بلاگی دھشت گردی ؟

میں اپنے آپ کو اس بلاگستان کا سب سے کرخت بلاگر سمجھتا تھا اسی وجہ سے لیڈیز بلاگر میرے بلاگ سے دور بھاگتی ہیں مگر اب مجھے اندازہ ہوا ہے کہ میں اتنا برا نہیں جتنا مجھے سمجھا جارھا ہے مجھ سے بڑھ کر بھی کوئی ہے میں بات کرنا چاھ رھا ہوں ان کمنٹس کی جو شاہدہ آپی کے بلاگ پر کیے گے۔
آجکل بلاگ پر بہت ہی غلط قسم کے لوگوں کا آنا جانا ذیادہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے غلط اور بے ہودہ قسم کے تبصرے ذیادہ کیے جا رہے ہیں ۔ ویسے تو جیسی تربیت ہو گی ویسی ہی سوچ ہو گی مگر تبصرہ کرنے سے پہلے کم از کم یہ تو دیکھ اور پڑھ لینا چاہیے کہ کس کے بلاگ پر تبصرہ کر رھا ہوں اور کیا لکھ رھا ہوں ۔
شاہدہ آپی کے بلاگ پر ہونے والے تبصرے میں نے پڑھے تو نہیں مگر تانیہ بہن کے بلاگ پر ایسے تبصرے میری نظر سے گزرے تھے جہاں تانیہ بہن نے شاہدہ آپی کی طرح پورے صبر اور تحمل کے ساتھ کام لیتے ہوئے نا صرف ان تبصروں کو پبلش کیا بلکہ انکا بھر پور جواب بھی دیا ۔
کسی لیڈیز یا جینٹس بلاگ پر ہر شخص اپنی رائے دے سکتا ہے مگر اس قسم کی حرکت کرنے والا اپنا تو نقصان کرے گا ساتھ ساتھ اپنے ماں باپ کی عزت کا جنازہ بھی نکالے گا اللہ تعالی ہر ماں باپ کو ایسی اولاد سے بچائے جو انکی عزت کا دشمن بن جائے ۔
آپ سب حضرات کی خدمت میں خصوصاٌ اردو بلاگ کی انتظامیہ کے گوش گزار کروں گا کہ وہ کوئی ایسی صلاحیت پیدا کریں کہ جس سے نامعلوم لوگ کسی بھی بلاگ پر تبصرہ نہ کر سکیں جب تک کہ وہ ای میل ایڈریس اردو بلاگز پر رجسٹر نہ ہو جائے ۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے ۔
یہ آپ اور میرے لیے چیلنج ہے کہ اپنی ماں بہنوں جیسی ہستیوں کو ان گٹر کی گندگی جیسے لوگوں سے محفوظ کریں ۔
شکریہ کامی

کھٹی املی

پڑھنے سے پہلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر سمجھ نہ آنے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں تمام کنفیوز تحریریں لیڈیز اور ستر سال کے بزرگوں سے دور رکھیں کسی بھی صورت نہ رکنے پر ادارہ ذمہ دار نہ ہو گا۔
نوٹ:۔ یہ پڑھنے کے بعد ” وہ ” عورتیں جو خود کو مظلوم سمجھتی ہیں یقیناٌ خود کو برتر اور اعلی قابل احترام سمجھیں گئیں ۔واللہ علم

یارو آجکل عورت ذات کو پھر اپنے مظلوم ہونے کا احساس ہوا ہے۔
اگر عورت ان پڑھ ہے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہے تو مانا جا سکتا ہے کہ عورت مظلوم ہے
مگر حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ اچھی خاصی پڑھی لکھی سمجھ دار عورتوں نے بھی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ عورت مظلوم ہے ۔
حیرت ہے ۔۔۔
عورت جس کو اللہ نے ایک آدم سے ہی پیدا کیا سوری کوئی اسلامی دلیل نہیں دینا چاہتا ۔
میں ان سے پوچھتا ہوں کہ عورت کن وجوھات کی بنا پر عورت کو مظلوم اور ستم ذدہ اور مرد کو فرعون اور ظالم قرار دیتیں ہیں ۔
کیا مرد عورت کو دیکھ نہیں سکتا اگر دیکھنے پر پابندی ہے تو ہزاروں کا میک اپ کیوں کروایا جاتا ہے بازاروں میں فل تیار ہو کر کیوں نکلا جاتا ہے ۔
اگر کسی دوسرے ملک میں ہوں تو انہیں اور کوئی نہیں دیکھتا بس پاکستانی ہی دیکھتے ہیں ظاہر ہے ان لوگوں کو کیا معلوم عورت کیا چیز ہے سوائے حرص مٹانے والی مخلوق کے اسی لیے وہاں عورت اور مرد کا فرق ختم ہے خاندانی سسٹم نہیں بچے شرائط پر پیدا کیے جاتے ہیں اور پھر جوان ہونے پر انکو اسی سلسلے سے جوڑ دیا جاتا ہے جہاں انکے نام نہاد ماں باپ نے شروع کیا تھا۔کو پتا نہیں کون کس کا بیٹا اور کس کی بیٹی ہے۔
اگر کوئی مرد کسی عورت پر ہاتھ اٹھاتا ہے تو کوئی وجہ ہو گی کو ئی گھریلو مسلہ ہو سکتا ہے مسلے کو پسے پشت ڈال کر عورت کو مظلوم قرار دے دینا درست نہیں اصل وجہ وہ مسلہ ہے اس کو درست کرنے کی ضرورت ہے ۔
دوسری بات عورت کو مردوں جیسے حقوق حاصل نہیں ان کو دبایا جاتا ہے اور آگے بڑھنے سے روکا جاتا ہے یہ بھی غلط ہے۔
آج پاکستانی عورت
وزیر اعظم بنتی ہے مگر عورت پھر بھی مظلوم ہی رہی
سپیکر قومی اسمبلی ہے ویسے لگتا ہے جیسے کوئی شادی اٹینڈ کر رہی ہیں
ممبر قومی اسمبلی ہے جہاں چلا چلا کر اپنا غصہ اتارتی ہے
ممبر پنجاب اسملبی ہے جس کا فائدہ اٹھا کر کریڈڈ کارڈ چراتی ہے
بہترین ایکٹرس ہے ویسے ایکٹر تو ہر عورت ہی ہوتی ہے
بہترین رائیٹر
بہترین بلاگر جیسے انیقہ اسماء اور سعدیہ
اعلیٰ سپیشلسٹ ڈاکٹر ہیں
اعلی قسم کی اینکر پرسن ہیں جیسے عتیقہ اوڈھو وغیرہ دل خوش ہو جاتا ہے ۔
بہترین استاد ہے چاہے گھر میں ہو یا کسی مدرسے میں صرف بچوں کی۔
پائیلٹ ہیں اور جہاز اڑاتیں ہیں ۔
یہ مظلومیت صرف ان پڑھ عورتوں کے قصے ہیں۔
مگر مجھے لگتا ہے جو کچھ پاکستانی عورت کے بارے لکھا جارھا ہے وہ کسی دیہاتی عورت کا گھریلو قصہ ہے جو لوگوں کی کمیٹیاں کھا جاتی ہے اور چرچا نہیں ہوتا۔
میری پاکستانی عورتوں سے گزارش ہے کہ خدا راہ جو عزت آپ کو بخشی گئی ہے اس کا پرچار کریں نہ کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے اپنے آپ کو مظلوم کہلوانا ۔۔
نہی ہے کوئی چیز نکمی زمانے میں
کیسی اداسی چھائی ہے زنان خانے میں

اللہ کا گھر ۔۔۔۔

ایک دن مغرب کے بعد تین چار باریش ٹوپی بردار اشخاص میرے پاس آئے اور بہت محبت سے ملے سلام دعا کے بعد ان اشخاص نے اپنا تعارف یوں کروایا کہ یہ فلاں شعبہ سے ہیں اور یہ فلاں کام کرتے ہیں یہ پاکستان سے ایک تبلیغی جماعت لیکر شارجہ آئے ہیں اور اسی سلسلے میں آج آپ کے شہر میں ایک تبلیغی نشست بعد نماز عشاء رکھی ہے آپ لوگ ضرور شرکت فرمائیں اور میرے بھائی ابھی بھی وقت ہے اللہ کی طرف رجوع کریں اور نماز کی پابندی کریں ۔۔۔۔اسکے بعد وہ حضرات آنے کہ تاکید کرتے ہوئے چلے گئے ۔
ان کے جانے کے بعد میں سوچ میں پڑ گیا اور مجھے وہ شخص یاد آیا جو ایک دفعہ میر پاس آیا اور تبلیغ کی باتیں کرنے کے بعد بولا بھائی صاحب میں منڈی بہاولدین کا رہنے والا ہوں ۔آپ بھی ماشااللہ پاکستانی بھائی ہیں۔ میں نے ایک مسجد شروع کر رکھی ہے آپ سے گذارش ہے کہ اس نیک کام میں حصہ ڈالیں ۔ ان صاحب کے پاس باقاعدہ پاکستان سے پرنٹ شدہ رسید بک بھی تھی میرا دماغ پہلے ہی گرم تھا کسی بات پر اور یہ بچارہ میرے ہتھے چڑھ گیا ۔ میں نے کہا بھائی صاحب آپ کا دماغ ٹھیک ہے آپ کو پتا ہے آپ اس وقت کہاں ہیں میں ایک کال کروں گا اور آپ جعل سازی میں اندر ہو جائیں گے اس لئے بہتر یہ ہی ہے کہ آپ تشریف لے جائیں ۔وہ شخص تھوڑا گھبرایا مگر پھر تھوڑی ہمت کر کے بولا میرے بھائی میں نے تو مسجد کے لئے چندہ مانگا ہے اپنے لئے تھوڑا کچھ مانگا ہے میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات شروع کی ۔۔بھائی میری بات سنو۔۔ ایسی رسیدی مسجدیں پاکستان میں بہت بنتی دیکھیں ہیں اور تم پاکستان سے بیس پچیس ہزار کی ٹکٹ لیکر یہاں چندہ لینے آئے ہو یہاں رہنے کا کھانے کا اور چھوٹے موٹے خرچے ہیں اگر یہ سب تم نہ کرتے اور یہ سارے پیسے مسجد پر لگاتے تو کتنا اچھا ہوتا ۔۔۔وہ صاحب بولے بھائی مدد نہیں کرنی تو نہ سہی۔۔ یہ کہ کر وہ شخص ایسا غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔۔
میں سوچتا ہوں اس ملک کے مولوی حضرات کو اپنی قوم کی اتنی فکر نہیں جتنی ہمارے مولوی صاحبان کو ہے
کتنا خرچہ کر کے وہ یہاں آتے ہیں جن سے کتنے لوگوں کی مدد ہو سکتی ہے ۔میں تبلیغ کے خلاف بات نہیں کر رہا مجھے دکھ ہے ایسے لوگوں پر جو پاکستان کا نام بدنام کرتے ہیں اور اللہ کا تو خوف انکو ہے نہیں ۔ آج کا دور میڈیا کا دور ہے گھر گھر بات پہنچانے کا آسان زریعہ ہے ویسے بھی اب بات سننے کے لیے کس کے پاس وقت ہے۔

نیا سال

آپ کو کچھ کہنا ہے تو کہیے مجھے کچھ نہیں کہنا۔۔۔۔۔۔۔

بیتے دن

بیتے دنوں کو سوچتا ہوں تو غم کے بادل چھا جاتے ہیں
یادوں کی بجلیاں کڑکنے لگتی ہیں
اور
آنکھوں سے غم کی برسات شروع ہو جاتی ہے
بیتے دنوں کو سوچتا ہوں تو
بھری دنیا میں خود کو تنہاء پاتا ہوں
دماغ سن ہوجاتا ہے
دل دھڑکنا بند کر دیتا ہے
بیتے دنوں کو سوچتا ہوں تو
قہقہے سرگوشیاں وہ معصوم مسکراہٹیں
مجھ سے ٹکرا کر واپس گم ہو جاتے ہیں
بیتے دنوں کو سوچتا ہوں تو
وہ خوبصورت جگہ جہاں کبھی خوشی تھی جوش تھا جذبے تھے محبت تھی خواہشیں تھیں وعدے تھے
وہ خوبصورت جگہ آج ویران ہے سنسان ہے
بیتے دنوں کو سوچتا ہوں تو
یہ زندگی ایک خواب سی لگتی ہے
ایک خواب جو ایک دن ٹوٹ جائے گا
خواب تو ہوتے ہی ٹوٹنے کے لیے ہیں
پھر خوابوں سے پیار کیوں امید کیوں
کاش میں یہ بیتے دن اپنی زندگی سے نکال سکتا
مگر یہ روح کی طرح مجھ میں سما چکے ہیں

جادو اور جادوگری

سورۃ النَّاس
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

کہہ دو میں لوگوں کے رب کی پناہ میں آیا (۱) لوگوں کے بادشاہ کی (۲) لوگوں کے معبود کی (۳) اس شیطان کے شر سے جووسوسہ ڈال کر چھپ جاتا ہے (۴) جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے (۵) جنوں اور انسانوں میں سے (۶ 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ :۔
بنو زریق کے لبید اعصم نامی ایک یہودی نے نبی صل اللہ علیہ وسلم پر جادو کردیا۔آپ نبی صل اللہ علیہ وسلم کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ نبی صل اللہ علیہ وسلم کچھ کر رہے ہیں حالانکہ آپ نبی صل اللہ علیہ وسلم کچھ نہیں کرتے تھے۔
ایک دن کی بات ہے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے کئی مرتبہ دعا فرمائی پھر فرمایا :۔ عائشہ ! کیا تم جانتی ہو ؟ کہ میں نے اللہ سے جس معاملے میں دعا کی تھی اس نے میری دعا کو قبول فرما لیا ہے۔ میرے پاس دو آدمی آئے ایک میرے سرھانے بیٹھا اور دوسرا پائینتی۔سرھانے والے نے پا ئینتی والے سے یا پائینتی والے نے سرھانے والے سے کہا :۔
اس شخص کو کون سی بیماری ہے ؟
دوسرے نے کہا اس پر جادو کا اثر ہے۔
اس نے کہا :۔اس پر کس نے جادو کیا ؟
دوسرے نے کہا :۔لبید بن اعصم نے۔
اس نے کہا:۔ کس چیز میں ؟
دوسرے نے کہا:۔ کنگھی کے بالوں اور کھجور کے کھوکھلے شگوفے میں۔
اس نے کہا:۔یہ کہاں ہیں ؟
دوسرے نے کہا:۔ذی اروان کے کنویں میں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں :۔ نبی صل اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ ساتھیوں کو لیکر اس کنویں کے پاس گئے اور اس کو دیکھا پھر آپ نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔اے عائشہ ! (رضی اللہ عنہ) اس کنویں کا پانی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس میں مہندی آمیزہ ہو اس کا کھجور کا درخت ایسا لگتا تھا گویا شیطانوں کے سر ہوں۔عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں میں نے کہا:۔ آپ نے اس کو ( بال اور کھجور کا شگوفہ جس میں جادو کیا گیا تھا ) کیوں نہیں جلا ڈالا گیا ؟ آپ نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔نہیں مجھے تو اللہ نے شفاء دے دی میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کردوں اس لیے اس کو دفن کروا دیا۔(بخاری۔مسلم)
اس واقعہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نبی صل اللہ علیہ وسلم پر جادو کے اثر سے آپ کی نبوت و رسالت میں بھی التباس پیدا ہوا ہو کیونکہ جادو کا اثر آپ نبی صل اللہ علیہ وسلم کے دل اور دماغ تک نہیں‌پہنچ سکا تھا۔دوسری بیماریوں کی طرح یہ بھی اک بیماری تھی جو آپ کو لگ گئ تھی ۔

بے روز گا ر نوجوانوں

قدرت نے مزا رکھا ہے

جب سے بیگم نے مجھے مرغا بنا رکھا ہے
میں نے نظروں کی طرح سر بھی جھکا رکھا ہے

برتنوں آج میرے سر پہ برستے کیوں ہو
میں نے دھو دھو کے تمہیں کتنا سجا رکھا ہے

پہلے بیلن نے بنایا میرے سر پہ گومڑ
اور چمٹے نے میرا گال سجا رکھا ہے

سارے کپڑے تو جلا ڈالے میری بیگم نے
زیب تن کرنے کو بنیان پھٹا رکھا ہے

اے کنوارو یونہی آباد رہو شاد رہو
ہم کو بیگم نے تو سولی پہ چڑھا رکھا ہے

وہی دنیا میں مقدر کا سکندر ٹھرا
جس نے خود کو یہاں شادی سے بچا رکھا ہے

روز لیتی ہے تلاشی وہ پولیس کی مانند
پوچھتی ہے کہاں پیسوں کو چھپا رکھا ہے

پی جا اس مار کی تلخی کو ہنس کر اکبر
مار کھانے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے

مستنصر حسین تارڑ

میرے پسندیدہ :۔

ٹیلی ویژن میزبانی کے رہنما اصول

جیسے یکدم کوئی فیشن چل نکلتا ہے….ہر نوجوان ایم بی اے کرنے لگتا ہے…. ہر لڑکی ڈھیلے ڈھالے پاجامے پہننے لگتی ہے اور پاگل لگتی ہے…. ہر بوڑھا دوسری شادی کرنے کے بارے میں سوچنے لگتا ہے، بالکل ایسے ہی ان دنوں ٹیلی ویژن میزبان بن جانے کا رواج نہایت پاپولر ہو گیا ہے…. ایک صاحب کا کہنا ہے کہ سوائے میرے سبزی والے اللہ رکھا کے اور دودھ والے دین پناہ کے ہر شخص ٹیلی ویژن پر میزبانی کے فرائض سرانجام دینے لگا ہے….

کوئی دن جاتا ہے جب اللہ رکھا اور دین پناہ بھی کسی کُکنگ شو کی میزبانی کر رہے ہوں گے….چونکہ میڈیا پر میزبانی سے میرا بھی جائز تعلق رہا ہے اس لئے آئے دن میزبان بننے کے شائق نوجوان اور لڑکیاں مجھ سے رابطہ کرتے رہتے ہیں تا کہ اس سلسلے میں ان کی کچھ رہنمائی کروں اور انہیں میزبانی کے رموز اور خفیہ نسخے بتا کر ان کا مستقبل درخشاں کردوں…. چونکہ فرداً فرداً ہر ایک شائق کے ساتھ سر کھپانے کیلئے نہ میرے پاس وقت ہے اور نہ اتنا بڑا سر کہ اسے کھپاتا چلا جاؤں اس لئے میں نے مناسب جانا کہ اس کالم میں ٹیلی ویژن پر میزبانی کے کچھ رہنما اصول درج کردوں تاکہ دو چار کا نہیں بہتوں کا بھلا ہو جائے۔

پچھلے زمانوں میں ٹیلی ویژن میزبان ایک ہی قسم کا ہوا کرتا تھا…. خالص اردو اور پنجابی میں بات کرتا تھا، انگریزی کو پاس نہیں پھٹکنے دیتا تھا کہ اس کی انگریزی صرف ” گڈبائے اور بائے بائے ” تک محدود ہوتی تھی…. موقع ہو نہ ہو اپنی تقریر دل پذیر میں شعر ٹانکتا جاتا تھا…. مہمانوں کی عزت کرتا تھا اور پورے پروگرام کے دوران وہ ایک ناراض ریچھ کی مانند نظر آتا تھا قطعی طور پر مسکراتا نہ تھا اور ایک افلاطون کی مانند باتیں کرتا تھا…. یہی میزبان مختلف شوز کی میزبانی کرتا تھا….

سائنس، موسیقی ، زراعت وغیرہ کے شوز کے علاوہ میلہ مویشیاں کی میزبانی بھی سہولت سے کرلیتا تھا….لیکن موجودہ دور میں صورت حال یکسر بدل چکی ہے…. ان دنوں ٹیلی ویژن میزبانوں کی متعدد اقسام رائج ہیں…. ان میں سرفہرست تو حالات حاضرہ کے پروگراموں کے میزبان ہیں…. انہیں آپ سیاسی میزبان کہہ سکتے ہیں…. عام طور پر ناکام صحافی ایسی میزبانی کیلئے نہایت موزوں ہوتے ہیں اور وہ اپنی صحافتی ناکامی کے بدلے گن گن کر اپنے شو میں آئے ہوئے سیاست دانوں سے لیتے ہیں…. اس نوعیت کی میزبانی کا سنہری اصول یہ ہے کہ آپ برسراقتدار پارٹی اور اپوزیشن کی پارٹیوں کے ارکان کو اپنے سامنے بٹھالیں اور ان سے صرف پوچھیں کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں….

آپ کا سوال ابھی ختم نہیں ہوگا کہ وہ مشترکہ طور پر غُل مچانے لگیں گے…. اپنی اپنی پارٹیوں کے حق میں دلائل کی بوچھاڑ کر دیں گے…. اور جب آپ انہیں صبر کی تلقین کریں گے تو وہ مزید سیخ پا ہو جائیں گے کہ میزبان صاحب آپ ہمیں اپنا نکتہ نظر بیان کرنے دیں…. میاں صاحب نے فرما دیا ہے….زرداری صاحب نے تو اعلان کر دیا ہے…. الطاف بھائی تو شروع دن سے کہتے چلے آئے ہیں…. اس دوران وہ آپ کی موجودگی بھول کر براہ راست ایک دوسرے سے مخاطب ہو جائیں گے اور ایک دوسرے کو بازاری عورتوں کی مانند طعنے دینے لگیں گے…. بلکہ یہاں تک کہہ دیں گے کہ چلو چلو میں تمہاری طرح کوٹھے سے اتر کر یا بیڈ روم کے راستے تو اقتدار میں نہیں آئی بے شک بعد میں وزیر اعظم معذرت کرتے پھریں….

یہ وہ لمحہ ہے جب آپ نے اپنی کرسی سے ٹیک لگا کر آرام سے بیٹھ جانا ہے، آپ نے چپ بیٹھے رہنا ہے، صرف کبھی کبھار اپنی عینک درست کرنی ہے اور ہاں ایک بیوقوفانہ سی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے رکھنا ہے…. آپ کے مہمان پورے پروگرام میں شور مچاتے رہیں گے، ایک دوسرے کے لتے لیتے رہیں گے اور اگر ان میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے تو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہیں گے…. اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کا پروگرام مزید ہنگامہ خیز ہو تو پروگرام کے آغاز سے پیشتر مہمانوں کی میز پر دوتین ایش ٹرے اور ایک دو گلدان بھی رکھ دیں…. تا کہ جب وہ طیش میں آجائیں تو جمہوری روایات کی پاسداری کرتے ہوئے یہ ایش ٹرے اور گلدان ایک دوسرے کی جانب اچھالتے جائیں

یعنی ایک دوسرے کے ” کھنے ” کھول دیں۔ جب پروگرام اختتام کو پہنچے تو آپ نے نہایت دکھ بھری شکل بنا کر کیمرے کی جانب دیکھتے ہوئے محب الوطنی اور قومی سلامتی کے حوالے سے ایک رقت آمیز تقریر کرنی ہے اور کہنا ہے کہ خواتین و حضرات کون کہتا ہے کہ ہم ایک زندہ قوم نہیں ہیں…. اپنے وطن کیلئے قربانی نہیں دے سکتے…. آج کے پروگرام میں ثابت ہو گیا ہے کہ ہمارے لیڈران کتنے پرجوش اور جذباتی ہیں…. یہ اپنے وطن کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں…. فی الحال مجھے اجازت دیجئے کیونکہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے کم از کم دو مہمانوں کو فرسٹ ایڈ کی ضرورت ہے، ان کی مرہم پٹی کروانے کیلئے مجھے ہسپتال بھی جانا ہے….خدا حافظ اور پاکستان زندہ باد….

ٹیلی ویژن میزبانوں کی دوسری قسم وہ ہے جس میں باورچی خانے کے سیٹ پر ایک صاحب اپنے قد سے دوگنا ایک سفید ٹوپ سا پہنے ہوئے بار بار سامنے رکھی خالی ہانڈیوں میں جھانکتے ہیں اور کہتے ہیں….واہ کیا کھانا ہے…. بس دو منٹ کے بعد تیار ہو جائے گا….یا پھر کوئی صاحبہ ہوتی ہے اور انہوں نے سر پر ریلوے کی قلی حضرات کی مانند ایک پگڑی سی باندھی ہوتی ہے اور وہ آپ کو آلو چھیلنے کے گرُ بتا رہی ہوتی ہیں….انہیں باورچی میزبان کہا جاتا ہے…. ایسی میزبانی کیلئے بھی کسی خاص تجربے یا صلاحیت کی ضرورت نہیں ہوتی….

بہت سے لوگ یہ گتھی سلجھانے میں ناکام رہے ہیں کہ بنیادی طور پر کھانا پکانا تو خواتین کا شعبہ ہے لیکن دنیا بھر میں جتنے بھی ہنرمند اور مشہور باورچی ہیں وہ سب کے سب مرد ہیں…. تو ایسا کیوں ہے…. اس کی ایک آسان سی وجہ ہے…. یہ وہ مرد ہوتے ہیں جن کی بیویاں انہیں ساری عمر بدمزہ اور جلی ہوئی خوراکیں کھلاتی ہیں چنانچہ وہ اتنے تنگ آتے ہیں کہ خود ہی کھانے پکانے لگتے ہیں…. اگر آپ ایک ایسے مرد ہیں جس کی بیوی نے ہمیشہ اسے بدذائقہ اور بیہودہ کھانے کھلائے ہیں تو آپ آسانی سے ایک میزبان باورچی بن سکتے ہیں….یوں پاکستان کا ہر مرد اس میزبانی کیلئے کوالی فائی کر جاتا ہے…. آپ نے پروگرام کے آغاز میں کسی اوٹ پٹانگ سی ڈش کا نام لینا ہے کہ جناب آج ہم یہ پکائیں گے….

مثلاً پاسٹا پوٹیٹو پاٹ لک…. پنیر پکوڑہ مکوزہ اٹالیانو ، گولاش گول گپ شپ، فش ٹائیں ٹائیں فش وغیرہ….اور پھر جو بھی الا بلا میز پر سجا ہو اسے دیگچیوں میں ڈال کر ان میں ڈوئی چلانے لگیں اور بار بار سُونگھ کر سر ہلائیں، پروگرام کو چٹخارے دار بنانے کیلئے کسی نخرے دار دوشیزہ کو کہیں کہ وہ ادھر ادھر مٹک مٹک کر چلتی پھرے یوں ناظرین اسے دیکھتے رہیں گے اور آپ من مانی کر سکیں گے (کھانے کے ساتھ) ڈش تیار ہو جائے تو اسے ایک پلیٹ میں انڈیل کر پھر سونگھیں اور آنکھیں بند کر کے سر ہلائیں کہ واہ کیا ڈش ہے لیکن اسے چکھنے سے اجتناب کریں اور اگر بہت ضروری ہو تو اُس باورچی خانے میں مٹکتی دوشیزہ کو ایک لقمہ کھلا دیں

اگر لقمہ حلق سے اترتے ہی دوشیزہ کا دم باہر آجائے اور وہ دھڑام سے فرش پر گر جائے تو فوری طور پر پروگرام کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہیں…. ناظرین غالباً مس شرمیلی ذائقے کی شدت کی وجہ سے بے ہوش ہو گئی ہیں…. میں انہیں ابھی لخلخہ سنگھاتا ہوں….اگلے پروگرام تک کیلئے خدا خافظ…. نوٹ : اگر لخلخہ میسر نہ ہو تو کچھ بھی سنگھا دیں….دوشیزہ ہوش میں آجائے گی (جاری ہے) اگر آپ فرمائیش کریں گے

مستنصر حسین تارڑ

میرے پسندیدہ :۔

زندگی کی پہلی تنہا عید مبارک

بے شک آپ کو کچھ حساب نہ ہو کہ کتنے روزے گزر چکے ہیں اور کتنے باقی رہ گئے ہیں لیکن اس کے باوجود آپ اپنے اردگرد ظاہر ہوتی ایسی علامتیں دیکھتے ہیں جن سے آپ جان جاتے ہیں کہ عید قریب ہے وہ خاکروب جوپچھلے ایک برس سے آپ کو نظر نہیں آیا وہ یکدم ظاہر ہو کر سڑک پر جھاڑو دینے لگتا ہے اور جونہی آپ قریب سے گزرتے ہیں تو وہ خوب دھول اڑا کر اپنی موجودگی کا ثبوت دیتاہے اور کہتا ہے ’’ سلام صاحب‘‘ وہ ڈاکیہ جس سے آپ کی ملاقات کم ہی ہوتی ہے وہ چاہے ایک بل لے کر آئے ‘ دروازے پر دستک دے کر اسے نہایت احترام سے آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے پوچھتا ہے‘ صاحب جی روزے کیسے چل رہے ہیں؟

گھریلو ملازم نہایت اہتمام سے گھر کی صفائی پر جت جاتے ہیں ایک ایش ٹرے کی نمائش کرتے ہوئے کہتے ہیں’’ لوجی میں نے چمکا چمکا کر اسے لش پش کر دیا ہے۔ خواجہ سرا آنے جانے لگتے ہیں‘ اور آپ روزانہ بینک جانے لگتے ہیں کہ جتنے پیسے نکلواتے ہیں وہ اس روز خرچ ہو جاتے ہیں چھوٹے بچے جو عام طورپر بہت بدتمیز ہوتے ہیں وہ آپ سے نہایت اخلاق سے پیش آنے لگتے ہیں… ان سب علامات سے ظاہر ہے کہ عید قریب آرہی ہے۔ پورے برس میں آپ کسی بھی دن حتمی طور پر نہیں جانتے کہ آج کیا ہوگا لیکن دونوں عیدوں پر آپ خوب جانتے ہیں کہ آج کیاہوگا…

عید کی سکرپٹ میں کوئی ردوبدل نہیں ہوتا‘ یہ وہ ڈرامہ ہے جس کے ہرمنظر سے آپ پہلے سے آگاہ ہوتے ہیں… اس کا آغاز ظاہر ہے عیدکی نماز کی ادائیگی سے ہوتا ہے‘ پھر آپ قبرستان جاتے ہیں‘ بزرگوں کی قبروں پر پھول چڑھا کر ذرا آبدیدہ ہو کر فاتحہ پڑھتے ہیں اور پھر گھر لوٹنے کے بعد دیگر مناظر شروع ہو جاتے ہیں یعنی وہی خوراک کی تیاری اور پھر عزیزوں اور دوستوں کا آناجانا وہ آپ کو اتنی مہلت نہیں دیتے کہ آپ ان کے ہاں چلے جائیں‘ وہ خود چلے آتے ہیں اور گئی رات تک چلے آتے ہیں…گھر کی گھنٹی مسلسل بجتی چلی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ٹیلی فون کی گھنٹی بھی شامل ہو کر عید کی سمفنی بجانے لگتی ہے۔

لیکن میری زندگی کی یہ پہلی عید ہے جو بقیہ تمام عیدوں سے یکسر مختلف ہے…یہ عید کی سکرپٹ کے مطابق بالکل نہیں ہے اورمجھے کچھ پتہ نہیں کہ عید کے روز کیا ہوگا اوراس کا سبب یہ ہے کہ میرے تینوں بچے محض اتفاق ہے کہ نیویارک اور اسکے آس پاس ہیں اور ان کی والدہ جو رشتے میں میری بیوی لگتی ہیں وہ بھی انہی کے پاس ہے…یوں یہ عید میں تنہا بسر کروں گا لیکن یہ مت قیاس کیجئے کہ میں اس تنہائی اوررجدائی سے رنجیدہ اوراداس ہو رہا ہوں ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ میں اس منفرد تجربے میں سے گزرنا چاہتا ہوں کہ دیکھتے ہیں ایک تنہا عید کیسی ہوتی ہے… اور میں رنجیدہ اس لئے نہیں ہوں کہ مجھ میں ایک اطمینان اور تسلی ہے کہ میرے بچے ماشاء اللہ جہاں بھی ہیں صحت مند ہیں اور اپنی زندگی سے خوش ہیں… اور ان کی جانب سے اللہ کرے کہ ہمیشہ ایسا ہی رہے کہ مجھے اچھی خبریں ملتی رہیں

میں عید کے روز ان کی تصویریں دیکھ کر اور ٹیلی فون پر ان کی آوازیں سن کر ہی خوش ہو جاؤنگا…اور اگر میرا پوتا یاشرفون پر صرف یہ کہہ دے کہ …دادا عید مبارک…. تو میری واقعی عید ہو جائے گی۔ ویسے میں یکسر تنہا تو نہیں‘ میرے برابر میں میرے دونوں بھائی رہائش رکھتے ہیں اور میری دونوں بھابھیوں نے میرے کان کھا مارے ہیں کہ بھائی جان عید کے روز آپ نے دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ کھانا ہے لیکن مجھے اس میں تامل ہے …اگرکسی ایک بھائی کے گھر کھانا کھاؤں تودوسرے بھائی کی بیگم ناراض ہو جائے گی کہ اچھا وہ ہم سے زیادہ پیارے ہیں…

علاوہ ازیں ایک اورتشویشناک پہلو بھی سامنے آرہا ہے کہ ایک بھائی کے بال بچوں نے ڈیکلیئر کر دیا ہے کہ بابا جان اگر آپ عید کے روز ہمارے ہاں کھانے کے لئے نہیں آئینگے تو ہم کھانا اٹھا کر آپ کے ہاں آجائینگے اورسب مل کر کھائینگے… اوریہ صورتحال تو بہت خوفناک ہوگی… بعدمیں سارے برتن مجھے دھونے پڑیں گے…بیگم کی غیر موجودگی کے دوران عام طورپر اور ان دنوں خصوصی طور پر یار لوگ مجھ پر بہت ترس کھا رہے ہیں کہ ہائے ہائے عیداکیلے کرو گے… سویاں میں لے کر آجاؤں گا…کھانا میں پہنچاؤں گا ‘ اب میں ان کی منت سماجت بھی کرتا ہوں کہ آپ کی محبت کا شکریہ… گھر میں طوطا نام کی ایک ملازمہ موجود ہے وہ کچھ کھا پکا لے گی یقین کیجئے میں بھوکا نہیں رہوں گا

یہ جو طوطا ہے اسکا اصل نام طاہرہ ہے لیکن اتنابولتی ہے کہ سب لوگ پیار سے اسے طوطا کہتے ہیں… بلکہ ان دنوں جب میں سبزی والے سے سبزی خریدتا ہوں تو کہتا ہوں کہ بھئی گھر میں اور کوئی نہیں تو کیا گوبھی کا یہ پھول میرے اور طوطا کے لئے کافی ہوگا تو وہ حیران ہو کر کہتاہے کہ تارڑ صاحب آپکا طوطا گوبھی کھاتاہے اور میں ہنس کرکہتا ہوں ہاں یہ والا طوطا نہ صرف گوبھی کھاتا ہے بلکہ بھنڈیاں ‘ کریلے اورمٹر پلاؤ بھی بہت شوق سے کھاتا ہے… میں نے اپنی زندگی میں کچھ عجیب اور دلچسپ عیدیں بھی گزاری ہیں ان میں سے ایک تقریباً پچاس برس پیشتر نوٹنگھم انگلستان میں گزاری تھی

میں پاکستان سے کم از کم ایک شلوار اپنے ساتھ لے گیاتھا تاکہ عید کے روز پہنی جا سکے…عید سے چند روز پیشتر میں اسے مقامی دھوبی یا ڈرائی کلینر کے پاس لے گیا اور اس سے درخواست کی کہ اسے سٹارچ لگا دے جس طرح ہمارے ہاں مایا لگاکر شلوار اکڑاتے ہیں… اس غریب انگریز کی سمجھ میں نہ آیاکہ یہ کیسا پہناوا ہے…بہر حال جب میں دو تین روز بعد شلوار وصول کرنے کیلئے گیا تو کیا دیکھتاہوں کہ اندر سے سفید رنگ کی ایک شے جو کھیتوں میں پرندوں کو ڈرانے والے بڈاوے کی مانند بازو پھیلائے ہوئے تھی چلی آرہی ہے شلوارتہہ نہیں کی گئی تھی بلکہ اسے پھیلا کر اکڑا دیا گیا تھا…بہر طور قصہ مختصرعید کے روز یہ کھڑکھڑاتی شلوارپہنی قمیض پر ایک نیلا بلیزر زیب تن کیا

نماز پڑھی اور سیر سپاٹے کے لئے نوٹنگھم کے سنٹرتک چلاگیا…میں وہاں کھڑاتھا کہ ایک بوبی یا سپاہی آگیا اور میری شلوار کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا ’’سر‘‘ آپ نائٹ سوٹ پہن کرپبلک میں چلے آئے ہیں جو کہ نہایت معیوب بات ہے…لوگ اعتراض کریں گے براہ کرم گھر واپس جاکر مناسب لباس پہن کر آیئے‘ان دنوں ابھی انگریز صاحب بہادرپاکستانیوں کی دھوتیوں اور شلواروں سے شناسا نہیں ہوئے تھے اور ہمارے لباس کو نائٹ سوٹ قرار دیتے تھے۔ بے شک مجھے طمانیت ہے… ایک سکون ہے کہ میرے بچے نیو یارک میں خوش و خرم ہیں ماشاء اللہ صحت مند ہیں اور ان کی جانب سے اچھی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن اس کے باوجود اس تنہا عید میں ایک اداسی تو ہوگی…اس کاکچھ مداوا نہیں…

البتہ یہ اداسی قدرے کم تب ہوگی جب میں عید کی نماز کے بعد گلبرگ کے قبرستان میں دفن اپنے ماں باپ کی قبروں پر جاؤں گا…ان پر پھول چڑھاؤں گا اور ان سے کچھ باتیں کرونگا اور ان سے درخواست کرونگا کہ وہ میرے لئے دعا کرتے رہیں… ان کی دعاؤں کی برکت سے مجھے اس جہاں میں سب کامیابیاں ملی ہیں۔ آپ سب کو تنہا عید کرتے ایک شخص کی جانب سے بہت بہت عید مبارک۔

لیلا عید مبارک

میری طرف سے تمام بلاگر بھائی بہنوں دوستوں اور

 پاکستان کی جرت مند مگر سوئی ہوئی عوام کو

عوامی لیلا

عید

مبارک ہو

اب بھی وقت ہے جاگ جاو نہیں تو اگلی عید پر یہی حالت ہو جائے گی ۔

ڈفرستان کی باجی بانو کے نام

باجی بانو کی باتیں پڑھ کر کمنٹنے لگا تو ایسا لگا کہ بات بہت گہری ہے ۔اس لیے زرہ تفصیل سے لکھتے ہیں ۔
واقعی اب حالات بدل چکے ہیں عام بندے کی تو بات ہی نہ کریں بات ہے عاشقوں کی ایک ٹائم تھا کہ عاشقوں کی دال گلتی تھی مگر مہنگائی نے دال مہنگی کردی سو اب نہیں گلتی رہی سہی کسر اب پوری ہو رہی ہے۔ ہر حکومت اپنا منشور پورا ک رہی ہے جیسے پی پی پی بندہ ایک پپگ میں ٹون ہو جاتا ہے ادھر تو تین تین لگ رہے ہیں۔
روٹی کپڑا اور مکان کسی کے پاس نہیں رہے گا ۔
ان حالات میں عاشق کیا کریں کدھر جائیں معشوق کو تو روٹی بھی چاہیے بہترین کپڑا بھی اور عالیشان مکان بھی۔تینوں چیزیں نایاب ہوں گیں تو معشوقیں یہی جواب دیں گیں۔
اب آپ ہی سوچیں اگر معشوق کا ذھن بدل جائے اور وہ عاشق سے پانچ کلو چینی مانگ لے تو عاشق گیا کام سے چینی کی لمبی لمبی قطارں میں کھڑے ہو کر وقت محبت کون برباد کرے گا۔
سردیوں کی سرد راتوں میں معشوق عاشق سے گیس کی فرمائیش کر دے تو عاشق اپنی گرم راتوں کو گیس جیسی چیز پر قربان نہیں کرے گا ایسی عاشقی سے توبہ کر لے تو اچھا ہے۔
آج کی لیلیٰ اگر اپنے مجنوں سے اپنی محبت کا امتحان خود کش جیکٹ پہن کر لے تو مجنوں کا سارا خون تو اسی چکر میں خشک ہو جائے گا اور اگر مجنوں میں خون کی کمی ہو گئی تو لیلیٰ پھر بھی ( لاماں ) طعنہ مارے گی۔
چلو فرض کرو معشوق زرہ شریف طبعیت کی ہو اور ماڑے حالات میں گزارا کرنے والی ہو اسے بھی اس مہنگائی میں کوئی عاشق لفٹ نہ کرواتا ہو اور وہ شادی کے لیے رازی ہو جائے اور شادی بھی ہو موسم گرما میں جولائی اگست کی گرمی میں جب عشق پروان چرھے تو عاشق معشوق پت سے بھر جائیں
مگر شادی کے بعد اللہ بھاگ لا دے اور ایک ( نواں ) نیا رانجھا جنم لے لے تو سمجھو عاشق معشوقی ختم معشوق کہے گی جاو نہ اس کے لیے دودھ لے کر آؤ عاشق کہے گا کام دھندہ ہے نہیں دودھ کہاں سے آئے گا معشوق کہے گی شادی سے پہلے جو دودھ کی نہر کھودی تھی وہاں سے لاو۔
بس ان حالات کے بعد باقی باجی بانو کی پوسٹ پڑھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج کا عربی

کل کا عرب

گھوڑا ۔ ۔ ۔ ۔ تلوار۔ ۔ ۔ ۔ قرآن ۔ ۔ ۔ ۔

آج کا عرب

گاڑی۔ ۔ ۔ ۔ موبائل۔ ۔ ۔ ۔ لیپ ٹاپ

خان VSخان

بھائی کپتانی جا رہی ہے اس لیے غصہ تو آئے گا۔

YouTube Preview Image

ایک خیالی صبح

آج صبح آنکھ کھلی تو ۔۔۔
چڑیا چہچہاء رہی تھیں
دھوپ چمک رہی تھی
صبح اتنی سرد تھی کہ
سورج کی کرنیں بھی سرد لگ رہی تھیں
آج کی صبح اس لیے خاص تھی ۔۔۔
۔
۔۔
آج بم دھماکہ ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا تھا
اخبار میں کوئی ٹینشن والی خبر نظر نہیں آئی
ملک کے سارے سیاستدان جیل جا چکے ہیں
شر پسند امن پسند ہو گئے
حکومت کوئی ارب پتی نہیں عوام چلا رہے ہیں
آٹا اتنا سستا ہو گیا کہ غریب پیٹ بھر کی کھا رھا ہے مگر آٹا ختم نہیں ہو رھا
چینی اتنی وافر مقدار میں موجود ہے کہ لوگوں کی زبانیں شیریں الفاظ سے بھر چکیں
پیٹرول اتنا سستا کہ غریب نےگدھابیچ کر زیرو میٹر ڈاٹسن نکلوا لی ہے
۔
۔
۔
ارے کمبخت اٹھ جا دوپہر ہونے کو آئی ہے۔سارا دن پڑا سوتا رھتا ہے مفت کی روٹیاں توڑ توڑ کر ھڈ حرام ہو گیا ہے تو۔۔۔۔
۔
۔
اب تو خوابوں پر بھی چھاپے پڑنے شروع ہو گئے ہیں۔
اٹھ جا بھائی کامی نہیں تو جوتا میزائل آیا کہ آیا۔۔۔۔۔۔