہے۔
اس نے کہا :۔اس پر کس نے جادو کیا ؟
دوسرے نے کہا :۔لبید بن اعصم نے۔
اس نے کہا:۔ کس چیز میں ؟
دوسرے نے کہا:۔ کنگھی کے بالوں اور کھجور کے کھوکھلے شگوفے میں۔
اس نے کہا:۔یہ کہاں ہیں ؟
دوسرے نے کہا:۔ذی اروان کے کنویں میں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں :۔ نبی صل اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ ساتھیوں کو لیکر اس کنویں کے پاس گئے اور اس کو دیکھا پھر آپ نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔اے عائشہ ! (رضی اللہ عنہ) اس کنویں کا پانی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس میں مہندی آمیزہ ہو اس کا کھجور کا درخت ایسا لگتا تھا گویا شیطانوں کے سر ہوں۔عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں میں نے کہا:۔ آپ نے اس کو ( بال اور کھجور کا شگوفہ جس میں جادو کیا گیا تھا ) کیوں نہیں جلا ڈالا گیا ؟ آپ نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔نہیں مجھے تو اللہ نے شفاء دے دی میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کردوں اس لیے اس کو دفن کروا دیا۔(بخاری۔مسلم)
اس واقعہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نبی صل اللہ علیہ وسلم پر جادو کے اثر سے آپ کی نبوت و رسالت میں بھی التباس پیدا ہوا ہو کیونکہ جادو کا اثر آپ نبی صل اللہ علیہ وسلم کے دل اور دماغ تک نہیں‌پہنچ سکا تھا۔دوسری بیماریوں کی طرح یہ بھی اک بیماری تھی جو آپ کو لگ گئ تھی ۔

بے روز گا ر نوجوانوں

قدرت نے مزا رکھا ہے

جب سے بیگم نے مجھے مرغا بنا رکھا ہے
میں نے نظروں کی طرح سر بھی جھکا رکھا ہے

برتنوں آج میرے سر پہ برستے کیوں ہو
میں نے دھو دھو کے تمہیں کتنا سجا رکھا ہے

پہلے بیلن نے بنایا میرے سر پہ گومڑ
اور چمٹے نے میرا گال سجا رکھا ہے

سارے کپڑے تو جلا ڈالے میری بیگم نے
زیب تن کرنے کو بنیان پھٹا رکھا ہے

اے کنوارو یونہی آباد رہو شاد رہو
ہم کو بیگم نے تو سولی پہ چڑھا رکھا ہے

وہی دنیا میں مقدر کا سکندر ٹھرا
جس نے خود کو یہاں شادی سے بچا رکھا ہے

روز لیتی ہے تلاشی وہ پولیس کی مانند
پوچھتی ہے کہاں پیسوں کو چھپا رکھا ہے

پی جا اس مار کی تلخی کو ہنس کر اکبر
مار کھانے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے